سندھ مدرستہ الاسلام کے طلبہ کے پراجیکٹس کی نمائیش

169

کراچی: سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے طالبعلموں نے ایکسپو سینٹر میں منعقد دو روزہ ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی شوکیس 2022 میں شرکت کی۔ طالبعلموں نے نمائش میں کمپیوٹر ایپس ـہائی وے، فصلوں کی بیماریوں کا پتہ لگانے اور اپکا کیئر ایپس نمائش کیلے پیش کی۔

ان منصوبوں کو سندھ کی معروف یونیورسٹیز اور آئی ٹی کے ماہرین نے بہت سراہا۔ سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجیب الدین صحرائی میمن  نے کامیابی سے پراجیکٹس کی نگرانی اور حتمی شکل دینے اور اپنے ہونہار طلباء کی رہنمائی کرنے پر فیکلٹی اراکین محمد امین چھجڑو،  صائمہ سپی اور سیدہ وجیہہ نعیم کومبارکبادپیش کی۔ نمائش میں شہباز خان، عائشہ خالد، سیما سکندر، دانیال خان اور جناب حمزہ اصغر نے اپنے پراجیکٹس نمائش کے لیے پیش کیے۔یہ پاکستان کی پہلی ایکسپو تھی۔

جس میں ریسرچ اور کمرشلائزیشن کے کلچر کو آگے بڑھایا گیاجبکہ انڈسٹری اوراکیڈمیا کے تعاون کو آسان بنایا گیا۔ یہ میگا ایونٹ NEDUET اور سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا مشترکہ منصوبہ تھا۔ نمائش میں 32 سے زائد یونیورسٹیوں کی جانب سے کمرشلائزیشن کے لیے تیارکردہ 340 سے زیادہ تحقیقی اور ٹیکنالوجی مصنوعات رکھی گئیں تھی۔ایس ایم آئی یو کے طالبعلوںکا ”Highway App” ایک GPS ایپلی کیشن ہے۔

جس میں ایک بلٹ ان React Native کے لیے ایک کلک پر سیاحوں اور مسافروں کو قریبی مقامات تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔یہ منصوبہ تھا ایس ایم آئی یو کے کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کے طالب علم شہباز خان نے تیار کیا اور سپروائزر محمد امین چھجڑو تھے۔دوسرا منصوبہ ”فصلوں کی بیماریوں کا پتہ لگانے” کا تھا۔ یہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی اینڈرائیڈ ایپلی کیشن تھی، جو پاکستان کی معیشت کو بڑھانے کے لیے پودوں کی صحت کی حالت کے لیے React Native میں بنائی گئی تھی۔

یہ پروجیکٹ کمپیوٹر سائنس کی طالبہ عائشہ خالد نے تیار کیا تھا اور پروجیکٹ کی نگران محترمہ صائمہ سپی تھی۔ایس ایم آئی یو کا تیسرا پروجیکٹ ”ApkaCare” تھا۔ یہ ایک اینڈروئیڈ ایپلی کیشن تھی جس میں مریضوں کی میڈیکل ہسٹری کو ان کی میڈیکل رپورٹس اپ لوڈ کرکے برقرار رکھا جاسکتا ہے تاکہ جب بھی انہیں ضرورت ہو وہ آسانی سے ایسی رپورٹس حاصل کرسکیں۔ یہ پروجیکٹ شعبہ کمپیوٹر سائنس کے طلباء سیما سکندر، دانیال خان اور حمزہ اصغر نے مشترکہ طور پر تیار کیا تھا اور سپروائزر وجیہہ نعیم تھیں۔