کراچی دھماکے میں غیر ملکی ایجنسیاں ملوث ہوسکتی ہیں،تفتیشی افسران

97

کراچی (اسٹاف رپورٹر)صدر بم دھماکے میں را اور ملک میں سرگرم ایک سے زائد کالعدم تنظیمیں ملوث ہوسکتی ہیں، اس بات کا امکان دھماکے کی تفتیش کر نے پولیس افسران نے کیا، ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی وارادت میں غیرملکی ایجنسیز کا ملوث ہونا خارج از امکان نہیں، دھماکا خیز مواد مقامی لیکن طاقتور نوعیت کا تھا، ہوسکتا ہے کہ بم کسی اور کالعدم تنظیم نے تیار کیا ہو۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے سائیکل بم بلوچستان میں کالعدم قوم پرست تنظیمیں استعمال کرتی ہیں، ابتدائی تحقیق کے مطابق دہشتگرد پاسپورٹ آفس کی جانب سے سائیکل بم لایا، سائیکل کچرا کنڈی کے قریب کھڑی کر کے دہشت گرد ہوٹل پر بیٹھ گیاتفتیشی حکام کے مطابق کوسٹ گارڈز کی گاڑی آنے پر اس نے ریموٹ کنٹرول سے بم دھماکا کیا، دھماکا کرنے کے بعد دہشت گرد چائے کے ہوٹل سے پیچھے کی طرف سے فرار ہوگیا۔سی سی ٹی وی ویڈیو میں دھماکا کرنے والے کو دیکھا جاسکتاہے، دھماکا کرنے والا ایک نوجوان ہے۔ بم ڈسبوزبل اسکواڈ کی رپورٹ کے مطابق بم دھماکا دیسی طور پر تیار شدہ آئی ای ڈی سے ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا،ماضی میں اس نوعیت کے 2 دھماکے کیے گئے ،ایک دھماکا شیری جناح کالونی دوسرا ماڑی پور روڈ پر کیا گیا تھا،رپورٹ کے مطابق دھماکے میں استعمال ہونے والی سائیکل کے کیریئر پر دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا تھا۔بم ڈسپوزل اسکواڈ کو جائے وقوع سے سائیکل کے ٹکڑے ملے ہیں، ان ٹکڑوں میں ٹائر،رم،اسٹینڈ،چین اور گیئر ملے ہیں۔ جائے وقوعہ سے 55 اسٹیل بال بیئرنگ بھی ملے۔یہ شہرمیں 17 دنوں کے دوران دہشت گردی کی دوسری کارروائی ہے۔علاوہ ازیں کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ صدر دھماکے سے متعلق مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے، پاکستان کوسٹ گارڈ کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے یا نہیں تفتیش کر رہے ہیں۔گاڑی میں موجود تمام افراد محفوظ رہے۔کوسٹ گارڈ کی گاڑی صدر سے گارڈن کی جانب جا رہی تھی، کوسٹ گارڈ کی گاڑی کی ریکی کے بھی شواہد نہیں ملے۔ان کا کہنا ہے ابتدائی طور پر لگتا ہے کہ دھماکا ٹائم ڈیوائس سے کیا گیا۔ مزید برآں پاکستان گوسٹ گارڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اعلامیہ کے مطابق دھماکے کی زد میں آنے والی پاکستان گوسٹ گارڈ کی گاڑی میں 3 افراد سوار تھے دھماکے کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے، زخمی ہونے والے گن مین اور ڈرائیور تھے ،دھماکے میں کوسٹ گارڈ کی گاڑی کو خصوصی طور پر نشانہ نہیں بنایا گیا، دھماکے کی جگہ کے قریب سے گاڑی گزر رہی تھی۔