حیدر آباد ، گندم کے نرخوں کو پھر پر لگ گئے

75

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر ) حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں گندم کے نرخوں کو پر لگ گئے۔ ایک ہفتہ کے دوران اوپن مارکیٹ میں 100 کلو گندم کی بوری پر ریکارڈ 450 روپے تک کا اضافہ جبکہ نئی فصل کی آمد سے ابھی تک 1000 روپے بوری کا اضافہ 5800 روپے میں فروخت ہونے والی گندم کی بوری کی قیمت 6250 روپے ہوگئی ۔ قیمتوں میں اضافے کا اندیشہ۔ وزیر اعظم کا کپڑے بیچ کر سستا آٹا فروخت کرنے کا دعوی وفاق کی جانب سے 30 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا اعلان بھی کام نہ آسکا۔ محکمہ خوراک سندھ کی بد ترین نااہلی گزشتہ کئی سالوں سے سرکاری سطح پر گندم خریداری کا ہدف حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا۔دفعہ 144 کے تحت لگائی جانے والی ضلع بندی افسران نے کمائی کا ذریعہ بنالی،گندم کی گاڑیاں مبینہ بھاری رشوت کے عوض چھوڑنے لگے۔ مہنگائی کے ہاتھوں پریشان عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔رمضان المبارک کے آخری عشرے میں دو ارب روپے سے زائد گندم پر سبسڈی کے تحت رولر فلور ملز کو فراہم کردہ گندم دینے کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران اوپن مارکیٹ میں 5800 روپے میں فروخت ہونے والی 100 کلو گندم کی بوری کی قیمت بدھ کو 450 روپے اضافے کے ساتھ 6250 تک جاپہنچی جس میں مزید اضافہ کا اندیشہ ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ خوراک سندھ کی نااہلی کی وجہ سے ہر سال کی طرح رواں سال بھی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ 14 لاکھ ٹن گندم خریداری کا ہدف پورا کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔اس ضمن میں دفعہ 144 کے تحت لگائے جانے والی ضلع بندی بھی کام نہ آسکی کیونکہ محکمہ خوراک سندھ کے افسران نے گندم کی نقل و حمل کو ہدف پورا کرنے کے بجائے اپنی کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے۔ضلع سے باہر جانے والی گندم سے بھری گاڑیوں کو روک کر ان سے مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عیوض چھوڑ دیا جاتا ہے اس عمل سے اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ذرائع کے مطابق رواں سال سیزن گندم کی فصل آنے سے اب تک 100 کلو بوری پر ایک ہزار روپے تک کا اضافہ ہوچکا ہے جبکہ ابھی گندم کی فصل کو مارکیٹ میں آئے ہوئے 2 ماہ ہی گزرے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ خوراک سندھ کئی سالوں سے سرکاری طور پر گندم خریداری کا ہدف حاصل کرنے میں مسلسل ناکام دکھاء دے رہا ہے اس کے پیچھے کون سے محرکات کار فرما ہیں جو سندھ کے عوام کو بنیادی اشیاء گندم اور آٹا کے حوالے سے پریشانیوں کے ساتھ مہنگائی میں مبتلا کیے ہوئے ہیں اور ان عناصرز کے خلاف کسی سطح پر کوئی کارروائی ہوتی دکھائی نہیں دیتی جس کی وجہ سے ان کے حوصلے وقت گزرنے کے ساتھ بلند سے بلند تر ہوتے جا رہے ہیںاور سندھ کے عوام گزشتہ کء سالوں سے عذاب میں مبتلا ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت سندھ کی جانب سے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں 2 ارب روپے سے زائد کی گندم پر سبسڈی دے کر سندھ کے رولر فلور ملز کو گندم فراہم کی گئی جس کا مقصد عوام کو سستا آٹا فروخت کرنا تھالیکن دیکھنے میں آیا کہ عوام کو اس طرح سستا آٹا فروخت نہیں کیا گیا۔عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ قومی خزانے سے گندم پر 2 ارب روپے سے زائد سبسڈی کے تحت سستا آٹا فروخت کرنے کی شفاف عدالتی تحقیقات کراکر اصل حقائق عوام اور میڈیا کے سامنے لائے جائیںتاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے۔