ڈالر کی اونچی اُڑان

226

حکومت کے لیے اولین ترجیح عوام کو ریلیف دینا ہے لیکن اسے معاشی اور اقتصادی اداروں پر گرفت حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے جارہے ہیں جس کی وجہ سے عوام پر دبائو بڑھتا جارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں تسلسل سے کمی اور درآمدی بل میں ریکارڈ اضافے جیسے عوامل کے باعث ڈالر کی طلب اور رسد کا توازن بگڑ گیا ہے جو اس کی قدر میں تیزی سے اضافے کا باعث بن گیا ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈالر کے انٹر بینک ریٹ 194 روپے اور کھلی منڈی میں 196 روپے سے بھی تجاوز کرگیا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی خبر اور آئی ایم ایف پروگرام کی عدم بحالی کی خبروں نے بھی روپے کو بے قدر اور ڈالر کو مضبوط سے مضبوط کردیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نے زرمبادلہ کی منڈی سے تعلق رکھنے والے اداروں کے نمائندوں کے اجلاس سے بھی بات کی ہے۔ غیر یقینی صورت حال کے اثرات اسٹاک ایکسچینج پر بھی پڑ رہے ہیں اور وہ مندی کا شکار ہے۔ کیوں کہ ہماری معیشت کا کل انحصار درآمدات پر ہے، قرضوں اور درآمدی معیشت کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر قومی سلامتی کا مسئلہ بھی اختیار کرگئے ہیں۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے بیرونی قرضوں کی مقدار فوراً ہی بڑھ جاتی ہے، ہر درآمدی شے بالخصوص پٹرول اور بجلی کے نرخ پر اثر پڑتا ہے، اس وجہ سے ڈالر کے نرخ کو قابو میں رکھنا قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ ہمیں تو گندم سمیت غذائی اجناس بھی درآمد کرنی ہوتی ہیں۔ وزیراعظم کے اجلاس کے باوجود ڈالر کی اُڑان پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ اس صورت حال سے مستقبل کے ہولناک حالات کا تصور کیا جاسکتا ہے جو آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدوں پر عمل کے بعد ہوں گے۔