پارٹی ڈسپلن سے ہٹ کر ووٹ دینے سے سیاسی پارٹی ’’ٹی پارٹی‘‘ بن جائے گی، سپریم کورٹ

185

 اسلام آباد: چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آرٹیکل 63اے کے صدارتی ریفرنس کی سماعت میں کہا ہے کہ پارٹی ڈسپلن سے ہٹ کر ووٹ دینے سے سیاسی پارٹی ٹی پارٹی بن جائے گی جب کہ جسٹس جمال نے ریمارکس دیے کہ اگر انحراف غلط کام ہے تو آئین اس کی اجازت کیوں دیتا ہے؟

سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63اے کی تشریح کے لیے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی، جس میں چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا کام نہ کریں جس سے کوئی اور تاثر ملے۔

 اٹارنی جنرل نے پیر کو دلائل میں معاونت کی بات خود کی تھی، مخدوم علی خان کو بھی آج دلائل کے لیے پابند کیا تھا، ابھی ہمیں اطلاع ہے کہ مخدوم علی خان بیرون ملک سے واپس نہیں آئے، یہ دونوں وکلا صاحبان ایک فریق کے وکیل ہیں۔

 ایک سرکار کا وکیل ہے دوسرے سیاسی جماعت کے نجی وکیل ہیں، اب لگتا ہے اپ اس معاملے میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آرٹیکل 63اے کا فیصلہ دینا چاہتے ہیں، یہ ایک اہم ایشو ہے، اگر اٹارنی جنرل تین بجے پہنچ رہے ہیں تو چار بجے تک سن لیتے ہیں، رات تاخیر تک اس مقدمے کو سننے کے لیے تیار ہیں۔

 یہ خدمت کا کام ہے ہم کرنا چاہتے ہیں، عدالت تو رات تاخیر تک بیٹھی ہوتی ہے، ایڈووکیٹ جنرلز اور بی این پی کے وکیل کو سن لیتے ہیں اٹارنی جنرل کا بھی انتظار کریں گئے۔

اپنے دلائل میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی)کے وکیل مصطفی رمدے نے کہا کہ آرٹیکل 63اے میں تمام طریقہ کار موجود ہے، اگر آرٹیکل 63اے میں طریقہ کار موجود نہ ہوتا تو عدالت آرٹیکل 62، 63کی طرف دیکھ سکتی تھی، یہ ضروری نہیں ہر انحراف کسی فائدے کے لیے ہو، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین سازوں نے ڈی سیٹ کی سزا رکھی ہے، انحراف خالصتا سیاسی اختلافات پر بھی ہوسکتا ہے، آرٹیکل 63اے میں ڈی سیٹ کی سزا فراہم کی گئی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں منحرف ارکان کے لیے ڈی سیٹ کی سزا کافی ہے جس پر مصطفی رمدے نے کہا کہ  آرٹیکل 63اے کے طریقہ کار سے ہٹ کر مزید گہرائی میں نہیں جانا چاہتے، ڈی سیٹ کے ساتھ مزید سزا شامل کرنے سے سیاسی تقسیم میں اضافہ ہوگا۔