بھارتی عدالت نے یاسین ملک کو دہشت گردی کا مجرم قرار دے دیا

8310
کراچی: حریت رہنمائوں کیخلاف بھارتی عدالت کے جھوٹے مقدمات کیخلاف ہیومن رائٹس کونسل کے تحت احتجاج کیا جارہاہے

نئی دہلی(صباح نیوز)نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں کئی برسوں سے قید جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو جمعرات کے روز بھارت کی ایک خصوصی عدالت نے بغاوت، وطن دشمنی اور دہشت گردی کا مجرم قرار دیا ہے۔ نئی دہلی میں این آئی اے عدالت 25مئی کو ان کی سزا کا اعلان کرے گی لیکن اس سے قبل استغاثہ سے کہا گیا ہے کہ وہ یاسین ملک کی جائداد اور مالی اثاثوں کا تخمینہ لگائے تاکہ سزا کے ساتھ ساتھ جرمانے کی رقم بھی طے کی جائے جبکہ عدالت نے یاسین ملک سے ان کی جائداد اور اثاثوں سے متعلق بیانِ حلفی بھی طلب کیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق گزشتہ برس ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ہونے والی ایک سماعت کے دوران یاسین ملک نے کسی بھی وکیل کی مدد لینے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ گواہوں پر خود ہی جرح کریں گے۔یاسین ملک پر یہ الزامات بھارت کے نئے دہشت گردی مخالف قانون یوے اے پی اے اور انڈین پینل کوڈ کے تحت عائد کیے گئے ہیں اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جن الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی ہے ان میں زیادہ سے زیادہ یاسین ملک کو عمر قید ہو سکتی ہے۔10 مئی کی سماعت کے دوران انہیں 2017 میں، دہشت گردانہ حملوں کی سازش ، مجرمانہ سازش اور ملک دشمن خیالات کے اظہار جیسے جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا ،58سالہ یاسین ملک پر 1989 میں اس وقت کے انڈین وزیرداخلہ اور کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیہ سید کے اغوا کرنے اور 1990 میں انڈین فضائیہ کے چار افسروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کا بھی الزام ہے، تاہم تازہ فرد جرم میں ان الزامات کا ذکر نہیں ہے۔10 مئی کی سماعت میں یاسین ملک کے علاوہ جن دیگر محبوس حریت پسندوں کے خلاف فردجرم عائد کی گئی تھی ان میں شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان، الطاف شاہ، آفتاب شاہ، نول کشور کپور اور فاروق احمد ڈار عرف بِٹہ کراٹے سمیت گیارہ افراد شامل ہیں۔عدالت نے پاکستان میں مقیم محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین، جو کشمیر میں سرگرم عسکری گروپوں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل اور حزب المجاہدین کے سربراہ ہیں، کے ساتھ ساتھ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو اشتہاری مجرم قرار دیا ہے۔