تیارگاڑیوں کی درآمد پر 2سال کیلیے پابندی لگائی جائے ، اسماعیل ستار

86

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان ( ای ایف پی ) نے ملک کو معاشی دلدل سے نکالنے کے لیے جامع حل پیش کرتے ہوئے حکومت کو آگاہ کی ہے کہ ادائیگیوں کے بگڑتے توازن، بلند افراط زر، غیر ملکی ذخائر میں کمی اور سیاسی غیر یقینی نے تشویشناک معاشی صورتحال کو جنم دیا ہے اور موجودہ معاشی حالات کی وجہ سے پاکستان ایک قومی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے لہٰذا ان بحرانوں پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات اور سخت پالیسیوں کا نفاذ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ایک بیان میں صدر ای ایف پی اسماعیل ستار نے کہا کہ پاکستان کو2003 سے مسلسل تجارتی خسارے کا سامنا ہے جو کہ تباہ کن ہے۔ سابقہ حکومت کے دور میں پاکستان نے کورونا وبائی مرض کے اثرات کے بعد عالمی سطح پر بحال ہونے والی معیشتوں کی وجہ سے برآمدات میں اضافہ دیکھا۔ مزید برآں پاکستانی کرنسی کے کمزور ہونے کی وجہ سے پاکستانی برآمدات نے بین الاقوامی مارکیٹ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تاہم روس، یوکرین جنگ جیسے حالیہ واقعات کی وجہ سے عالمی سطح پر اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر سے توانائی کی درآمد کے لیے بڑی رقم ادا کی جس سے اس پر بہت زیادہ دباؤ پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت توانائی کا درآمدی بل گزشتہ سال کے 7.5 ارب ڈالر کے مقابلے میں دوگنا ہو کر 15 ارب ڈالر ہو گیا ہے اور پاکستان تیزی کے ساتھ ایک بڑے معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایسی معاشی غیر یقینی صورتحال اور بگڑتی ہوئی بی او پی پوزیشن کے نتیجے میں ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان اس آنے والے بحران کو کم کرنے کے لیے کچھ قابل عمل اقدامات تجویز کیے ہیں۔ان اقدامات کو عارضی بنیادوں پر لاگو کیا جا سکتا ہے جب تک کہ ادائیگیوں کے بگڑتے توازن کی صورتحال بہتر نہ ہو جائے۔اسماعیل ستار نے پاکستان کے تجارتی خسارے کے فرق کو کم کرنے کے لیے حکومت کو تجویزدی کہ لگژری، غیر ضروری اشیاء کی درآمد پرکم از کم 2 سال کے لیے فوری پابندی یا بھاری ڈیوٹی عائد کی جائے۔ مکمل طور پر تیار شدہ گاڑیوں کی درآمد پرکم از کم 2 سال کے لیے فوری پابندی یا بھاری ڈیوٹی عائد کی جائے۔ موبائل فون کی درآمد پر کم از کم 18 ماہ کے لیے فوری پابندی یا بھاری ڈیوٹی لگائی جائے۔ پاکستانی آٹو مینوفیکچررز کو ریگولیٹ کرنے کی پالیسیاں وضع کی جائیں اور درآمد کے لیے سی بی یو کی اماؤنٹ پر کوٹہ نیز1300 سی سی سے اوپر کی کاروں کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے۔صدر ای ایف پی نے یہ تجویز بھی دی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور پٹرولیم کی مقدار پر ٹارگٹڈ سبسڈی جو ایک فرد کم آمدنی والے شہریوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ تفریحی سفر پر کم از کم 18 ماہ کے لیے فوری پابندی لگائی جائے۔اس کے علاوہ ایک جامع الیکٹرک آٹوموبائل پالیسی وضع کی جائے۔