بلدیاتی انتخابات: سکھر میںپی ٹی آئی اورجماعت اسلامی کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد

149

 سکھر:26 جون کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لیے ریٹرنگ افسران کی جانب سے اسکرونٹی جاری ہے۔اسکرونٹی کے دوران پاکستان تحریک انصاف اورجماعت اسلامی کے متعدد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے ہیں۔کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر پی ٹی آئی اورجماعت اسلامی کے عہدیداران نے سکھر پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس میں ریٹرنگ افسران پر جانب داری کا الزام عائد کردیا۔

دونوں جماعتوں کے رہنمائوں نے اس بابت کہاکہ ریٹرنگ افسران حکومتی جماعت کی ایما پر اپوزیشن امیدواروں کے ساتھ ناروا سلوک اختیارکررہے ہیں۔ضلعی صدرپی ٹی آئی ایڈوکیٹ ظہیربابرنے کہا کہ معمولی غلطیوں کوبھی مسئلہ بنا کرہمارے امیداروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومتی جماعت نے ڈی آراوزکو ہدایت کی ہے

کہ سابق میئر، ڈپٹی میئرزیرک شاہ کے مخالفین کوتنگ کیا جائے۔پریس کانفرنس میں انہوں نے اسکرونٹی کے دوران حکومتی جماعت کے امیدواروں کو وی آئی پی پروٹوکول دینے کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے امیدواروں کوگرمی میں کئی گھنٹے باہرکھڑا کرکے توہین کی جارہی ہے۔ضلعی صدرپی ٹی آئی نے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی اپنی ہاردیکھ کرگھبرا گئی ہے، ہمارے امیدواروں اوران کے تجویزکنندگان کوہراساں کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ

الیکشن کمیشن پی پی پی کی بی ٹیم نہ بنے، ورنہ شدید عوامی ردعمل سامنے آئے گا۔ایڈووکیٹ ظہیر بابرنے الیکشن کمیشن حکام سے اپیل کی کہ وہ اس جانب داری کا نوٹس لیں اوراپوزیشن جماعتوں کوانصاف فراہم کریں، ہم پرامن الیکشن لڑنا چاہتے ہیں، بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کے ساتھ مقامی سطح پر اتحاد کیا ہے۔

اس موقع پر پی ٹی آئی کے علاقائی صدر عزیز ابڑو نے کہا کہ پری پول دھاندلی کا افتتاح ہوچکا ہے، الیکشن کمیشن کونوٹس لینے کی ضرورت ہے، ہمارے لوگوں کو ہراساں کرنے کے شواہد موجود ہیں، اب آپ کا مقابلہ 2022 کی پی ٹی آئی سیہے۔ضلعی امیرجماعت اسلامی ایڈووکیٹ سلطان لاشاری نے بھی پریس بریفنگ میں کہا کہ

انتخابات کے آغاز سے من پسند آراوزتعینات کرکے دھاندلی شروع کردی گئی ہے،  ہمارے امیدواروں کے تجویزکنندہ کوغائب کیا جارہا ہے، اسکرونٹی کے عمل کودرست طریقے سے نہیں چلایا جارہا۔انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن اورپولیس ان معاملات کودیکھے ورنہ اشتعال انگیزی بڑھے گی۔