ارسا صوبوں میں نفرت پیدا کررہا ہے،وزیراعلیٰ سندھ

220
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پانی کی قلت پر میں وزیر اعظم شہباز شریف کے سامنے یہ بات لازمی رکھوں گا کہ صوبوں کے درمیان وفاق کا ادارہ ’ارسا‘ تفریق پیدا کر رہا ہے اور یہ وفاق کی ذمے داری ہے کہ وہ اس ادارے کو سنبھالے۔وزیر اعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم وفاق سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ اپریل میں 22 فیصد پانی کی قلت ہوگی تو ہم نے اس حساب سے اپنی حکمت عملی تشکیل دی، مگر مئی کی شروعات میں پانی کی قلت 51 فیصد ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ارسا کے سامنے یہ اعتراض رکھا ہے کہ خریف کے موسم میں پانی ذخیرہ نہ کیا جائے اور کسی صورت قلت پیدا نہیں کی جائے۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ دشمن ممالک دہشت گردوں کی فنڈنگ کرتے ہیں، دہشت گرد کی زبان نہ کوئی مذہب ہے، انتظامیہ کو تاجروں سے بات کر کے آگاہی دینے کا کہا ہے۔امن و امان کے لیے کچھ تکلیفیں برداشت کرنی ہوں گی، انٹیلی جنس کی ناکامی کے معاملے پر رینجرز و دیگر حکام سے بات ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حملے کرنے والے وحشی ہیں، انکا کوئی مذہب نہیں، پورے ملک دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیںجبکہ سندھ میں نسبتاً کم ہیں، لیکن یہ کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔مراد علی شاہ نے 4,250 غیر فعال اسکولوں کو فعال کرنے کے لیے اساتذہ کی بھرتی کی پالیسی 2021 پر نظر ثانی کرنے کا اعلان کیا ہے اور پاسنگ مارکس کا معیار مرد مسلم کے لیے 55 فیصد اور خواتین اور نابالغ کے لیے 50 فیصد سے کم کرکے اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے تمام امیدواروں کے لیے 40 فیصد نمبرزکا حصول مقررکر دیا ہے۔محکمہ تعلیم کی بھرتی کی پالیسی جو یونین کونسل کی سطح پر مبنی تھی، اسے تعلقہ کی سطح پرتوسیع دے دی گئی ہے اوران تمام امیدواروں کو بھرتی کیا جائے گا جنہوں نے ٹیسٹ میں کم از کم 40 فیصد نمبر حاصل کیے ہوں گیاور متعلقہ تعلقہ میں اسامیاں دستیاب ہونگی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اساتذہ، پی ایس ٹی اور جے ای ایس ٹی کی بھرتی کا بنیادی مقصد سکولوں کو اساتذہ کی فراہمی اور تعلیمی نظام کو زوال پذیر ہونے سے بچانا ہے کیونکہ اساتذہ کی شدید کمی کے باعث ہزاروں قابل عمل سکول غیر فعال ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “اس وقت اساتذہ کی 54,000 اسامیاں جن میں 36,000 پرائمری اسکول ٹیچرز اور 18,000 جونیئر ایلیمنٹری اسکول ٹیچرز شامل ہیں سندھ بھر میں خالی پڑی ہیں۔