بد انتظامی کی سونامی اس ملک سے گزری ہے اس کا نتیجہ بھگت رہے ہیں ،وفاقی وزراء 

137

اسلام آباد: وفاقی وزراء نے کہا ہے کہ بدانتظامی کی سونامی اس ملک سے گزری ہے اس کا نتیجہ بھگت رہے ہیں ،  عذاب عمرانی آج بھی جاری ہے ،ملک میں توقع سے زیادہ لوڈ شیڈنگ ہوئی ہے ،وقت پر کوئلہ ، ایل این جی، فرنس آئل نہیں خریدا گیا ،جب حکومت سنبھالی اٹھاون سو میگا واٹ ایندھن نہ ہونے اور بارہ سو میگا واٹ مرمت کی وجہ سے بند تھی ،یکم مئی سے بارہ مئی تک اچھی ریکوری اور کم خسارے والے فیڈرز پر صفر لوڈشیڈنگ کی ،کوئلے کی قیمت میں تین سو فیصد اضافے کی وجہ سے کچھ پلانٹس بند کرنا پڑے ،عذاب عمرانی نے آئی پی پیز کو ادائیگیاں نہیں کی گئی ،کچھ کپیسٹی کو کم کرنا پڑا۔

ان خیالات کااظہار وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر اور وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا عذاب عمرانی نے آئی پی پیز کو ادائیگیاں نہیں کی تھیں ، ادائیگیوں کیلئے کچھ پیداوار میں کمی کی ہے۔ جولائی اور اگست کیلئے تیاری شروع کر دی ہے ۔پیٹرولیم ڈویژن نے گیس کے چار کارگوز کیلئے معاہدے ہو چکے ہیں۔

ملک میں ایندھن کے بحران کا مسئلہ حل کر لیا ہے۔آج سے حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ مرمت کیلئے بند کرنا پڑا ہے۔حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ بند ہونے سے شارٹ فال میں اضافہ ہوا ہے ۔ خرم دستگیر نے کہا الزام تراشی نہیں کروں گا،5 ہزار 820 میگاواٹ ورثے میں ملی ۔ عید کے دنوں میں تعطیلات کا فائدہ ہوا بجلی فراہم کی گئیں ۔پہلے ایک گھنٹہ پھر دو گھنٹے اور آج معمول سے زائد سے لوڈشیڈنگ ہوئی۔بجلی کی تمام پیداواری صلاحیت ہم اپنی گزشتہ حکومت میں کر کے گئے۔ آنے والے دنوں میں مزید پلانٹس سے بجلی پیدا گی۔ یہ وہ تمام پلانٹس ہیں جو ہماری حکومت کارخانے لگا کر گئی،وزیر توانائی نے کہا 2013-14  میں ایکسپورٹ کا سب سے زائد کا ریکارڈ ہوا۔

توانائی کا سیکٹر پیچیدہ ہے وقت پر فیصلے کرنے ہیں ۔ہم فیصلوں کی جانب جا رہے ہیں چند دنوں میں بہتر آئے گی۔ بین الاقوامی طور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ۔میرٹ لسٹ کے مطابق جہاں کم سے کم ایندھن جلے وہ پلانٹس چلانے ہیں ۔اس موقع پر وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا آج پریس کانفرنس دیکھیں جس میں کارکردگی بتائی جارہیں تھیں وہ سابق وزراء  جو وزارتوں پر براجمان رہے ہم سے سوال کر رہے ہیں۔ نومبر کے ماہ میں 4سو گیس کے یونٹ کی ضرورت تھی۔جنوری ،فروری اور مارچ میں بھی 500 یونٹ تک گیس درکار تھی۔تین چار ماہ میں طلب سے نصف گیس خریدی گئی،وزیر مملکت نے کہا ہمیں جتنی ایل این جی درکار ہے وہ تمام خرید چکے ہیں۔ ایل این جی تو خرید لی مگر مہنگی خریدی گئی ہے۔

مہنگی ایل این جی خریدنے کی وجہ 5 سے 7 ڈالر جب ریٹ تھا تو خریداری نہ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا 11سو ارب کے قریب گردشی قرض چھوڈ کر گئے تھے۔ اس وقت 2460 ارب روپے کے قریب گردشی قرض پہنچ گئے۔ پوری وفاقی حکومت 560 ارب میں چلتی ہے۔ جانے والے جناب جاتے جاتے 7 سے 8 سو ارب کا اعلان کر گئے۔ہم وزیراعظم کے پاس گئے کہ یہ سب تو سازش لہرانے والے تو ہمارے کھاتے میں ڈال گئے۔اس سب کا مطلب تھا کہ وفاقی حکومت کا سارا خزانہ خالی کر دیاگیا،وزیر مملکت نے کہا وزیر اعظم شہباز شریف اور بالخصوص نواز شریف نے ہمیں قیمتوں میں اضافے سے روک دیا۔

شہباز شریف اور نواز شریف نے واضح الفاظ میں غریب پر بوجھ سے روکا۔ہمیں حکم دیا گیا ہم حکم کے پابند ہیں غریب پر بوجھ نہیں پڑے گا۔آئی ایم ایف سے معاملات مذاکرات کی شکل میں چل رہے ہیں۔