کشمیری رہنماؤں کے خلاف مقدمات شروع کرنے کے خلاف کراچی میں مظاہرہ

144

کراچی : کشمیری حریت قائدین کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں بھارت کے خلاف نام نہاد غداری کے سنگین مقدمات کی شروعات پر کراچی کی سول سوسائٹی نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری جو آن دنوں اقوام متحدہ میں ہیں سے مطالبہ کیا کہ

بھارت کے اِن غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدامات کو فوری طور پر سیکریٹری جنرل انتونیو گوترس کے ساتھ اٹھائیں اور اقوام عالم کشمیری حریت رہنماؤں کی رہائی کے لیے بھارت پر سفارتی دباؤ ڈالے۔

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے زیراہتمام منعقد اس احتجاجی مظاہرے سے چئیرمین جمشید حسین،  کشمیر چپٹر کے انچارج بشیر  سدوزئی فلسطین فاؤنڈیشن کے جنرل سیکرٹری صابر ابو مریم ،   کشمیر کمیونٹی کے سربراہ آصف سدوزئی سپریم کورٹ بار کے نائب صدر سردار محمد عزیز خان ایڈووکیٹ، سردار ذولفقار علی،  سردار عامر رضا ایڈووکیٹ، ریحانہ عزیز،احسن نواب ، مہناز اختر  اور دیگر نے خطاب کیا۔

مظاہرین یاسین ملک اور دیگر کشمیری رہنماؤں کی تصویروں اور مختلف سلوگن پر مبنی پوسٹر اور جموں کشمیر کے جھنڈے اٹھائے ہم نہیں مانتے ظلم کے یہ ضابطہ،  جنگ رہے گی جنگ رہے گی کشمیر کی آزادی تک،  بھارت کی بربادی تک، کشمیری رہنماؤں کو رہا کرو کے نعرے لگائے اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔مقررین نے کہا کہ

بھارت نے غیر قانونی طور پر 14 ہزار سے زائد سیاسی رہنماءاور کارکنوں کو گفتار کیا ہوا ہے۔ 19 مئی سے یاسین ملک ،شبیر احمد شاہ، مسرت عالم بٹ،نعیم احمد خان، ظفر اکبر بٹ،الطاف شاہ، آفتاب شاہ، نول کشور کپور اور فاروق احمد ڈار عرف بِٹہ کراٹے پیر سیف اللہ، خْرم پرویز سمیت 11 رہنماء پر مقدمہ شروع ہوا ہے۔

مقررین نےبھارتی حکومت کے اس اقدام کی مذمت کی کہ وہ آر ایس ایس کی منفی اور دہشت گرد پالیسی پر عمل پیرا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  5 اگست2019 کو غیر قانونی طور پر کشمیر کے بین الاقوامی تسلیم شدہ حیثیت  کو ختم کیا گیا

اور مقبوضہ کشمیر کو جیل بنا کر ڈیڑھ کروڑ انسانوں کو جیل میں بند کیا ہوا ہے۔ سید شبیر احمد شاہ، یسین ملک، آسیہ اندرابی، ڈاکٹر قاسم فکتو اور ظفر اکبر بٹ انسانی حقوق کے رہنماءاور معروف انسانی حقوق کے علمبردار  خرم پرویز سمیت   سیکڑوں رہنماؤں جو بیمار ہیں جیلوں میں ان کو علاج معالجہ کی سہولت بھی میسر نہیں،

اسی صورت حال میں اشرف صحرائی سمیت درجنوں گرفتار جیلوں میں حراستی قتل کئے جاچکیہے۔ جو جنیوا کنونشن کی کھلے عام خلاف ورزی ہے۔ کراچی کی سول سوسائٹی نے کہا کہ کشمیری اپنی آزادی اور حق خودارادیت کے لئے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں جس کا حق انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں سے حاصل ہے۔ بھارت عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری رہنماؤں پر چلایا جانے والا مقدمہ جھوٹ پر مبنی ہے

دنیا بھر کے انسانی حقوق کے کارکنوں کو یاسین ملک کے اس موقف کی حمایت کرنا چاہیے کہ آزادی مانگنا دہشت گردی نہیں حق ہے جو حق بھگت سنگھ اور گاندھی نے بھی استعمال کیا۔ وہ اگر ہندوستان کے ہیرو ہیں تو یاسین ملک، شبیر شاہارو آسیہ اندرابی سمیت آزادی مانگنے والے رہنماءبھی کشمیریوں کے ہیرو ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے کہا کہ وہ انسانیت کے نام پر بھارتی فوج کے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لئے اپنی آواز بلند کریں اور بھارت کی عدالتوں میں کشمیری حریت رہنماؤں کے خلاف شروع ہونے والے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کو رکوانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔