نیب قانون میں ترمیم کیلئے کمیٹی کے قیام کی منظوری

178
NAB law

اسلام آباد:وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے  قومی احتساب بیورو(نیب)قانون میںترمیم کیلئے کمیٹی کے قیام کی منظوری دیدی۔

وفاقی وزیرقانون کی سربراہی میں کمیٹی میں وکالت ،  بنکاری ،  بیوروکریسی اور دیگر شعبوں سے منسلک نامور شخصیات کو شامل  کیا جائیگاجبکہ کابینہ نے سول سرونٹس  ( ڈائریکٹری  ریٹائرمنٹ فرام سروس)رولز2020 کو منسوخ کرنے  اوران رولز کے تحت سرکاری افسران کیخلاف شروع کی گئی کارروائیوں کو ختم کرنے کی بھی منظوری دی۔کابینہ نے 75  ویں یوم آزادی اور اسٹیٹ بنک کے قیام کی مناسبت سے یادگاری بینک نوٹ کے ڈیزائن اوراینگرو بیسڈصنعت کے فروغ ، فصلوں سے پیداوار بڑھانے اور ان کو برآمد کرنے کیلئے خصوصی پالیسی ساز کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی۔

نیب قانون سے متعلق کابینہ اراکین کا کہنا تھا  کہ نیب کا کالا قانون صرف سیاسی انتقام ، سرکاری اہل کاروں اور کاروباری طبقے کو ہراساں کرنے کیلئے استعمال ہوتا رہا،انہی قوانین کی وجہ سے بیوروکریسی فیصلے لینے سے ڈرتی ہے جس کی وجہ سے اہم ترین امور میں ملک کا نقصان ہو جاتا ہے۔

منگل کووزیراعظم شہباز شریف کے زیر صدار ت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔وزیراعظم نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ ملک میں شدید گرمی کی لہر کا سامنا ہے جس کیلئے خصوصی ٹاسک فورس وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے زیر انتظام تشکیل دی گئی ہے۔ یہ ٹاسک فورس ماحولیاتی تبدیلیوں کے تدارک کیلئے اقدامات لے گی تاکہ پاکستان کو درپیش خطرات کا بروقت ازالہ کیا جا سکے۔ کابینہ اجلاس میں نیب ترامیم کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔

کابینہ اراکین کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ  نیب کا کالا قانون صرف سیاسی انتقام ، سرکاری اہل کاروں اور کاروباری طبقے کو ہراساں کرنے  کے لئے استعمال ہوتا رہا،انہی قوانین کی وجہ سے بیوروکریسی فیصلے لینے سے ڈرتی ہے جس کی وجہ سے اہم ترین امور میں ملک کا نقصان ہو جاتا ہے۔ کابینہ نے نیب ترامیم کیلئے وزیرقانون کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی۔ کمیٹی میں وکالت ،  بنکاری ،  بیوروکریسی اور دیگر شعبوں سے منسلک نامور شخصیات کوبھی شامل کئے جائیں گے۔ اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کابینہ کو  سول سرونٹس رولز2020پر نظر ثانی کے حوالے سے قائم کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان رولز میں وہ تمام قوائد موجود ہیں جو Government Servants (Efficiency & Discipline) Rules, 2020  میں پہلے سے شامل ہیں۔ کابینہ اراکین نے اظہار کیا کہ ان رولز کو سرکاری افسران پر دبائو ڈالنے کیلئے استعمال کیا جاتا رہا  جس کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا۔پہلے سے موجود قوانین کے اوپر دوبارہ رولز نہیں بنائے جا سکتے۔احتساب کا عمل شفاف اور بلا تفریق ہونا چاہئے۔ کابینہ نے کمیٹی کی سفارشات منظور کرتے ہوئے  سول سرونٹس  ( ڈائریکٹری  ریٹائرمنٹ فرام سروس)رولز2020 کو منسوخ کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے ان رولز کے تحت سرکاری افسران کے خلاف شروع کی گئی کارروائیوں کو ختم کرنے کی بھی منظوری دی۔