بدین ،بہن کابھائیوں کیخلاف احتجاج ،گھر پر حملہ و تشدد کا الزام

128

بدین(نمائندہ جسارت)بہن کا بھائیوں کے خلاف احتجاج گھر پر حملہ اور چھوٹی بہن پر تشدد کر کے زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کا الزام ۔ بدین شہر کی رہائشی نمیرہ زوجہ اسلم چنا نے بدین پریس کلب کے سامنے اپنے شوہر اسلم چنا اور بچوں کے ہمراہ اپنے بھائیوں کے خلاف احتجاج کیا اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے بھائیوں ولید رضا مغل، علی رضا ،حسن رضا اورمیر علی مغل پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا گزشتہ رات نشے میں دھت ہو کر میرے بھائی گھر میں داخل ہوئے مجھ پر میرے شوہر بچوں اور چھوٹی بہن پر تشدد کیا اور میری چھوٹی بہن پر وحشیانہ تشدد کرتے ہوئے اس کو زبردستی اپنے ساتھ اغوا کر کے لے گئے اور کینٹ روڈ بدین محلہ صدیق کمبہار میں چھوٹی بہن کو حبس بیجا میں رکھا ہوا ہے اور اہل محلہ نے بھی ہمیں اطلاع دی ہے کہ یہ لوگ رات بھر چھوٹی بہن نمیرہ پر تشدد کرتے رہے اور تشدد کا شکار نمیرہ کی چیخ و پکار کی آوازیں بھی سنیں گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل 30 مارچ کو ہماری والدہ نے ایس ایس پی کو بھی اپنے ان مذکوہ بیٹوں اور میرے بھائیوں کے خلاف درخواست دی جس پر پولیس کی ہدایت پر میری والدہ شکیلہ مغل اور چھوٹی بہن نمیرہ کو ان کی مرضی پر ہمارے گھر پر رہنے کی اجازت دی تھی جس کے بعد میری چھوٹی بہن ہمارے پاس رہتی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بھائیوں کی زیادتیاں کرنے کی وجہ سے چھوٹی بہن حراساں کا شکار ہے اور ان کے خوف سے گزشتہ 6 ماہ سے اسکول بھی نہیں جا رہی۔نمیرہ نے بتایا کہ ہم نے گھر پر حملہ تشدد اور بہن کے مبینہ اغوا کی تحریری درخواست ایس ایس پی آفس بدین مں دی ہے جس پر ایس ایس پی آفس شکایتی سیل نے بدین پولیس کو کارروائی کے لیے کہا ہے۔انہوں نے چیف جسٹس سندھ ،آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی بدین کے علاوہ انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں سے بھی چھوٹی بہن کی بازیابی اور تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔