اتحادی حکومت کا مستقبل؟

260

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور تیرہ جماعتی اتحادی حکومت کے قیام کو ایک ماہ سے زائد ہونے کو آئے ہیں لیکن سیاسی عدم استحکام بڑھتا چلا جارہا ہے۔ سابق حکومت ایک تجربہ تھا جس کی ناکامی آسمان پر لکھی ہوئی حقیقت کی طرح ہویدا تھی۔ اسی وجہ سے پارلیمان میں موجود اور پارلیمان سے باہر موجود تمام سیاسی طاقت کے مراکز میں سابق حکومت کے خاتمے پر اتفاق ہوگیا تھا۔ لیکن ایک ماہ میں ہی موجودہ حکومت کے مستقبل کے بارے میں سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف کابینہ میں اپنی جماعت کے ارکان کے ہمراہ دورہ لندن سے واپس آگئے ہیں جہاں میاں نواز شریف نے انہیں طلب کیا تھا۔ میاں شہباز شریف نے مشاورت کے لیے اپنی اتحادی جماعتوں کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے پیپلز پارٹی کے قائد اور سابق صدر آصف علی زرداری، ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے الگ الگ تبادلہ خیال کیا ہے۔ جس میں سیاسی و معاشی صورتِ حال زیر بحث آئی ہے۔ حکومت کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ آئی ایم ایف کے دبائو کے مطابق پٹرول، گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ کرنا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر اپنی نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے نئے قرضوں کے علاوہ حکومت کے معاشی ماہرین کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ شہباز شریف کی کابینہ کے وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے عہدیداروں سے تمام شرائط ماننے کی یقین دہانی کراکے آچکے ہیں۔ لیکن ان معاہدوں کے نتیجے میں عوام پر پڑنے والے بوجھ کو اٹھانے کے لیے حکومت کی اتحادی جماعتوں کے قائدین تیار نہیں ہیں۔ لندن میں اس حوالے سے کچھ فیصلے ہوئے ہیں اس بات کا اشارہ دیا جارہا ہے کہ سابق حکومت کی نااہلی اور ناکامی کا بوجھ اٹھانے کے بجائے نئے انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان کردیا جائے۔ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد ایم کیو ایم کی قیادت نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی جماعت کے موقف کو ظاہر کردیا اور کہا ہے کہ ایم کیو ایم فوری انتخابات کی حمایت اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کی مخالفت کرتی ہے۔ انتخابات کے حوالے سے اتحادی حکومت کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت فوری انتخابات کے حق میں نہیں ہے اور سابق صدر آصف زرداری انتخابی اصلاحات اور نیب کے خاتمے سے قبل انتخابات کو مسترد کرچکے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا موقف ہے کہ اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے سخت فیصلے ضروری ہیں، جس کی وجہ سے مہنگائی میں جو پہلے ہی ناقابل برداشت ہے مزید اضافہ ہوگا۔ اتحادی حکومت کی سب سے بڑی جماعت یہ چاہتی ہے کہ یہ بوجھ تمام جماعتیں مل کر اٹھائیں یا نئے انتخابات کا اعلان کرکے نگراں حکومت پر اس کا بوجھ ڈال دیا جائے جس کے لیے سیاسی مقبولیت، عدم مقبولیت کا کوئی دبائو نہیں ہوتا۔ اسی حوالے سے وزیراعظم میاں شہباز شریف اپنی اتحادی جماعتوں سے مشاورت کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے کابینہ کا اجلاس بھی طلب کرلیا ہے جس میں سیاسی اور اقتصادی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے گا۔ وزیراعظم اپنی اتحادی جماعتوں کی قیادت کے ساتھ مشاورت کے بعد اپنے فیصلوں کا اعلان کریں گے۔ پٹرول کی قیمت میں اضافہ ترجیحی مسئلہ بن گیا ہے، لیکن مکمل معاشی تباہ حالی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ سابق حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اور اس پر اتفاق رائے کا سبب بہترین طرزِ حکمرانی اور مہنگائی کا طوفان تھا۔ اس لیے خیال یہ تھا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کا تجربہ رکھتی ہیں۔ ان کے پاس عالمی اداروں کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات سے آگہی ہے۔ اس لیے ان کے پاس ملک کو اقتصادی بحران اور دیوالیہ ہونے سے بچانے کا منصوبہ موجود ہوگا۔ لیکن حسب روایت سابق حکومت کو بحران کا ذمے دار قرار دینے سے کام نہیں چلے گا۔ سابق حکومتوں کی ناکارکردگی پر تو اتفاق ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے موجودہ حکمرانوں کے پاس کیا حکمت عملی ہے۔ یہ قوم کا المیہ ہے کہ ان ہی جماعتوں اور ان کی قیادت کے پاس ہر پھر کر حکومت رہے گی۔ کیا یہ جماعتیں مل کر آئی ایم ایف کے شکنجے سے ملک کو نکالنے کے لیے قلیل المیعاد اور طویل المیعاد منصوبہ نہیں بناسکتیں۔ میاں شہباز شریف ’’میثاق معیشت‘‘ کا تصور دے چکے ہیں۔ کیا میثاق معیشت کا مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کے مالی مفادات کا تحفظ کرو۔ یہ حقیقت بھی قوم کے سامنے موجود ہے کہ ملک کا خزانہ خالی ہوگیا ہے۔ البتہ ملک پر حکمرانی کرنے والی جماعتوں کے قیادت مالا مال ہے۔ یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ نواز لیگ یہ کہتی تھی کہ عمران خان کے پاس حالات کو سدھارنے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں۔ مگر بدقسمتی سے اب نواز لیگ کے بارے میں بھی یہی حقیقت سامنے آرہی ہے کہ اس کے پاس بھی ملک و قوم کو مشکل سے نکالنے کے لیے کوئی منصوبہ موجود نہیں۔ اس تناظر میں یہ کہنا غلط نہیں کہ تحریک انصاف اور نواز لیگ دونوں ہی نااہلوں کی جماعتیں ہیں۔