صدر دھماکے کے ماسٹر مائنڈ کو ایران سے ہدایات مل رہی تھیں، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی

140

 کراچی:ڈی آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) سید خرم نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات ایران سے آپریٹ ہورہے ہیں، صدر دھماکے کے ماسٹر مائنڈ اللہ ڈینو کو ایران سے فون کالز کے ذریعے ہدایت ملیں جس کی ویڈیو موجود ہے۔یہ بات ڈی آئی جی سی ٹی ڈی سید خرم نے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا ہے کہ صدر دھماکے کا گزشتہ روز مارا جانے والا ملزم اللہ ڈنو ایران سے تربیت لے کر آیا تھا، دہشت گردی کے واقعے اور دھماکوں میں مالی معاونت بھارت سے ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات ایران سے آپریٹ ہورہے ہیں، فون کالز ایران سے آرہی تھیں، اللہ ڈنو آئی ای ڈی بم بنانے کا ماہر تھا جسے ایران سے ایس آر اے کے سربراہ اصغر نے ہدایت دیں بم دھماکے سے متعلق حاصل شدہ ویڈیو میں دہشت گرد کو ایران سے حکم لیتے دیکھا جاسکتا ہے۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی، اللہ ڈنو نے ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کیا، اللہ ڈنو دہشت گردی میں ملوث تھا اور موقع پر موجود تھا۔انہوںنے کہا کہ شواہد پر تفتیش چل رہی تھی کہ اسی دوران ایس آر اے نے دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کی، آپریشن میں 12 مئی سے اب تک مل کر ادارے کام کررہے تھے، 18 مئی کو سی ٹی ڈی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہمراہ کارروائی کی، 12 مئی کو دھماکے میں ایک شہری جاں بحق ہوا اور کئی زخمی ہوئے۔