پانی بحران کے حل کے لیے سر جوڑیں

228

پاکستان کے بڑے مسائل کی بات کی جائے تو ان میں ایک انتہائی بڑا مسئلہ پانی کا ہے۔ یہ مسئلہ اتنا بڑا اور اہم ہے کہ ہر جماعت کو اس پر بات کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی حکومت کو واٹر ایمرجنسی نافذ کرنی چاہیے لیکن لگتا ہے کہ کسی کو اس کی پروا نہیں۔ اور نہ ہی اس کے لیے کوئی فکر مند ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ پانی کی شدید قلت کے باعث سندھ اور بلوچستان میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ خاص طور سے گوادر میں پانی کی قلت کے باعث ہونے والے مظاہروں نے پورے بلوچستان پر اثرات ڈالے ہیں۔ صحرائے چولستان جو مقامی طور پر روہی کے نام سے مشہور ہے پانی کی شدید قلت کا شکار ہے۔ تالاب اور ٹوبھے خشک ہورہے ہیں، شدید گرمی کے باعث مویشی ہلاک ہورہے ہیں، دریائے سندھ میں بھی پانی انتہائی کم ہوگیا ہے، یعنی اتنا کم کہ کسان پریشان ہیں۔ فصلوں کو پانی میسر نہیں۔ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اگر یہ صورت حال قائم رہی تو سندھ میں قحط سالی کا خطرہ ہے۔ حالت یہ ہے کہ کپاس اور دیگر فصلوں کے لیے پانی کی فراہمی روک دی گئی ہے۔ ٹنڈوالہیار میں زمینیں بنجر ہونے لگی ہیں، پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے کاشت کاروں نے بے محابا بورنگ کا استعمال کیا جس کے باعث زیر زمین پانی کی سطح گر گئی ہے۔ ٹیوب ویل کلچر نے زیر زمین پانی کو نچوڑا تو زمین خشک ہوگئی۔
دوسری طرف صنعتوں کا آلودہ پانی میٹھے پانی کے ذخیروں میں بے دردی سے ڈالتے ڈالتے انہیں ایسا زہریلا بنایا گیا کہ صحت کے مسائل کھڑے ہوگئے۔ دریائوں اور نہروں کی سطح پر ملگجہ زہریلا جھاگ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ یہ پانی صحت کے لیے کتنا نقصان دہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او بتاتا ہے کہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں پینے کے صاف پانی میں خطرناک زہریلے مادے سنکھیا کی انتہائی زیادہ مقدار موجود ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پورے پاکستان میں پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ پنجاب اور سندھ دونوں کو فصلوں کے لیے اپنی ضرورت کے مقابلے میں آدھا پانی فراہم ہوا ہے۔ لیکن اس صورت حال میں سندھ زیادہ متاثر ہوا ہے کیوں کہ سندھ میں پانی کا واحد ذریعہ دریائے سندھ ہے جس میں تربیلا ڈیم سے پانی آتا ہے۔ آج کل تربیلا میں تعمیراتی کام ہورہا ہے لہٰذا وہ مکمل طور پر خالی ہے۔ لہٰذا اس صورت حال کا سب سے زیادہ نقصان سندھ کو ہورہا ہے۔ ویسے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے گزشتہ کئی سال سے اپریل کے ابتدائی عشرے میں پانی کی قلت ہوجاتی ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ کم بارشیں اور درجہ حرارت کا بڑھنا ہے۔ یہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہے اس کے علاوہ ڈیموں میں پانی کی گنجائش نہ ہونا بھی وجہ ہے کیوں کہ اکثر ڈیم مئی سے بھرچکے ہیں ان میں پانی جمع کرنے کی گنجائش یا تو ختم ہوگئی ہے یا معمولی ہے۔
معاملہ یہ ہے کہ پانی کے مسئلے کو اس طرح اہم سمجھا ہی نہیں گیا جیسا کہ سمجھنا چاہیے تھا۔ اب جب کہ معاملہ خشک سالی تک آپہنچا ہے زیر زمین پانی بھی ختم ہورہا ہے تو تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ سیاسی جماعتیں تو حکومتوں میں آنے کے بعد اس پر غور کرنا ہی ضروری نہیں سمجھتیں۔ ذرائع ابلاغ بھی محض سیاسی مرغوں کی لڑائی پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ آخر وہ کیوں نہیں عوام میں آگاہی پیدا کرتے۔ سوچیے ہر سال کتنا زیادہ پانی ڈیم نہ بننے کے باعث سمندر میں داخل ہوجاتا ہے، یعنی اربوں روپے کا پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ پاکستان اپنے دستیاب پانی کا صرف دس فی صد ہی ذخیرہ کرسکتا ہے، باقی سارا پانی سمندر کی نذر ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیم نہیں ہیں۔ دوسری طرف ماحولیاتی تبدیلی کے باعث بارشیں کم ہورہی ہیں ایسی صورت میں پانی کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہے، ملکی معیشت میں زرعی شعبے کا حصہ تیس فی صد ہے جب کہ کل پانی کا نوے فی صد زرعی شعبے میں خرچ ہوتا ہے۔ بات یہ ہے کہ زراعت میں جدید طریقے اختیار کرکے پانی کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے کسانوں میں ڈرپ ایریگیشن اور لیزر لیولنگ کے طریقے کار کو عام کرنا ہوگا۔ پانی کے بحران میں یہ دونوں نظام بہترین نتائج دیتے ہیں۔ خاص طور سے خشک اور پانی کی کمی کے شکار علاقوں میں یہ نظام انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ تھر کے علاقے میں اس کے ذریعے کاشت کے کامیاب تجربے کیے گئے ہیں۔ تحقیق سے یہ نتائج سامنے آچکے ہیں کہ اس کے ذریعے پچیس فی صد پانی کی بچت کے ساتھ فصلوں کی پیداوار میں تیئس فی صد تک اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف شہروں میں پانی کو احتیاط کے ساتھ استعمال کرنے کی ترغیب بھی میڈیا کے ذریعے مسلسل کرنا ضروری ہے۔ بہتے ہوئے نل، ٹنکی کا پانی اور فلو ہو کر بہانام صحن برآمدے اور گاڑیاں دھوتے ہوئے پائپ سے ڈھیروں پانی بہانا درست نہیں۔ کروڑوں شہری پانی کی بچت کریں گے تو حالات بہتر ہوں گے، ساتھ حکومت اور سیاسی جماعتیں اس کے لیے سرجوڑ کر بیٹھیں نہ کہ کرسی کے لیے سرپھٹول میں مصروف رہیں۔