نیا لندن پلان

410

عمران خان کی حکومت ختم ہوتے ہی لندن میں مقیم میاں نواز شریف کی صحت بحال ہوگئی تھی۔ ان کے چہرے پر سرخی بھی عود کر آئی تھی اور پاکستان میں اُن کے بھائی کی حکومت نے ان کا سفارتی پاسپورٹ بھی بحال کردیا تھا۔ اس لیے عمومی توقع یہی تھی کہ وہ فتح کے پھریرے لہراتے ہوئے وطن واپس آجائیں گے اور لندن کے بجائے جاتی امرا میں بیٹھ کر حکومت کی نگرانی و رہنمائی کریں گے اور اسے اپنے خفیہ مشوروں سے نوازیں گے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی ان کی صحت یابی اور سیاسی کامیابی کا عمل مکمل نہیں ہوا ہے۔ وہ قانون کی نظر میں ابھی تک تاحیات نااہل اور سزا یافتہ مجرم ہیں۔ ایسی صورت میں وہ پاکستان واپس نہیں آنا چاہتے۔ ان کی خواہش ہے کہ پہلے ان کے جسم سے مجرموں والا لباس اُتارا جائے اور صاف ستھرا ڈرائی کلینڈ لباس مع شیروانی پی آئی اے کی چارٹرڈ فلائٹ سے لندن بھیجا جائے جسے زیب تن کرکے وہ وی کا نشان بناتے ہوئے اسلام آباد ائرپورٹ پر اُتریں اور تاحد نگاہ عوام کا جم غفیر ان کے استقبال کے لیے موجود ہو، لیکن یہ کام چوں کہ فوری طور پر ممکن نہیں ہے اور اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ ان کی آمد کی خبر پاکر عمران خان کے فدائی ائرپورٹ کا گھیرائو کرلیں گے اور انہیں جہاز ہی سے باہر نہیں آنے دیں گے، اس لیے انہوں نے احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے فی الحال واپسی کا فیصلہ موخر کردیا ہے اور لندن میں بیٹھ کر ہی حکومت چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ویڈیو لنک کا زمانہ ہے آدمی دنیا کے کسی کونے میں بھی بیٹھ کر حکومت چلا سکتا ہے جس کی گرفت مضبوط ہونی چاہیے۔ کہا جاتا ہے کہ میاں نواز شریف کی گرفت بہت مضبوط ہے سارے فیصلے وہ خود کررہے ہیں۔ البتہ اپنے رفقا سے مشورہ کرتے رہتے ہیں۔ چناں چہ انہوں نے وزیراعظم سمیت وفاقی کابینہ کو مشورہ کے لیے لندن طلب کرلیا ہے اور وہ ہاتھ باندھ کر ان کے حضور پیش ہوگئے ہیں۔ سنا ہے کہ یہ ایک خفیہ اجلاس ہے جس کے فیصلے باہر نہیں آئیں گے اور چھوٹے بھائی یعنی وزیراعظم ان فیصلوں پر پاکستان میں عملدرآمد کریں گے۔ اگرچہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف شیر و شکر ہوگئی ہیں اور پیپلز پارٹی بھی کابینہ کا حصہ ہے لیکن اسے مشاورت کے لیے نہیں بلایا گیا۔ میاں صاحب نے صرف اپنی جماعت کے وزیروں کو شرف ِ باریابی بخشا ہے اور وہی ان کے فیصلوں پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے۔
یار لوگ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کا دارالحکومت ایک بار پھر لندن منتقل ہوگیا ہے یہ اُس وقت تک دارالحکومت رہے گا جب تک چھوٹا بھائی پاکستان میں وزیراعظم ہے اور میاں صاحب ازراہِ مصلحت لندن میں مقیم ہیں۔ اس سے پہلے بھی ایک بار یہ واقعہ رونما ہوچکا ہے جب میاں صاحب خود وزیراعظم تھے اور دل کے آپریشن کے سبب انہیں لندن میں تین چار ماہ رکنا پڑا تھا۔ وہ کاروبار حکومت اپنے کسی سینئر ساتھی کے سپرد کرنے کے بجائے وزیراعظم سیکرٹریٹ اٹھا کر لندن لے گئے تھے اور وہاں سے پاکستان پر حکم چلایا کرتے تھے۔ یوں بھی لندن ایک طویل عرصے تک پورے برصغیر کا دارالحکومت رہا ہے۔ میاں صاحب کی پیدائش اگرچہ بہت بعد کی ہے لیکن لندن اپنے سیاسی کردار کی وجہ سے انہیں بہت اچھا لگتا ہے۔ دوسرے ملک کے بھگوڑوں کو اس شہر میں بہت آسانی سے پناہ مل جاتی ہے۔ اگر کوئی بھگوڑا اپنے ملک کے خلاف کوئی سازش کرے تو اسے ’’لندن پلان‘‘ کا نام دیا جاتا ہے اور بین الاقوامی پریس میں اس کا خوب چرچا ہوتا ہے۔ ماضی میں پاکستان کے کتنے ہی بھگوڑے ’’لندن پلان‘‘ کے ذریعے شہرت حاصل کرچکے ہیں۔ ان دنوں بھی کراچی کا ایک بھگوڑا گزشتہ تیس سال سے لندن میں مقیم ہے اور آئے دن پاکستان کے خلاف ’’لندن پلان‘‘ بناتا رہتا ہے۔ میاں نواز شریف کو ہم بھگوڑا اس لیے نہیں کہتے کہ وہ حکومت وقت کی اجازت سے بغرضِ علاج لندن گئے تھے۔ حسب توقع ان کا علاج طول کھینچتا گیا۔ یہ علاج اس وقت مکمل ہوا جب انہیں لندن بھیجنے والی پاکستانی حکومت رخصت ہوگئی۔ اب وہ خود حکومت میں ہیں اور پاکستان آنے کے بجائے لندن میں بیٹھ کر حکومت کررہے ہیں، تاہم اس بات میں کوئی کلام نہیں کہ وہ بھی پاکستان کے بارے میں کتنے ہی ’’لندن پلان‘‘ کا حصہ رہے ہیں۔ ایک لندن پلان وہ بھی تھا جسے ’’میثاق جمہوریت‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔
ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا بات پہنچی تری جوانی تک
لندن اور لندن پلان کا ذکر طول کھینچ گیا اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ تحریر جب چھپے گی وزیراعظم اپنی کابینہ سمیت واپس آچکے ہوں گے۔ وہ لندن میں زیادہ دیر قیام نہیں کرسکتے کیوں کہ اسلام آباد میں انہیں ایک بپھرے ہوئے دشمن کا سامنا ہے جو کسی وقت کچھ بھی کرسکتا ہے۔ جب کہ حال یہ ہے کہ چھوٹے بھائی کی حکومت کسی طرح چل نہیں پارہی۔ ہم عمران حکومت کو روتے تھے کہ اس نے مہنگائی آسمان پر پہنچادی ہے لیکن تیرہ جماعتوں کی موجودہ حکومت نے صرف ایک ماہ میں مہنگائی کا تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ وہ تمام اشیائے خورو نوش جو پاکستان میں پیدا ہوتی اور یہیں استعمال ہوتی ہیں، ان کی قیمتوں کو پَر لگ گئے ہیں۔ کیا دالیں، کیا گوشت، کیا سبزی۔ سب کی قیمتیں روزانہ کے حساب سے اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہیں کہ عام لوگ انہیں چھونے سے قاصر ہوگئے ہیں۔ حالاں کہ یہ چیزیں ڈالر خرچ کرکے منگائی نہیں جاتیں اپنے ہی ملک میں زمین سے اُگتی ہیں اور زمین بانجھ نہیں ہوئی۔ ہمارے دوست ملکوں نے بھی چھوٹے بھائی کی حکومت کو منہ نہیں لگایا، وہ سمجھتے ہیں کہ تیرہ چودہ ماہ کی عارضی حکومت سے کیا دوستی کرنی۔ عمران خان نے اپنی حکومت کو بچانے کے لیے پٹرول کی قیمت کم کرنے کا سیاسی فیصلہ کیا تھا لیکن یہ فیصلہ موجودہ حکومت کے لیے گہری خندق ثابت ہوا ہے۔ آئی ایم ایف نے پٹرول کی قیمت بڑھا ئے بغیر مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔ پٹرول کی قیمت بھی کم از کم تیس روپے فی لیٹر بڑھانا ناگزیر ہوگیا ہے۔ اگر یہ اضافہ ہوا تو اندازہ کیجیے کہ پاکستانی معیشت پر کیا قیامت ٹوٹے گی اور چھوٹے بھائی کی حکومت کا کیا حال ہوگا۔ اسی لیے ایرانی کہاوت ہے کہ آدمی کتا بن جائے چھوٹا بھائی نہ بنے۔
ہم یہاں تک لکھ پائے تھے کہ لندن سے آنے والی خبروں سے پتا چلا کہ بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کو مشورہ دیا ہے کہ جب تک نیب قوانین میں ترمیم کے ذریعے ہماری کرپشن پاک صاف نہیں ہوجاتی اور انتخابی قوانین میں اصلاحات کے ذریعے ہمیں انتخابات میں کامیابی کا سو فی صد یقین نہیں ہوجاتا۔ نئے انتخابات نہ کرائے جائیں، چھوٹے بھائی نے اس مشورے سے اتفاق کیا ہے۔ یار لوگ اسے نیا لندن پلان کہہ رہے ہیں۔ ادھر عمران خان بہت جلدی میں ہیں چاہتے ہیں وہ کل کے بجائے آج انتخابات ہوجائیں۔ عوام بھی جلدی انتخابات کے حق میں ہیں تا کہ موجودہ سیاسی بحران ختم ہو اور وہ سکون کا سانس لے سکیں۔ ایسے میں دیکھیے نئے لندن پلان کا کیا بنتا ہے اور آخری خبر یہی ہے کہ کاٹنے والوں نے اس پلان کے پَر کاٹ دیے ہیں۔