چین کا عالمی فوڈ مارکیٹ کے استحکام کیلیے مشترکہ بین الاقوامی اقدامات پر زور 

166

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تنازعات اور تحفظ خوراک سے متعلق امور کے حوالے سے کھلی بحث کا انعقاد کیا۔جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندیچانگ جون نے کہا کہ فوڈ سیکیورٹی ، قومی معیشت اور لوگوں کے معاش سے متعلق اولین ترجیح ہے ، یہ بین الاقوامی برادری کو دیرینہ عرصے سے درپیش ایک بڑا چیلنج بھی ہے۔

کووڈ-۹۱ کی وبا ، شدید موسمی حالات ، معاشی کساد بازاری اور جغرافیائی سیاسی تنازعہ سمیت متعدد عوامل کے باعث اس وقت اناج کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ، رسد اور طلب میں عدم توازن کا مسئلہ مزید نمایاں ہوا ہے ، اور ترقی پذیر ممالک کی اکثریت اس سے شدید طور پر متاثر ہوئی ہے۔ چانگ جون نے اس ضمن میں اپنی تین نکاتی تجاویز پیش کیں جن میں عالمی فوڈ مارکیٹ کے استحکام کے لیے بین الاقوامی برادری کے ہم آہنگ اقدامات ، کمزور ممالک کو درپیش مشکلات دور کرنے کے لیے ہنگامی امداد میں اضافہ اور لازمی تبدیلیوں کے ذریعے عالمی فوڈ سسٹم میں لچک کی مضبوطی شامل ہیں۔

علاوہ ازیں چانگ جون نے مزید کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو تجارتی اور تکنیکی رکاوٹوں کو کم کرنا چاہئے ، ترقی پذیر ممالک کے لیے سرمایہ کاری ، ٹیکنالوجی ، مارکیٹنگ اور صلاحیت کی تعمیر جیسے امور میں مزید مدد فراہم کرنی چاہئے ، اور عالمی سطح پر  اناج کی فراہمی کے لیے ایک موثر ، کھلے اور منصفانہ نظام کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔چانگ جون نے اس بات پر زور دیا کہ آج دنیا کا سب سے بڑا بحران  بالا دستی اور بین الاقوامی انصاف کو درپیش شدید چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کو  برابری ،اشتراکیت ،مشترکہ شراکت اور سود مند تعاون پر مبنی  حقیقی کثیرالجہتی کی اشد ضرورت ہے۔