امریکی غلامی نامنظور! کیا یہ ممکن ہے

385

آخری قسط
سیکولر عدلیہ یہ غلامی ہے، سیکولر تعلیمی نظام یہ غلامی ہے۔ جمہوری وفاقی نظام یہ غلامی ہے، وفاقی نظام وہ عفریت ہے کہ مسلم دنیا میں جو علاقے مرکز سے جدا اور الگ ہوئے ہیں اسی نظام کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ اس نظام کی وجہ سے مشرقی پاکستان بنگلا دیش بنا۔ آج بلوچستان کو آزادی چاہیے، پختون ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں، سندھ میں سندھو دیش کی تحریک زیادہ پرانی بات نہیں ہے، سوڈان میں جنوبی سوڈان الگ ہوگیا، انڈونیشیا سے ایسٹ تیمور الگ کردیا گیا، عراق عملاً تین حصوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ یہ سب مغربی جمہوری وفاقی طرز حکومت کا شاخسانہ ہے جسے مسلم دنیا نے بطور نظام حکومت اپنا رکھا ہے۔ مسلم ممالک میں سب کچھ وہ ہورہا ہے جو مغرب چاہتا ہے۔ غلامی اس کے علاوہ کیا ہوتی ہے؟ یہ ہے غلامی کا وہ دوسرا ستون جو دوسری جنگ عظیم کے بعد ہمارے ملکوں میں بطور نظام یا سسٹم نافذ ہے۔
غلامی کا تیسرا ذریعہ ہے: مغرب اور امریکا کی سفارتی اور فوجی موجودگی۔ سب کو علم ہے دنیا بھر میں امریکا اور مغربی ممالک کے سفارتخانے اور قونصلیٹ سفارتی سے زیادہ جاسوسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ جن کے افراد اور سامان کو بوقت آمدو رفت چیک کیا جاسکتا ہے اور نہ تفتیش کی جاسکتی ہے۔ جہاں تک فوجی موجودگی کا تعلق ہے تو متعلقہ ملکوں میں جب مغرب کے نظام اور کٹھ پتلی حکمران ناکام ہوجاتے ہیں تو پھر براہ راست مداخلت کرکے غلامی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ امریکا افغانستان میں موجود ہے، عراق میں موجود ہے، یمن میں موجود ہے، شام کے اندر روس موجود ہے، ایسٹ ترکستان میں چین موجود ہے، کشمیر میں انڈیا موجود ہے۔ قبلہ اول یہودیوں کے قبضے میں ہے اور ہر دم اسرائیلی جارحیت کے نشانے پر ہے جیسے وارزون ہو۔ ہر دوسرے دن غزہ پر راکٹ اور میزائل فائر ہوتے ہیں، عورتوں کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ آٹھ نوسال کے سترہ، اٹھارہ سو بچے اسرائیل کی جیلوں میں بند ہیں۔ مسلم ممالک سپرپاورز کے جدید اسلحہ کے ٹیسٹنگ گرائونڈ ہیں۔ روس جس سے اظہار یکجہتی کرنے کے لیے عمران خان غیر جانبداری کا ڈراما کرنے میں پاگل ہوئے جارہے ہیں اس نے اپنے دوسو جدید ہتھیار شام میں مسلمانوں پر ٹیسٹ کیے ہیں۔ اس کے باوجود مغرب اور امریکی غلامی نامنظور کے نعرے لگا کر ہم کسے بیوقوف بنارہے ہیں۔
چوتھا ذریعہ وہ فوجی اور سیاسی قیادت اور اشرافیہ ہے جو اصل میں حکمران ہے۔ یہ لوگ یا تو براہ راست مغرب میں تعلیم یافتہ ہیں یا پھر انہوں نے پاکستان ہی میں موجود مغربی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی ہے، ایچی سن ہو، برٹش کونسل کے کورسز ہوں، لمس ہو، این ڈی یو ہو، نسٹ ہو وہاں ایک خاص طریقے سے ان کی ذہن سازی کی جاتی ہے۔ سائنسی علوم تو آفاقی علوم ہیں مسئلہ تب ہے جب ہماری فوجی اور سیاسی اشرافیہ پولیٹیکل سائنس کے اصول مغرب سے سیکھتی ہے، عدالتی قوانین کو مغرب کی نظر سے دیکھتی ہے، سوشیالوجی مغرب کے تناظر میں جانچتی ہے، تاریخ مغربی انداز سے پڑھتی ہے، مقابلہ ادیان مغربی نکتہ نظر کو سامنے رکھ کر مطالعہ کرتی ہے تب یہ فوجی اور سیاسی اشرافیہ چاہے نہ چاہے، جانے انجانے مغرب کی ایجنٹ بن جاتی ہے۔ اب اندازہ کیجیے ہماری پوری سیاسی اور فوجی اشرافیہ مغرب سے تربیت یافتہ ہے وہ کس درجے مغربی ایجنٹ ہوسکتی ہے۔ یہی فکر وجہ ہے کہ ان کی نظر میں سیکولر نظام ہی دنیا کا بہترین نظام ہے، دین کی باتیں، فروغ اسلام کی باتیں ان کو فساد لگتی ہیں۔ اگر مذہبی اختلاف ہو تو یہ فرقہ واریت ہے اور اگر سیکولر اختلاف ہو تو یہ جمہوریت کا حسن ہے، مذہبی لوگ سڑکوں پر آئیں تو یہ فساد پھیلارہے ہیں لیکن سیاسی جلسے جلوس ہوں خواہ آج کل کی طرح مہینوں سے جاری ہوں تو یہ جمہوری آزادی اور جمہوری حق ہے، احتجاج ہو، دھرنے ہوں توڑ پھوڑ ہو، پارلیمنٹ میں دنگا فساد ہو، گالی گلوچ ہو، مار پٹائی ہو سب گوارا سب پزیرا کیونکہ جمہوریت میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ ان کی نظر میں مثال مغرب ہے۔ انگریزوں کے عدالتی نظام سے بڑھ کر اعلیٰ وارفع نظام ممکن نہیں حالانکہ وہ دیکھ رہے ہیں اس نظام میں روزانہ لاکھوں لوگ جیتے جی مررہے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام کا شرعی نظام دقیانوسی ہے جو موجودہ عہد کے تقاضوں سے مناسبت نہیں رکھتا۔ سرمایہ دارانہ نظام کو یہ لوگ حرف آخر سمجھتے ہیں۔ پرافٹ میگزین میں مفتاح اسماعیل کا انٹرویو پڑھ کر دیکھ لیجیے جس میں وہ سرمایہ دارانہ نظام کے ایک ایک تصور کو ترقی کا راستہ قرار دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں اور قرآنی اصطلاحات کا مذاق اُڑارہا ہے۔ کسی ایک جماعت کی بات نہیں۔ حماد اظہر، شوکت ترین، حفیظ شیخ سب وہیں کے گریجویٹ، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی ہیں۔ پچیس تیس لوگ ہیں جو پاکستان میں ہر حکومت میں مغربی افکار سے لیس ہر حکومت کا عملی حصہ، فکر اور ذہن ہوتے ہیں۔ جنرل باجوہ نے اسلام آباد سیکورٹی ڈائیلاگ میں امریکا کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ہمیں ہتھیار دیتا ہے، امریکا ہمیں ٹریننگ دیتا ہے، ہمارا امریکا پر انحصار ہے، ہم امریکا سے تعلقات خراب نہیں کرسکتے۔ جنرل باجوہ ہی نہیں پاکستان کی تمام فوجی اشرافیہ کی یہی سوچ ہے۔ یہ اشرافیہ عوام کو، ان کے عقائد اور خیالات کو ایسے جاہلوں کا نکتہ نظر سمجھتی ہے جو مغرب کے جدید ترقی یافتہ، ارتقائی افکار سے لاعلم ہیں اور اس قابل ہیں کہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں ان پر مغربی افکار کے تحت حکومت کی جائے۔ اس فکر میں یہ لوگ مخلص ہی کیوں نہ ہوں یہ مغربی ایجنٹ ہیں۔ تنخواہ یافتہ یا بغیر تنخواہ یافتہ۔
اس غلامی کا باقاعدہ آغاز 1924ء سے ہوا جب خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کردیا گیا۔ سو برس گزرنے کے بعد آج مسلمانوں کے لیے یہ مشکل ہوچکا ہے کہ وہ مغربی ایجنٹوں کے ذریعے تھوپی گئی ان بوسیدہ جمہوری حکومتوں اور شیطانی سرمایہ دارانہ نظام کے مقابل اسلامی طرز حکومت کا تصور بھی کرسکیں۔ اس سے بھی بڑھ کر مشکل اس سیاسی اور فوجی اشرافیہ کی فکر اور سوچ میں تبدیلی ہے جو مغرب سے مرعوب ہی نہیں حد درجے مرعوب ہے۔ مغربی افکار مثلاً وطن پرستی، دین کی دنیا کے امور سے علٰیحدگی اور ایسی آرا جن میں اسلام پر تنقید اور حملہ کیا گیا ہو، مغربی ثقافت، مسلم سرزمین پر استعماری قوتوں کے قبضے ان کے لیے تشویش کی بات نہیں بلکہ قابل قبول ہیں۔ جنہیں ریاستی امور میں اسلام کی مداخلت گوارا نہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اس حکمرانی کے دھوکے میں مبتلا کر رکھا ہے جو برائے نام ہے، جو غلامی کی بدترین قسم ہے کہ غلاموں کا غلامی کا احساس ہے اور نہ اسی کی گہرائی اور وسعت کا اندازہ۔
مسئلہ پاکستان کے لیے امریکی غلامی نا منظور کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ تمام مسلم علاقوں پر ایک ہی حکومت ہو، ایک ہی ریاست ہو۔ جہاں اللہ کا کلمہ بلند ہو۔ یہی ریاست ہوگی جو غلامی کے ان چاروں اسالیب اور ذرائع کا خاتمہ کرے گی۔ یہ اسلامی حکومت اقوام متحدہ کی رکن نہیں ہوگی، آئی ایم ایف کے تابع نہیں ہوگی، ایف اے ٹی ایف کو ختم کرے گی، ورلڈ بینک سے قرضہ نہیں لے گی بلکہ ان استعماری اداروں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دے گی۔ مسلم ورلڈ، پوری دنیا اور تھرڈ ورلڈ کا استیصال کرنے کے بجائے اسے اپنے ساتھ شریک کار بنائے گی تاکہ پوری دنیا کواس ورلڈ آڈر سے نجات دلائے۔
مغربی ورلڈ آڈر پہلے ہی ساری دنیا میں شکست وریخت کا شکار ہے روس اس ورلڈآڈر سے الگ ہونا چاہتا ہے، چین الگ ہونا چاہتا ہے، اسلامی دنیا الگ ہونا چاہتی ہے۔ سری لنکا بھیک مانگ رہا ہے، یہی حالت وینزویلا کی ہے، یہی حالت برازیل کی ہے یہی حالت چلی کی ہے، یہی حالت اٹلی کی ہے، یہی حالت یونان کی ہے، افریقا کی ہے۔ ساری دنیا اس نظام سے تنگ ہے ایسے میں اگر خلافت راشدہ طرز کی ایک مضبوط متبادل ریاست اٹھتی ہے جسے اسلام قوت دے گا تب ہی اس غلامی کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ یہ خیال جلد ہی عملی صورت میں نظر آنے والاہے جو اس نظام اور ان عالمی اداروں کی بدمعاشی کا خاتمہ کرے گا۔ جو دنیا کو امریکی غلامی ہی سے نہیں ہر طرح کی غلامی سے آزادی دلائے گا کیو نکہ اس نظام میں صرف قرآن وسنت کی حکمرانی ہوگی۔