علماء کرام منبرومحراب سے باہمی احترام جیو اور جینے دو کا پیغام عام کریں،لیاقت بلوچ

232

لاہور(نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ علما کرام کو منبر و محراب سے عامۃ الناس میں اخلاقی بالادستی، باہم احترام، برداشت اور جیو و جینے دو کے پیغام کو عام کرنا ہوگا۔ عوام کو اِس امر کے لیے تیار کیا جائے کہ ملک و ملت کے بحرانوں کا حل نظامِ مصطفیؐ میں ہے۔ امانت، دیانت اور اہلیت پر فیصلہ ہی عوام کا کارگر ہتھیار ہے۔ ماضی میں اکابر علما کا 22 نکات پر اتفاق قومی اثاثہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت اتحاد العلما پاکستان کے صدر مولانا عبدالمالک، مولانا محبوب الرحمن اور دیگر علما سے ملاقات اور گفتگو کرتے ہوئے کیا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ دعوتِ دین، غلبہ دین اور معاشرے میں پھیلے فساد کے پُرفتن دور میں علما کو اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اختیار کرنا ہوگا اور اِسی پر ہی کاربند رہا جائے۔ علامہ اقبال اور بانی پاکستان قائد اعظم نے اسلامی نظریہ اور اصولوں پر قائم رہتے ہوئے خودی، خودداری اور آزاد و باوقار ملت بننے کا راستہ دکھایا ہے۔ دو رنگی، منافقت اور جھوٹ و فریب، انفرادی اور اجتماعی زندگی میں تباہی پیدا کرتی ہے۔جماعت اسلامی شمالی پنجاب کے قائدین محمد اقبال خان، رُسل بابر اور نصراللہ رندھاوا سے ملاقات میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ سیاسی فساد، انتشار اور انتہا پسندی کی وجہ سے قومی معیشت ڈوب رہی ہے۔ عام آدمی لاوارث ہوگیا ہے، قومی قیادت باہم دست و گریبان ہے۔ قرضوں، کرپشن، سودی نظام کی تباہ کاریوں نے ہر گھر کو متاثر کردیا ہے۔ مخلوط حکومت کی ذمے داری ہے کہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کیا جائے۔ شہباز شریف حکومت کے پاس مہلت عمل لامحدود نہیں، کسی وقت بھی مہلت عمل ختم ہوسکتی ہے۔ شہباز شریف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن اور اتحادی یہ چیلنج قبول کریں۔ قومی ترجیحات، داخلہ، خارجہ پالیسی اور اقتصادی بحران سے نجات کے لیے قومی ڈائیلاگ کا راستہ ہموار کریں۔ قومی متفقہ پالیسی بنائی جائے۔ انتخابی اصلاحات، متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابی عمل ہی حکومت کی ترجیح بنائی جائے۔ قبل از وقت انتخابات کے علاوہ ہر راستہ خرابیوں میں اضافہ کرے گا۔ جماعت اسلامی قومی سیاست میں اخلاقیات، برداشت اور باہمی احترام کے فروغ اور انتخابی اصلاحات و متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات کی جدوجہد جاری رکھے گی۔