سیالکوٹ میں پولیس گردی ‘ تحریک انصاف کا سپریم کورٹ سے سو موٹو نوٹس لینے کا مطالبہ

156

اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف نے سیالکوٹ میں پولیس کی کارروائی کو لندن پلان پرعملدرآمد کا آغاز قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ سے سو موٹو نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ جلسے میں پولیس گردی پر تحریک انصاف کے رہنما اور ماہرقانون ڈاکٹر بابر اعوان نے رد عمل دیتے ہوئے سیالکوٹ میں لندن پلان پر عملدرآمد کا آغاز ہوگیا ہے،پی ٹی آئی کے خالی ہاتھ پرامن کارکنوں کی گرفتاری آئین کی توہین ہے‘ سیالکوٹ میں آئینی حقوق کی پامالی پرسپریم کورٹ سو موٹو نوٹس لے‘عمران خان ہر صورت سیالکوٹ جائینگے اورخطاب بھی ہوگا‘گرتی معیشت میں امپورٹڈ حکومت تشدد کا راستہ کھولنے سے باز رہے‘عدل کے دروازے کارکنوں کیلئے24گھنٹے کھلے رہنے چاہئیں‘ جلسہ توہوگایہ پاکستان ہے سری لنکا نہیں۔

بابراعوان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے خالی ہاتھ پرامن کارکنوں کی گرفتاری آئیں کی توہین ہے، سیالکوٹ میں آئینی حقوق کی پامالی پرسپریم کورٹ سو موٹو نوٹس لے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ عدل کے دروازے کارکنوں کیلئے24گھنٹے کھلے رہنے چاہئیں، جلسہ توہوگایہ پاکستان ہے سری لنکا نہیں، عمران خان ہر صورت سیالکوٹ جائیں گے اورخطاب بھی ہوگا،گرتی ہوئی معیشت میں امپورٹڈ حکومت تشدد کا راستہ کھولنے سے باز رہے۔

یاد رہے آج صبح پولیس نے سیالکوٹ میں پی ٹی آئی کی جلسے کی تیاری میں مصروف کارکنوں پر دھاوا بول دیا اور اسٹیج سے کرسیاں سمیت دیگرسامان اٹھا کر پھینک دیا۔

تحریک انصاف کے کارکنوں سے پنڈال خالی کرانے کیلئے پولیس کی آنسو گیس اورلاٹھی چارج کیا، جس کے باعث کئی کارکن زخمی ہوگئے۔

پولیس نے کرین کی مدد سیاسٹیج ہٹانے کی کوشش کی تو کارکنان سامنےآگئے اور مزاحمت پر عثمان ڈارسمیت متعدد کارکنان کو گرفتار کرکے ساتھ لے گئے۔