ملکی معیشت کو شدید خطرات

412

قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف تحریک اعتماد پیش ہونے اور اس کے بعد شہباز شریف کے وزیراعظم کی کرسی سنبھالنے تک آج ڈیڑھ ماہ ہونے کو آیا لیکن سیاسی غیر یقینی بجائے کم ہونے کے بڑھتی جارہی ہے۔ ہٹائے جانے والے وزیراعظم عمران خان نے اسے ایک غیر ملکی سازش قرار دے کر مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر پورے ملک میں عوامی رابطہ مہم شروع کردی ہے اور جلد از جلد الیکشن کا مطالبہ کردیا ہے اور پاکستانی عوام عمران خان کی پرانی کارکردگی بھول کر اور ان کی جذباتی باتوں سے مسحور ہو کر ان کے پیچھے چل پڑی ہے جب کہ دوسری طرف شہباز شریف جنہوں نے کئی اتحادیوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائی ہے نہ تو پوری طرح قدم جما سکے ہیں اور نہ ہی اپنی ٹیم کو شکیل دے سکے ہیں۔ چناں چہ ایک طرف انہیں عمران خان کے تابڑ توڑ حملوں کا سامنا ہے دوسری طرف ملک کی معیشت خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے۔
معاشی اور کاروباری حالات کے لیے ایک دن کی غیر یقینی صورت حال تباہ کن ہوتی ہے اور یہاں ڈیڑھ ماہ سے زائد ہوگیا ہے اور مستقبل قریب میں بھی کوئی استحکام، اطمینان یا امید افزا صورت حال نظر نہیں آتی۔ اس کا جو نتیجہ نکلنا تھا وہ نکل رہا ہے۔ غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ امریکی ڈالر 192 روپے کا ہوگیا ہے، سونے کی قیمت ایک لاکھ 36 ہزار فی تولہ ہوگئی ہے۔ اشیائے خورو نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی رہی ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ میں 2000 پوائنٹ کی کمی ہوگئی ہے، پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں ہورہی ہیں۔ سری لنکا کی صورت حال سے موازنہ کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف مخلوط حکومت کی توجہ اپنے مقدمات، ایگزٹ کنٹرول لسٹ، انتخابی اصلاحات اور نیب اصلاحات پر ہے، جب کہ معاشی ماہرین چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ فوری طور پر معیشت کی بہتری کے لیے قدم اٹھائے جائیں لیکن حکومت چوں کہ کئی سیاسی پارٹیوں پر مشتمل ہے اور ہر ایک کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں اسی لیے انہیں معیشت کی پروا نہیں جب کہ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں معاشی صورت حال کا صحیح طور پر ادراک نہیں ہے۔
اس وقت سب سے بڑا مسئلہ پٹرولیم مصنوعات اور بجلی پر سبسڈی کا ہے جو فروری 2022ء میں اس وقت کے وزیرخزانہ شوکت ترین نے عوام کو دی تھیں اور ان کے مطابق ان میں آئل پر سبسڈی کی مالیت 110 ارب روپے اور بجلی پر 136 ارب روپے تھی اور اس طرح ان کی مجموعی مالیت 246 ارب بنتی تھی۔ اسی مالی بوجھ کو برداشت کرنے کے لیے شوکت ترین صاحب کا کہنا یہ تھا کہ ترقیاتی پروگرام سے 100 ارب روپے، صوبوں سے 140 ارب روپے اور قومی کمپنیوں کے منافع سے 110 ارب روپے لے کر یہ خسارہ پورا کیا جائے گا۔ اب جب کہ مارچ اپریل اور پھر مئی کا نصف گزر چکا ہے، سرکاری خزانے میں کوئی پیسہ نہیں آیا۔ دوسری طرف انٹرنیشنل مارکیٹ میں روس یوکرین جنگ کے باعث، آئل کے نرخ ابھی تک کم نہیں ہوئے ہیں۔ چناں چہ ان سبسڈیز کی مالیت بڑھتی جارہی ہے اور جون تک یہ خسارہ بجلی کی مد میں 150 ارب روپے، پٹرولیم مصنوعات کی مد میں 360 ارب روپے اور ان پر ٹیکسز وصول نہ ہونے سے 250 ارب کا ہوگا۔ جس کی مجموعی مالیت 760 ارب روپے ہوجائے گی۔ شوکت ترین صاحب نے اس سبسڈی کے اعلان سے پہلے نہ تو پاور ڈویژن کے سیکرٹری اور نہ ہی کابینہ سے مشورہ کیا۔
اس سبسڈی کے باعث آئی ایم ایف کے وفد سے مارچ میں ہونے والے مذاکرات ناکام رہے اور ایک ارب ڈالر کی قسط وصول نہ ہو سکی، اب آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک دونوں کا مطالبہ ہے کہ بجٹ خسارہ بڑھتا جارہا ہے۔ اس لیے ان سبسڈی کو ختم کیا جائے۔ اگر پٹرول اور ڈیزل کے نرخ بڑھائے جاتے ہیں تو مہنگائی کا طوفان آجائے گا تو مخلوط حکومت جو پہلے ہی اعتراضات، الزامات اور شکایات کی زد میں ہے وہ مزید عمران خان کی توپوں کا نشانہ بنے گی اس لیے کوئی قدم اٹھانے سے گریز کیا گیا ہے مگر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی بات نہ مانی گئی تو چین اور سعودی عرب سے بھی کچھ نہیں ملے گا۔ زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل کم ہورہے ہیں، تجارتی خسارہ بھی اب تک 40 ارب ڈالر ہوگیا ہے۔ آئی ایم ایف کا وفد جو 18 مئی کو پاکستان آرہا ہے اس سے پہلے پہلے ان سبسڈیز کے معاملے میں حکومت کو کوئی قدم اٹھانا ہوگا ورنہ ملکی معیشت اور سالمیت سخت خطرے میں پڑسکتی ہے۔