ـ17 ویں مائی کراچی نمائش کا افتتاح

288
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ایکسپو سینٹر میں 17ویں ’’مائی کراچی نمائش‘‘ کا افتتاح کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں گزشہ روز ہونے والے دھماکے کا ذکر کرتے ہوئے جس میں 24 سالہ لڑکا جاں بحق اور 10 افراد زخمی ہوئے تھے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت کراچی پر برا وقت نہیں آنے دے گی اور کراچی کے ایک ایک علاقے میں دہشت گردوں کا سراغ لگا کر ان کا مکمل خاتمہ کرے گی۔صوبے میں ایک بھی قتل ناقابل قبول ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔میرا پختہ یقین ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب یا زبان نہیں ہوتی۔ وہ نہ تو پاکستانی اور نہ ہی انسان ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو کراچی ایکسپو سینٹر میں 17ویں ’’مائی کراچی نمائش‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ افتتاحی تقریب میں سندھ کے وزیر صنعت و تجارت جام اکرام اللہ خان دھاریجو، سندھ کے وزیر محنت سعید غنی، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی وقار مہدی، کمشنر کراچی محمد اقبال میمن، چیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا، وائس چیئرمین بی ایم جی جاوید بلوانی، جنرل سیکرٹری بی ایم جی اے کیو خلیل، کے سی سی آئی کے صدر محمد ادریس، سینئر نائب صدر عبدالرحمان نقی، نائب صدر قاضی زاہد حسین، کے سی سی آئی کی منیجنگ کمیٹی کے اراکین اور سفارت کاروں کے علاوہ سینئر بیوروکریٹس کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ 2013 کے بعد جب شہر دنیا کے خطرناک ترین شہروں میں 7ویں نمبر پر تھا تو ایسے وقت میں پوری قوم نے مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا جس کی بدولت کراچی میں امن و استحکام لوٹ آیا اور آج شہر جرائم کے انڈیکس میں بہتر مقام پر ہے۔ انہوں نے بزنس مین گروپ کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے مرحوم سراج قاسم تیلی کو ان کی قابل ستائش خدمات پر شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تمام نمائش کنندگان،سفارتکاروں اور دیگر شرکاء کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ یہ نمائش نتیجہ خیز ثابت ہوگی کیونکہ کراچی ایک متحرک شہر ہے جس میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ایکسپو سینٹر میں آج کا ہاؤس فل اور اتنے زیادہ سفارتکاروں کی موجودگی صاف ظاہر کرتی ہے کہ وہ پاکستانی عوام اور پاکستانی عوام کی ثابت قدم رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ بہت سے لوگ مجھ سے اتفاق نہیں کریں گے لیکن میں دل کی گہرائیوں سے کہہ رہا ہوں کہ کراچی جو قومی خزانے میں 70 فیصد حصہ ڈالتا ہے اس میں 90 فیصد بھی حصہ ڈالنے کی صلاحیت ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ باقی سندھ اور پاکستان بھی ترقی کریں اور ٹیکس ادا کریں۔میرا تعلق سہون سے ہے اور میں سہون کو اس حد تک ترقی کرتا دیکھنا چاہتا ہوں کہ اس کی آمدنی میں بھی 70 فیصد حصہ ڈالے۔