توانائی بحران کے خاتمہ کیلئے نئے ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہے، راجہ وسیم حسن

138

لاہور:تاجر رہنما وصدرلوہا مارکیٹ شہید گنج لاہور راجہ وسیم حسن نے کہا ہے کہ توانائی بحران کے خاتمہ کے لئے نئے ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہے پاور پلانٹ سے حاصل شدہ مہنگی تھرمل بجلی کی بجائے ہائیڈل بجلی پر انحصار کیا جائے ،ڈیموں کی تعمیر سے وافر سستی ہائیڈل بجلی کی فراہمی سے توانائی بحران کا خاتمہ ہوگا اور سستی ہائیڈل بجلی کی فراہمی سے صنعتی شعبہ کا پہیہ مسلسل رواں دواں رہنے سے صنعتیں ترقی کرینگی ۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں نئے ڈیموں کی تعمیر سے ہائیڈل بجلی کی پیداوار میں اضافہ کے ساتھ ساتھ مستقبل میں انڈسٹریزکو مناسب نرخوں میںبجلی کی فراہمی ممکن ہوسکے گی، ان خیالات کا اظہار انہوںنے شہید گنج کے تاجروںکے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔راجہ وسیم حسن نے کہاکہ

ملک میں صنعتی ترقی اور لوڈ شیڈنگ سے نجات کیلئے بجلی کی منصوبے جلد از جلد مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈیموں کی تعمیر سستی بجلی اور توانائی بحران کا آسان ذریعہ ہے ، آب پاشی کے بہتر نظام اور ڈیموں کی تعمیر سے ہی ملک لوڈشیڈنگ اور زرعی پیداوار کے بحران سے نجات پا سکتا ہے۔

پچھلے 50سالوں کے دوران ہائیڈل بجلی کی پیداوار کا منصوبہ بندی نہ ہونا ملک کی بد قسمتی رہی ہے۔ ملک میں پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی بنانے کیلئے ڈیم نہ بنانے کے باعث بجلی کی ضرورت پوری نہیں ہو رہی ۔بدقسمتی سے اب تک پاکستان میں کوئی واٹر پالیسی نہیں،پانی کی پراسسنگ نہ ہونے سے طلب ورسد کا توازن بگڑ گیا ہے۔

ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے لئے مناسب تعداد میں ڈیم نہ ہونے کے باعث بجلی کی مطلوبہ ضرورت بھی پوری نہیں ہو رہی۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات میں سیلاب سب سے بڑا خطرہ ہے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر ڈیمز تعمیر کیے جائیں اور اس سلسلے میں صرف بیان بازی کی بجاے عملی بنیادوں پر کام کیا جائے، کیونکہ ڈیمز بنا کر ہی بھارتی آبی جارحیت کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے

بڑے آبی ذخائر میں کالا باغ ڈیم بھی شامل ہے اس پر بھی کام کا آغاز کیا جائے تاکہ ملک میں جاری توانائی بحران کا خاتمہ ممکن ہوسکے اور انڈسٹریز کو اس کی ضروریات کے مطابق بجلی کی مسلسل فراہمی سے صنعتی پہیہ مسلسل رواں دواں رہے۔انہوںنے کہا کہ ملکی برآمدات کا63فیصد انحصار زراعت پر ہے ۔

نئے ڈیموں سے زراعت کیلئے وافر پانی دستیاب ہوگا تو ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا نیز زراعت ترقی کرے گی تو صنعتوں کو وافر خام مال دستیاب ہوگا ،حکومت کا صنعتی ترقی کا ویژن مکمل ہوگا اور پاکستان کو صنعتی لحاظ سے ایشیاء کا ٹائیگر بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا ۔