منحرف ارکان تاحیات نااہلی سے بچ گئے، ووٹ شمار نہیں کیا جائے گا، سپریم کورٹ

127

اسلام آباد: منحرف ارکان تاحیات نااہلی سے بچ گئے،منحرف ارکان کا ووٹ شمار نہیں کیا جاسکتا،تحریک انصاف کی درخواستیں  خارج کردی گئیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس عمرعطابندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے۔

سپریم کورٹ کے ججز کی جانب سے جاری ہونے والا فیصلہ تین دو کی اکثریت سے ہے، جسٹس مندوخیل اورمظہر عالم میاں خیل نے اختلافی نوٹ لکھا اور منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کی تجویز دی جبکہ بقیہ تین ججز نے اس پر اتفاق کیا۔

آئین کے آرٹیکل 63اے کے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہو گا۔سپریم کورٹ کی طرف سے فیصلہ 3-2 کے تناسب سے سنایا گیا، پانچ رکنی بنچ میں سے جسٹس مندو خیل اور جسٹس مظہر عالم نے اختلاف کیا۔سپریم کورٹ نے منحرف اراکین اسمبلی سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ آرٹیکل 63 اے کو اکیلے نہیں پڑھا جا سکتا۔

صدارتی ریفرنس پرچیف جسٹس عمر عطابندیال ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجازالاحسن نے اکثریتی رائے دے دی۔چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے اور آرٹیکل 17 سیاسی جماعتوں کے حقوق کے تحفظ کےلئے ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ سیاسی جماعتوں میں استحکام لازم ہے،انحراف کینسر ہے، سیاسی جماعتوں میں عدم استحکام پارلیمانی نظام جمہوریت کے خلاف ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ انحراف کرنا سیاسی جماعتوں کو غیر مستحکم اور پارلیمانی نظام کو ڈی ریل کرسکتا ہے۔چیف جسٹس عمر عطابندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر نے کہا کہ منحرف رکن کا دیا گیا ووٹ شمار نہیں کیا جائے جبکہ جسٹس مظہرعالم میاں خیل اور جسٹس مندوخیل نے اختلاف کیا۔

اس سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی تو آغاز میں اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے سوشل میڈیا کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ عدم حاضری پر سوشل میڈیا پر میرے خلاف باتیں ہورہی ہیں۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سوشل میڈیا نہ دیکھا کریں۔دوران سماعت اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیا آرٹیکل ایک مکمل کوڈ ہے، کیا آرٹیکل 63اے میں مزید کچھ شامل کرنے کی ضرورت ہے، کیا پارٹی پالیسی سے انحراف کر کے ووٹ شمار ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت ایڈوائزری اختیار میں صدارتی ریفرنس کا جائزہ لے رہی ہے، صدارتی ریفرنس اور قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کروں گا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یا عوامی دلچسپی کے معاملے پر رائے مانگی جاسکتی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آرٹیکل 186میں پوچھا گیا سوال حکومت کی تشکیل سے متعلق نہیں ہے۔

چیف جسٹس کے استفسار پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی میں ایسے واقعات پر صدر مملکت نے ریفرنس نہیں بھیجا، عدالت صدارتی ریفرنس کو ماضی کے پس منظر میں بھی دیکھے۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ صدر مملکت کو صدارتی ریفرنس کے لیے اٹارنی جنرل سے قانونی رائے لینے کی ضرورت نہیں ہے، آرٹیکل 186کے مطابق صدر مملکت قانونی سوال پر ریفرنس بھیج سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کیا آپ صدر مملکت کے ریفرنس سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں جس پر اٹانی جنرل نے کہا کہ مجھے حکومت کی طرف کوئی ہدایات نہیں ملی، اپوزیشن اتحاد اب حکومت میں ہے، اپوزیشن کے حکومت میں آنے کے بعد بھی صدارتی ریفرنس پر وہی مقف ہوگا، جو پہلے تھا، میں بطور اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کروں گا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ریفرنس ناقابل سماعت ہے؟ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ ریفرنس کو جواب کے بغیر واپس کردیا جائے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سابق اٹارنی جنرل نے ریفرنس کو قابل سماعت قرار دیا، بطور اٹارنی جنرل آپ اپنا مقف ظاہر کرسکتے ہیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس، سابق وزیراعظم کی تجویز پر فائل کیا گیا تھا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا یہ کیا حکومت کا مقف ہے، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ میرا مقف بطور اٹارنی جنرل ہے۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سابق حکومت کا مقف پیش کرنے کے لیے ان کے وکلا موجود ہیں، صدر مملکت کو قانونی ماہرین سے رائے لے کر ریفرنس فائل کرنا چاہیے تھا، قانونی ماہرین کی رائے مختلف ہوتی تو صدر مملکت ریفرنس بھیج سکتے تھے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صدارتی ریفرنس پر کافی سماعتیں ہو چکی ہیں، آرٹیکل 17 سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 63اے سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 63اے سیاسی جماعت کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63اے کی خلاف ورزی پر 2فریقین سامنے آئے ہیں، ان میں ایک وہ ہیں جو انحراف کرتے ہیں، دوسری فریق سیاسی جماعت ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مارچ میں صدارتی ریفرنس آیا، تکنیکی معاملات پر زور نہ ڈالیں، صدارتی ریفرنس کے قابل سماعت ہونے سے معاملہ کافی آگے نکل چکا ہے، ڈیڑھ ماہ سے صدارتی ریفرنس کو سن رہے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ تکنیکی نہیں آئینی معاملہ ہے، عدالتی آبزرویشنز سے اتفاق نہیں کرتا لیکن سر تسلیم خم کرتا ہوں، لیکن عدالت نے رکن اور سیاسی جماعت کے حقوق کو بھی دیکھنا ہے۔دلائل جاری رکھتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ انحراف پر رکن کے خلاف کارروائی کا طریقہ کار آرٹیکل 63اے میں موجود ہے، آرٹیکل 63اے کے تحت انحراف پر اپیلیں عدالت عظمی میں آئیں گی، صدر مملکت کے ریفرنس پر رائے دینے سے اپیلوں کی کارروائی پر اثر پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 اے کے انحراف سے رکن خود بخود ڈی سیٹ نہیں ہو جاتا، انحراف کرنے سے رکن سے شوکاز نوٹس کے ذریعے وضاحت مانگی طلب کی جاتی ہے۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ سربراہ وضاحت سے مطمئن نہ ہو تو ریفرنس بھیج سکتا ہے۔اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا صدر مملکت نے پارلیمنٹ میں اپنی سالانہ تقریر میں یہ معاملہ کبھی اٹھایا، کیا آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے کبھی کسی جماعت نے کوئی اقدام اٹھایا؟ کیا کسی سیاسی جماعت نے 63 اے کی تشریح یا ترمیم کے لیے کوئی اقدام اٹھایا؟عدالتی استفسار پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سینیٹ میں ناکامی کے بعد سابق وزیر اعظم نے اراکین کو کوئی ہدایات جاری نہیں کیں، عمران خان نے اراکین سے اعتماد کا ووٹ لینے سے پہلے بیان جاری کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا کہ اراکین اپنے ضمیر کے مطابق مجھے اعتماد کا ووٹ دینے کا فیصلہ کریں، انہوں نے کہا کہ مجھے ووٹ نہیں دیں گے تو گھر چلا جاﺅں گا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ پارٹی سربراہ کی مرضی ہے وہ ہدایات جاری کریں یا نہ کریں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کے وقت بھی وہی وزیر اعظم تھے، سابق وزیر اعظم نے اپنے پہلے مقف سے قلابازی لی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا وزیر اعظم اپنی ہدایات میں تبدیلی نہیں کر سکتا، کیا وزیر اعظم کے لیے اپنی ہدایات میں تبدیلی کی ممانعت ہے؟عدالتی استفسار پر جواب دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم آئین کے تحفظ کا حلف لیتا ہے، وزیر اعظم اپنی بات سے پھر نہیں سکتا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا انحراف کرنا بددیانتی نہیں ہے، کیا انحراف کرنا امانت میں خیانت نہیں ہوگا، کیا انحراف پر ڈی سیٹ ہونے کے بعد آرٹیکل 62 (1)ایف کا اطلاق ہو سکتا ہے، کیا انحراف کرکے ڈالا گیا ووٹ شمار ہوگا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ خیانت کی ایک خوفناک سزا ہے، ان سوالات کے براہ راست جواب دیں، جس پر اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے بینچ کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بالکل خیانت بڑا جرم ہے۔لارجر بینج کے رکن جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کی ایک خیانت اپنے ضمیر کی بھی ہوتی ہے، کیا ضمیر سے خیانت کرکے کسی کی مرضی سے ووٹ ڈالا جا سکتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ رضا ربانی یا کسی کے بیان پر عدالت انحصار نہیں کر سکتی، شاید عدالت کے سوال کا جواب نہ دے پاں لیکن اپنی گزارشات تو دے سکتا ہوں، رکن عوام سے 5سال کے لیے ووٹ لے کر آتا ہے، وزیر اعظم ارکان کے ووٹ سے منتخب ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عوام کے سامنے اعلان جوابدہ ہیں، اگر کوئی وزیر اعظم عوام سے کیے وعدہ پورے نہ کرے تو کیا ہوگا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اس صورت میں ارکان استعفے دے دیں، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عوامی وعدے پورے نہ کرنے پر ارکان وزیر اعظم کو تبدیل کر سکتے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر قانون میں سات سال سزا لکھی ہے تو سزائے مقف نہیں دی جاسکتی۔جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا منحرف کی سزا کے لیے قانون نہیں بنایا جاسکتا جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ قانون بنایا جاسکتا ہے لیکن پارلیمنٹ نے قانون نہیں بنایا ہے۔جسٹس منیب اختر اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کس بنیاد پر کہتے ہیں آرٹیکل 63اے کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا ؟ اٹارنی جنرل نے پانچ رکنی بینچ کو بتایا کہ جب تک آئین میں ترمیم نہیں کی جائے آرٹیکل 62/63کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ابھی تک آپ کہہ رہے تھے قانون بن سکتا ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت آئین میں ترمیم نہیں کرسکتی، آرٹیکل 62، 63اور 63اے میں ترمیم پارلیمنٹ ہی کر سکتی ہے، آئین ایک پینلٹی فراہم کرتا ہے، اس میں ترمیم کے بغیر اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔