سری لنکا کاآئینہ

338

جنوبی ایشیائی تنظیم سارک کے رکن ملک سری لنکا کا بحران اب خانہ جنگی میں ڈھل گیا ہے۔ بات ایک معاشی بحران سے شروع ہوئی تھی جو چلتے چلتے ملک کے سول اور سوشل اسٹرکچر تک پہنچ گئی ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ معیشت کسی بھی ملک کے وجود، بقا اور استحکام کی کلید ہوتی ہے۔ جن ملکوں کی معیشت کو دیمک لگ جائے وہ ایک روز کسی فلک بوس شجر کی طرح اندر سے کھوکھلے ہو کر گرجاتے ہیں۔ سوویت یونین کو روس بنانے میں اسی تلخ حقیقت کا دخل تھا۔ سری لنکا سے آنے والے مناظر دل دہلا دینے کا باعث بن رہے ہیں جہاں بپھرے ہوئے عوام کسی وزیر کو گاڑی سمیت جھیل میں گراتے ہیں تو کہیں کسی وزیر کو گندگی اُٹھانے والی ریڑھی میں ڈال کر جلوس نکال رہے ہیں اور کسی مقام پر پولیس اہلکاروں کو ننگا کر کے مارپیٹ کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایک طرف حکومت کے حامی ہیں تو دوسری طرف مخالف اور دونوں کے درمیان کوئی نقطہ ٔ اتصال یا کم از کم اتفاق رائے کی گنجائش نہیں۔ سری لنکا کو موجودہ سزا چین کی طرف پیش قدمی اور اس کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی وجہ سے مل رہی ہے مگر نہ چین اور نہ ہی سری لنکا کو اس حال تک پہنچانے والے کردار کوئی بھی اس کی مدد کو نہیں آرہا۔ یوں لگ رہا ہے کہ اس ملک کا تماشا دیکھا جا رہا ہے۔ کوئی بھی ملک اس آگ میں اپنے ہاتھ جھلسانے سے گریزاں ہے۔
سری لنکا کے موجودہ حکمران برسوں سے اقتدار میں رہنے کی وجہ سے حکمران خاندان کہلاتے ہیں۔ چھوٹے بھائی گوٹا بایا راجا پکسے سری لنکا کے صدر ہیں تو انہوں نے اپنے چھہتر سالہ بڑے بھائی مہندا راجا پکسے کو وزیر اعظم بنا رکھا تھا۔ مہندا راجا پکسے سری لنکا کے مرد آہن کہلاتے تھے مگر جب عوام اُٹھ کھڑے ہوئے تو انہیں ایک ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر بحریہ کے ایک اڈے میں پناہ لینا پڑی ہے۔ مشتعل ہجوم نے ان ہمبن ٹوٹا میں ان کے آبائی گھر کو نذر آتش کر دیا۔ ان کے وزیر جانسن فرنانڈو کو گاڑی سمیت جھیل میں پھینک دیا گیا۔ اس وقت سری لنکا میں کوئی حکومت نہیں اور صدر ہی ملک چلا رہے ہیں مگر اپوزیشن صدر سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ صدر نے ایک اور شخصیت کو وزیر اعظم مقرر کیا مگر اپوزیشن یہ تسلیم کرتی ہوئی نظر نہیں آرہی۔ اپوزیشن کے پاس تنہا حکومت سازی کی سکت بھی نہیں اور وہ حکومتی جماعت کے ساتھ مخلوط حکومت بھی نہیں بنا سکتی کیونکہ دونوں کے اختلافات اور اقدامات نے انہیں پوائنٹ آف نوریٹرن تک لاچھوڑا ہے۔ ایسے میں سری لنکا کا سیاسی بحران منجمد ہوگیا اور اسی دوران اس ملک کی معاشی ابتری میں اضافہ ہورہا ہے۔ خوراک ادویات اور ایندھن کی قلت نت نئے مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ ایسے میں سری لنکا میں مارشل لا کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ سری لنکا اپنی آزادی یعنی 1948کے بعد آج تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔
سری لنکا کی اس تصویر کے آئینے میں آج کے پاکستان کو دیکھا جائے تو رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ پاکستان بھی جنوبی ایشیائی تنظیم کا سارک کا رکن ہے اور اس کو بھی موجودہ حالات کی دلدل میں بہت مہارت سے دھکیل کر لایا گیا۔ سری لنکا کی طرح پاکستان بھی معاشی طور پر دیوالیہ پن کی دہلیز پر کھڑا ہے اور مخدوش معاشی صورت حال سے ایک سیاسی بحران نے جنم لیا ہے جو روز بروز گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت ایوانوں میں ہے تو اپوزیشن سڑکوں پر اور دونوں کے درمیان کوئی نقطہ ٔ اتصال نہیں۔ سری لنکا کی طرح کوئی بھی ملک پاکستان کی حقیقی اور ٹھوس مدد کے لیے آگے نہیں بڑھ رہا۔ مغرب پہلے ہی پاکستان پر اعتبار نہیں کر رہا تھا اب متوقع ایشین بلاک یا ممالک بھی ہاتھ کھینچے بیٹھے ہیں۔ آئی ایم ایف، امریکا چین سمیت کوئی بھی ملک آگے بڑھ کر پاکستان کی معیشت کو ریسکیو کرنے پر تیار نہیں۔ یوں پاکستان کی سیاست اور معیشت ایک بھنور میں پھنس چکی ہے۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اختلافات اب دشمنی کی حدوں کو چھو رہے ہیں ان کا مل بیٹھنا ناممکن ہو کر رہ گیا ہے۔ اشیائے خورو نوش اور ایندھن کی قیمتیں پر لگا کر اُڑ رہی ہیں۔ پاکستان بھی سری لنکا کی طرح اپنی پچھہتر سالہ تاریخ کے مشکل دور سے گزر رہا ہے کیونکہ ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا اور اسی انداز سے روپے کی قدر تاریخ کی کمترین سطح پر آچکی ہے۔ پاکستان کے کارپردازان بپھری ہوئی اپوزیشن اور حال مست حکومت کو لمحہ بھر کو سری لنکا کے آئینے میں جھانک کر اپنا چہرہ اور آنے والے حالات کو دیکھنا چاہیے۔ سری لنکا کا تماشا تو شاید اچنبھے کی وجہ نہ ہو مگر پاکستان ایک ایٹمی ملک اور مضبوط فوج کا حامل ہے۔ اس کا یوں تماشا بننا اچھا شگون نہیں۔