مسئلہ فلسطین و کشمیر کے حل کے بغیردنیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں، علامہ ساجد نقوی

201
Without a solution

لاہور: قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے ایک طرف یوم امن منایا جارہاہے مگر دوسری طرف بدامنی کو مسلسل شہ اور پش پناہی کی جارہی ہے، عالمی قوتوں کو اس دوہرے معیار کو ترک کرنا ہوگا،جب تک مشرق وسطیٰ میں مسئلہ فلسطین اور جنوبی ایشیا میں مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا اس وقت تک پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ۔

علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ 16مئی 1948ء کو جس طر ح ناجائز، قابض صیہونی ریاست کو قائم کیاگیا اسی روز دنیا خصوصاً مشرق وسطیٰ میں بدامنی کا بیج بودیاگیا تھا، اب دنیا کوفیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ظالم کے ساتھ ہے یا مظلوم کے ساتھ ؟دوہرا معیار اور عالمی مناقفت ہی انسانیت اور امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے، اسرائیلی ظالم و قابض فوج سے جنازے تک محفوظ نہیں، جرات مند فلسطینی صحافی کے جنازے کو بھی پامال کرنے کی کوشش کی گئی ،اس سے بڑھ کر درندگی کیا ہوگی ؟ان خیالات کا اظہار علامہ ساجد نقوی نے مشرق وسطیٰ میں ناجائز و قابض صیہونی ریاست کے قیام اور عالمی یوم امن و روشنی پر اپنے پیغام میں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج پوری دنیا میں عالمی یوم امن اور یوم روشنی کے طور پر منایا جارہاہے یہ کھلا تضاد اور دوہرا معیار ہے ، ایک طرف عالمی یوم امن و روشنی منایا جارہاہے تو دوسری طرف مظلوم فلسطینیوں سے آج سات دہائیاں قبل آج کے روز امن کے ساتھ ان کے مستقبل کی روشنی بھی چھین لی گئی ،پیلٹ گنز ہوں یا جدید ترین ہتھیاروں کااستعمال ، میزائلوں سے رہائشی علاقوں میں بمباری ہو یاقبلہ اول میں عبادت میں مصروف نہتے انسان،ان سے زندگی کی روشنی اور امن ہر طریقے اور ہر حیلے کے ساتھ چھین لی گئی مگر دنیا اس معاملے پر چند مذمتی بیانات کے ساتھ خاموش ہوجاتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ اسرائیلی مظالم کو آشکار کرنیوالی خاتون صحافی کے جنازے پر بھی دھاوا بول دیا گیا اور اسے پامال کرنے کی کوشش کی گئی اس سے بڑھ کر درندگی کی مثال کیا ہوگی ؟قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہاکہ اب دنیا کوفیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ظالم کے ساتھ ہے یا مظلوم کے ساتھ ؟ دوہراعالمی معیار اور عالمی مناقفت ہی انسانیت اور امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے جب تک مشرق وسطیٰ میں مسئلہ فلسطین اور جنوبی ایشیا میں مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا اس وقت تک پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ۔