آزادی کے 75سال، ڈھائی مہینے کا تقاضا

225

لڑکپن کا زمانہ تھا، محلے میں کرکٹ، فٹ بال کھیلا کرتے تھے۔ مسجد سے بھی قربت تھی۔ گھر میں دین و دنیا کے حساب سے تربیت کا بھی معقول انتظام تھا اور جس درس گاہ کا والدین نے انتخاب کیا وہاں بھی تعلیم کے ساتھ ساتھ مستقبل کا معمار بنانے کی سوچ موجود تھی۔ میٹرک کے بعد جب کالج میں قدم رکھا تو کچھ آزادی میسر آئی۔ اسی دوران محلے کے چند نوجوان گھر آئے اور انہوں نے مسجد آنے کی دعوت دی۔ حیرت ہوئی کہ مسجد تو الحمدللہ تقریباً پنج وقتہ نمازوں کے لیے جانا رہتا ہی تھا۔ لیکن اس پیغام و دعوت کا مقصد کچھ اور تھا اس دن پتا چلا کہ تبلیغی جماعت کا ہفت روزہ بیان اور گشت ہے۔ ظاہر ہے ایک اچھے ماحول میں دین کی کچھ باتیں سیکھنے کو ملیں یا یوں کہہ لیں کہ پہلے سے سنی ہوئی نیک و اصلاحی باتوں کا اعادہ ہو جائے تو وقت کا اچھا استعمال ہی کہلایا گا۔ ایک صاحب نے کھڑے ہوکر آواز لگائی کہ بھئی مرکز سے بات چلی ہے کہ کچھ تقاضے ہیں۔ جو لوگ چلا لگانا چاہتے ہیں وہ ہاتھ کھڑا کرلیں، آخر میں سہ روزہ کے لیے ہاتھ اٹھائے گئے لیکن راقم نے اس پر گردن جھکائے رکھی۔ یہ سلسلہ گاہے گاہے محلے کی مساجد میں چلتا رہا۔ آج قوم جب آزادی کے 75سال ہونے پر جشن منانے جارہی ہے تو حالات کو دیکھتے ہوئے وہ وقت یاد آگیا جب ایک تبلیغی جماعت سے جڑے حضرت نے ’’تقاضا‘‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔

اسی کو میں نے آج کا موضوع بنایا ہے۔ کیوں نہ ہم بھی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی آزادی کے 75سال مکمل ہونے کا جشن مناتے وقت ہر ہر سطح پر اپنے آپ کو پیش کردیں۔ یعنی وہ اکابرین جنہوں نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا، وہ شہدا جنہوں نے اس کے لیے ہجرت کے وقت اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور وہ لواحقین و وارثین جن کے اپنے اس معرکے میں کام آگئے ان کی روح نئی نسل سے ڈھائی مہینے کا تقاضا کر رہی ہے۔ اس مناسبت سے 75دن بنتے ہیں یعنی ہر سال کے لیے ایک دن۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ جو تبلیغی جماعت کا نصاب اور طریقہ کار ہے اس کا یہ کوئی جوڑ یا متبادل ہے مگر ہاں! یہ ضرور ہے کہ اس سے مثبت تبدیلی کا پہلو ضرور اجاگر ہوگا یعنی ’’تبدیلی کے لیے تبدیل ہونا ضروری ہے‘‘۔ آئیے ہم بلاکسی ڈر و خوف اور لالچ رب کو حاضر و ناظر جان کر اپنے نام اس ’’تقاضے‘‘ کے لیے پیش کردیں۔ یکم جون سے اگر شروع کریں تو کم و بیش 14اگست کی شب کو 75دن یا ڈھائی مہینے مکمل ہوجائیں گے۔

اس کے لیے کرنا یہ ہے کہ جو بھی اس کے لیے تیار ہے اور 50، 40، 30 یا 25سال اس کی عمر ہے تو وہ اپنا محاسبہ اس کے حساب سے کرلے۔ سب سے پہلے تو اس کا ذہن اس بات پر یکسو ہو کہ یہ ملک اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ سے سوال کرے کہ اس نے اس ملک کی بقا، دوام، ترقی اور جس مقصد کے لیے یہ ملک معرض وجود میں آیا تھا یعنی دین اسلام کو سرزمین پاک پر نافذ کرنا۔ اس اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کتنا وقت، مال اور صلاحیتوں کو کھپایا ہے۔ پھر وہ اپنے اطراف دیکھے کہ یہاں وہ کون سی شیطانی طاقتیں ہیں جنہوں نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا۔ اس نے جو علم اور تجربہ حاصل کیا ہے اس کی روشنی میں وہ جب تک زندہ ہے آئندہ آنے والے برسوں میں اس ملک کی کیا خدمت کرسکتا ہے؟۔ غرض کہ ہر سال کا محاسبہ ایک دن کے حساب سے کرتا چلا جائے تو ان شاء اللہ یقین نہیں تو نیک گمان ضرور کیا جاسکتا ہے کہ ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے والوں سے وہ کسی حد تک انفرادی و اجتماعی طور پر نمٹ سکتا ہے اور ان طاغوتی نظام کے علم برداروں کے آگے بند باندھ سکتا ہے۔ یہ ایک کام ہے اور کام کی انجام دہی اور اس کی کامیابی کے لیے سب سے پہلے خواہش، حکمت عملی اور ایک پروگرام کو ترتیب دینا اولین شرائط میں سے ہے۔ آئیے، آغاز کریں اور دوسروں کو ترغیب دے کر آنے والا ’’یوم آزادی‘‘ کو کچھ ہٹ کر منائیں۔ یقین جانیے اس زاویے کی روشنی میں 75سال مکمل ہونے پر آپ جشن کا مزہ ہی مختلف پائیں گے۔