دستوری ابہامات

260

دستور میں قرار دیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی (Proceedings) کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا، لیکن پارلیمنٹ کی آزادی و خودمختاری (Sovereignty) مُطلَق (Absoulute) نہیں قرار دی جاسکتی۔ ہماری نظر میں پارلیمنٹ کی اس آزادی کا مطلب یہ ہے کہ اراکین پارلیمنٹ اسمبلی میں جو تقاریر کرتے ہیں، اُن پر کوئی عدالت کارروائی نہیں کرسکتی، لیکن اس کایہ مطلب لینا کہ صدر یا گورنر یا سینیٹ کے چیئرمین وڈپٹی چیئرمین، قومی اسمبلی کے اسپیکر وڈپٹی اسپیکر اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر وڈپٹی اسپیکر اگر اپنے آئینی دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں تو عدالت اُن پر روک ٹوک عائد نہیں کرسکتی، درست نہیں ہے،کیونکہ اس طرح تو کوئی بھی صاحب ِ منصب دستوری نظام کو جام کرسکتا ہے، اس کا حال ہی میں پوری قوم نے مشاہدہ کیا ہے۔ اس لیے اب دستورِ پاکستان میں اس طرح کے ابہامات (Ambiguities) دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ اس طرح کی صورتِ حال کا اعادہ نہ ہو اور قوم عالمی سطح پر رسوائی سے دوچار نہ ہو۔ ہماری نظر میں سینیٹ کے انتخاب کے موقع پر سید یوسف رضا گیلانی کے حق میں ڈالے گئے ووٹوں کو جو ردّ کیا گیا تھا، وہ درست نہیں تھا، کیونکہ اگرچہ امیدوار کے نام اور نشان دونوں جگہ چند ووٹروں نے مہریں لگائی تھیں، لیکن وہ مقررہ خانہ کے اندر تھیں، باہر نہیں تھیں، اس بنا پر پریزائڈنگ افسر نے ان ووٹوں کو رد کردیا، اس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ کہہ کر فیصلہ نہ کرنا کہ عدالت پارلیمنٹ کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرسکتی، درست نہیں تھا، ہوسکتا ہے اگر عدالت عظمیٰ میں اپیل کردی جاتی تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو بدل دیا جاتا۔
پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرمؐ کے بنائے ہوئے احکام، حدود اور قوانین کے سوا کسی بھی دستور ساز اور قانون ساز ادارے کے بنائے ہوئے قوانین غیر متبدل (Unchangeable) نہیں ہوتے، صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرّمؐ کے دیے ہوئے قوانین ابدی ہوتے ہیں، اُن کی اطاعت غیر مشروط ہوتی ہے اور کسی کے پاس اُن کو رَدّکرنے کا اختیار نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور اس کے باوجود کہ اُن پر ہدایت واضح ہوچکی ہو، جو کوئی رسول کی مخالفت کرے گا اور مسلمانوں کے (اِجماعی) راستے سے انحراف کرے گا تو اسے ہم اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے جہنم میں جھونک دیں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے، (النساء: 114)۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اُن کی جو تم میں سے صاحبانِ اختیار ہیں، پھر اگر کسی معاملے میں تمہارے (اور صاحبانِ اختیارکے درمیان) اختلاف ہوجائے تو (حتمی فیصلے کے لیے) اس معاملے کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو، اگر تم اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو، یہی (شعار) بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے، (النساء: 59)‘‘۔
اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹانے کا مطلب ہے: ’’قرآن سے رہنمائی حاصل کرنا‘‘ اور رسول اللہؐ کی طرف لوٹانے کا مطلب ہے: ’’رسول اللہؐ کی سنت ِ متوارثہ سے رہنمائی حاصل کرنا‘‘۔ پس جس کا موقف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرّم کے ارشادات کے مطابق ہوگا، اُسے بلا چون وچرا تسلیم کیا جائے گا اور جس کا موقف اس کے خلاف ہوگا، وہ ردّ ہو جائے گا اور کھلے دل کے ساتھ اسے تسلیم کرنا ہوگا، کیونکہ جہاں قرآنِ کریم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے، وہاں یہ بھی فرمایا: ’’اور جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے درحقیقت اللہ ہی کی اطاعت کی، (النساء: 80)۔
لیکن انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین غیر متبدل اور ابدی نہیں ہوتے، وقت کے تقاضوں کے مطابق ان میں رَدّوبدل کیا جاسکتا ہے، چنانچہ انسانوں (عوامی نمائندوں) کے بنائے ہوئے دستور میں ترمیم کا طریقۂ کار بھی درج ہوتا ہے اور پارلیمنٹ دوتہائی اکثریت سے دستور میں تبدیلی لاسکتی ہے، بشرطیکہ ایسی تبدیلی دستور کی روح کے منافی نہ ہو، مثلاً: ’’اسلام ریاست کا سرکاری مذہب ہے، قرآن وسنت کو تمام قوانین پر بالادستی حاصل ہے، جمہوریت دستور کی اساس ہے، حقوقِ انسانی کو سلب نہیں کیا جاسکتا اور اس طرح کے دیگر اساسی مسلّمات سے متعلق آئینی دفعات کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا‘‘۔