بدین ، مختلف حادثات و واقعات میں 4 افراد جاں بحق ، متعدد زخمی

59

بدین،کھوسکی (نمائندگان جسارت) بدین مختلف حادثات اور واقعات میں چار سے زائد افراد فوت متعدد زخمی، بدین میں صبح سویرے سبزی منڈی سے واپس گھر کی جانب جانے والے قاسم سومرو نامعلوم افراد کی فائرنگ سے قتل ورثا کا ڈی چوک پر دھرنا وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی پیر نوراللہ قریشی رکن سندھ اسمبلی حاجی تاج محمد ملاح ایس پی بدین نے دھرنے کی جگہ پہنچ مظاہرین کو فوری گرفتار کرنے کی یقین دہانی۔ دوسرا واقعہ بدین تھرکول روڈ تیزرفتار ڈمپر نے موٹر سائیکل سوار کو کچل دیا ایک فوت ایک زخمی تیسرا واقعہ کھوسکی میں ڈمپر کی ٹکر سے 3 افراد فوت ۔تفصیلات کے مطابق بدین شہر کے امیج کو خراب کرنے کی سازش کی جارہی ہے عوام کے جان اور مال بھی محفوظ نہیں، آئے دن شہر میں قتل اور غارت گری کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے بدین پولیس امن قائم کرنے میں ناکام ہوگئی جس کی وجہ سے شہر میں یومیہ چوری ڈکیتی رہزنی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے صبح سویرے سبزی فروش کے جانب جانے والے نوجوان محمد قاسم سومرو واپسی پر آرمی شوگر ملز کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔ ورثا نے نعش انڈس اسپتال منتقلی کے بعد ورثا نے نعش رکھ کر دھرنا دیا دھرنے میں شہری اور سومرو برادری کے لوگوں نے شرکت کی دھرنے کے دوران پورے شہر میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی دوگھنٹے جاری والے دھرنے کے دوران کراچی اور حیدرآباد جانے والی ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی دھرنا مسلسل جاری رہنے کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی پیر نوراللہ قریشی رکن سندھ اسمبلی حاجی تاج محمد ملاح ایس ایس پی بدین شاہ نواز چاچڑ دھرنے پہنچ کر قاتلوں کی فوری گرفتاری کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد ورثا نے دھرنا ختم کرکے نعش لے کر روانہ ہوگئے اپنے آبائی گاؤں میں تدفین کی گئی آخری اطلاعات تک مقتول کے چار ملزمان پولیس نے شک کی بنیاد پر گرفتار کرلیے ہیں جبکہ مزید تحقیقات جاری ہے۔ دوسرا واقعہ بدین تھرکول روڈ پر پیش آیا تیز رفتار ڈمپر کا موٹرسائیکل سوار پر تصادم ہوا جس کے نتیجے میں 55 سالہ محمد اشرف کھوسہ موقع پر جاں بحق ہو گئے جبکہ فتح خان کھوسہ شدید زخمی ہو گئے جنہیں تشویشناک حالت میں حیدرآباد منتقل کیا گیا جبکہ پولیس نے ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار کرکے ڈمپر کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے تیسرا واقعہ کھوسکی شہر کے قریب پیش آیا ڈمپر نے سوزوکی کو ٹکر مار دی جس کے نتیجے میں 35 سالہ کزبانو زوجہ محراب خاصخیلی، نازیہ زوجہ مولا بخش خاصخیلی فوت ہوگئے جبکہ 8 سے زائد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جن کو طبی امداد کے لیے بدین اور کراچی ریفر کیا گیا ہے۔