صدارتی نظام ،ہمارے پاس سیاسی نظام کی تبدیلی کا کوئی اختیار نہیں ،عدالت عظمیٰ

87

اسلام آباد (آن لائن) عدالت عظمیٰ نے ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کیلیے ریفرنڈم کروانے سے متعلق دائر درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔ عدالت عظمیٰ سے جاری تحریری فیصلہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا۔ عدالت عظمیٰ سے جاری فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ صدارتی نظام سے متعلق دائر درخواستوں میں سیاسی نوعیت کا سوال اٹھایا گیا،سیاسی نوعیت سے متعلق سوال پر آئین اور قانون میں رہنمائی موجود نہیں، آئینی رہنمائی کی عدم موجودگی میں سیاسی سوال پر فیصلہ دینے کی پوزیشن میں نہیں،عدالت کے پا س ملک میں سیاسی نظام کی تبدیلی کا فیصلہ دینے کا کوئی اختیار نہیں،عدالت عظمیٰ آئین پاکستان کی رہنمائی کے بغیر کسی کارروائی کا اختیار نہیں رکھتی، عدالت عظمیٰ کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ سیاسی نظام کی تبدیلی کا حکم دے،درخواستوں پر رجسٹرار سپریم کورٹ آفس کے اعتراضات درست ہیں،ملک میں صدارتی نظام کے قیام کیلیے ریفرنڈم کرانے سے متعلق دائر درخواستیں نا قابل سماعت ہیں۔واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نے 27 ستمبر 2021 کو ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کیلیے ریفرنڈم کروانے سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران رجسٹر آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے مزکورہ درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیکر آبزرویشن دی تھی کہ صدارتی نظام کیلیے دائر درخواستوں میں اٹھایا گیا نقطہ سیاسی ہے،صدارتی نظام کے لیے آئین کوئی رہنمائی نہیں کرتا،آئین پاکستان جمہوری نظام حکومت کی بنیاد پر ہے،آئین پاکستان کی بنیاد پارلیمانی نظام ہے ، عدالت عظمیٰ آئین پاکستان کی رہنمائی کے بغیر کسی کارروائی کا اختیار نہیں رکھتی، عدالت عظمیٰ کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ سیاسی نظام کی تبدیلی کا حکم دے۔