بڑھتی سیاسی کشیدگی معیشت کو دیوالیہ کر سکتی ہے ، میا ںزاہد حسین

107

کراچی (اسٹاف رپورٹر)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کمزورمعیشت جارحانہ سیاست کی مزید متحمل نہیں ہوسکتی۔ تیزی سے بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال اوربڑھتا ہوا سیاسی درجہ حرارت مل کرمعیشت کودیوالیہ کرسکتا ہے۔ اہم معاملات پرفیصلوں کوٹالنے کی پالیسی اوراہم رہنماؤں کے متضاد بیانات کے نہ ختم ہونے والے سلسلے سے اقتصادی عدم استحکام اور بے یقینی بڑھ رہی ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ملکی حالات تشویشناک ہیں جبکہ دوسری طرف روس اور یوکرین کی جنگ کی وجہ سے ساری دنیا میں مہنگائی، زرعی اشیاء کی قلت اوربے چینی بڑھ رہی ہے مگراس کے باوجود ہماری حکومت نے ابھی تک اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کسی واضح اقتصادی لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا ہے جوپریشان کن ہے۔ موجودہ حکومت کے آتے ہی عوام اورکاروباری برادری نے سکھ کا سانس لیا تھا اوروہ معاشی حالات میں بہتری کی توقع کررہے تھے مگران کی ساری خوش فہمی جلد ہی ختم ہوگئی اوراب وہ مستقبل کے اندیشوں کی وجہ سے سہمے ہوئے ہیں۔ موجودہ مشکل حالات میں دوست ممالک نے صرف تسلیاں ہی دی ہیں جس کے بعد حکومت کے پاس آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا ہے جس سے قرض لینے کی صورت میں افراط زرجوپہلے ہی تیرہ فیصد ہے مزید بڑھ جائے گا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط سے مہنگائی بڑھے گی اورحکومت کی ساکھ متاثرہوگی مگراس کڑوی گولی کونہ نگلا گیا تو معیشت مکمل تباہ ہوجائے گی۔ اس وقت روپیہ مسلسل کمزورہورہا ہے، ڈالرمہنگا ہوتا جا رہا ہے، درآمدات بڑھ رہی ہیں اورکرنٹ اکاؤنٹ ومالیاتی خسارہ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے جس کا حل نکالنا ضروری ہے ورنہ پاکستان جلد ہی خاکم بدہن سری لنکا کی طرح دیوالیہ ہو جائے گا۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ درآمدات میں کمی کے لیے کم ازکم ایک درجن شعبوں پرڈیوٹی میں دوسوسے تین سو فیصد تک اضافہ کیا جائے تواس سے امپورٹ بل کم ہوجائے گا جس پرفوری عمل درآمد کی ضرورت ہے۔