ادارے پی ٹی آئی کا سہارا بنیں تو ٹھیک نہ بنیں تو تنقید ، فضل الرحمٰن

136
کراچی: پی ڈی ایم کے سربراہ موالانا فضل الرحمن کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

کراچی (نمائندہ جسارت) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارے جب تک ان کا سہارا بنیں تو سب ٹھیک، نہ بنیں تو تنقید، تبدیلی کے نام پر پچھلا الیکشن لڑنے کے والے اب آزادی کے نعرے لگارہے ہیں،قوم نقالوں سے ہوشیار رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کراچی پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس سے خطاب میں کیا۔ اس موقع پر کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی ، سیکرٹری رضوان بھٹی، جمعیت علما اسلام کے مولانا راشد محمود سومرو مولانا سعید یوسف کشمیری، قاری محمد عثمان ، مولانا غیاث ، مولانا سمیع سواتی، بابر قمر عالم اور دیگر بھی مو جود تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ایک طرف قوم کا کرب مہنگائی، بھوک ہے، 70 سال کے سفر کو ساڑھے 3 سالوں میں گرا دیا گیا، سعودی عرب بھی پاکستان سے ناراض ہے، چین نے مایوسی، ناراضگی کی وجہ سے سرمایہ کاری سے ہاتھ اٹھالیا، چین نے سی پیک منصوبہ شروع کردیا تھا، چین اپنی ہی انویسٹمنٹ سے دستبردار ہو گیا، خود اندازہ لگائیں ملک کی اندرونی معاشی پالیسیوں کا چین پرکتنا اثرپڑا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے راستے سے حکومت کو گرایا گیا، حکومت کو گرایا تو پاکستان کی ایلیٹ کلاس، ریٹائرڈ بیوروکریسی میں کھلبلی نظرآئی، ان گوشوں سے دفاعی، سیاسی قیادت پر کیوں پریشر آ رہا ہے، ورلڈ بینک کے دباؤ کا تسلسل ابھی ختم نہیں ہوا لہٰذا آفٹر شاکس آتے رہیں گے، ابھی جزوی، ضمنی قسم کی کامیابیاں ہیں آگے بڑھنا ہے، ہم نے ان کونظریاتی شکست دینی ہے۔ ہم نے مشورے دیے تھے کہ اسمبلیوں سے حلف نہیں اٹھانا چاہیے، اس وقت ایوان میں چلے گئے بعد میں کہا گیا ہماری رائے ٹھیک تھی، جعلی حکمران اگراچھی کارکردگی دکھاتے تو شاید معاملے کو کور کر لیتے، ایک طرف ناکامی، نااہلی جمع ہوئی تو پھرعوام نے ہمارا ساتھ دیا، ہم نے ملک بھرمیں ملین مارچ کیے، ایک فضا بنی تو اداروں نے بھی تسلیم کرلیا یہ نظام اب چلنے والا نہیں۔انہوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اداروں سے مطالبہ تھا کہ آپ فریق نہ بنیں، فوج فریق نہیں ریاست کا ادارہ ہے، اللہ کا شکرادا کرتا ہوں ہم نے اپنی حدود سے تجاوزنہیں کیا، جب ادارہ آئینی دائرہ کے اندر جانا چاہتا ہے تو پھران کو جانور سے تعبیرکیا جاتا ہے، ان کو میر جعفر کے لفظ سے پکارا جاتا ہے، جب تک ان کا سہارا بنے تو پھر ٹھیک؟ مجھ سے انٹرویومیں پوچھا گیا آزادی کی بات تو میں کرتا تھا آج عمران کر رہا ہے، پچھلا الیکشن تبدیلی، نیا الیکشن آزادی کے نعرے سے لڑنا چاہتا ہے، نقالوں سے ہوشیار رہنا چاہیے، دنیا کی معیشت یہودیوں کے ہاتھ میں ہے، پشتون علاقوں میں مذہب کی گہری جڑیں ہیں، اس لیے وہ صوبہ اس کو دیا گیا۔ امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) کا کہنا تھا کہ چند روز پہلے بیوروکریٹس بھی ملاقات میں موجود تھے، جو راستہ پچھلی حکومت کو دکھایا گیا وہی راستہ ہمیں بھی دکھایا گیا، وہی سبق ہمیں پڑھایا جارہا ہے، آئی ایم ایف شرائط کوقبول نہیں کریں گے تو دیوالیہ ہوجائیں گے، ہمیں ان ماہرین کی ضرورت ہے جوآئی ایم ایف کا دباؤ قبول نہ کریں، میں نے کہا کون ہے یہ بیوروکریٹ جو پرانا سبق یاد کرا رہا ہے، ابھی تک تو حکومت ہی نہیں بنی، پرانے بیوروکریٹس کوتبدیل کرنا ہو گا، ہمارے پاس صلاحیت اور نیا فارمولا ہونا چاہیے، آئی ایم ایف کوئی آسمان سے نہیں اترا، نئے فارمولوں کی طرف جانا ہو گا، آئی ایم ایف کے جعلی حکومت کے ساتھ معاہدوں پرعملدرآمد کرنے کی ضرورت نہیں، ہمارے ساتھ آئی ایم ایف کو ازسرنو معاہدے کرنا ہوں گے، ساڑھے 3 سال کے گند کوکہتے ہیں 3 دن میں نہیں اٹھایا، جمعہ، جمعہ آٹھ دن میں پالیسیاں نہیں بنتیں، مہنگائی میں اونچ، نیچ ہوتی رہے گی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فیٹیف کے دباؤ پر قانون سازی کی گئی، آئی ایم ایف کے نمائندے کو پہلی دفعہ گورنراسٹیٹ بینک بنایا گیا، سب کچھ امریکا کی رہنمائی میں چل رہا تھا اورآج امریکا مخالف چورن بیچنے پرآگئے ہو، 2017میں تقریرمیں کہا تھا نائن الیون کے بعد امریکا کوجغرافیائی تقسیم چاہیے، سیاسی عدم استحکام کے لیے پناما اورمعاشی عدم استحکام کے لیے عمران خان آگیا۔ سابق وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہتا ہے اگرفوج نہ ہوتی تو پاکستان 3 حصوں میں تقسیم ہوجاتا، تین حصوں والی آگاہی کہاں سے آگئی، ریاست کا دفاع کرنے والے اداروں میں تقسیم میں لگے ہیں، اداروں سے اختلاف ہم نے بھی کیے لیکن حدود کے اندر کیے، کل کہا گیا اگر ڈاکا پڑے تو چوکیدارنیوٹرل نہیں ہوسکتے، بھائی سن لو وہ چوکیدارحکومت نہیں ریاست کے چوکیدارہے، حکومت کی چوکیدارعوام ، سیاسی نظام اور جمہوریت ہے، اب توسمجھ آگئی ہے یہ کس کے سہارے چل رہے تھے، 19مئی اور21مئی کوہمارا جلسہ ہوگا۔ خط سے متعلق انہوں نے کہا کہ آج کا بیانیہ جعلی خط ہے، قومی سلامتی کمیٹی، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھی کہا جھوٹ پروپیگنڈا ہے۔