مسجد نبویﷺ واقعے پر توہین مذہب کے مقدمات درج نہ کرنیکا حکم

56

 

 

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کو مسجد نبوی واقعہ پرتوہین مذمت کے مقدمات درج نہ کرنے کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے مسجد نبوی واقعے پر فواد چودھری، قاسم سوری اور شہباز گل کی درخواستوں کو یکجا کرکے سماعت کی۔ ا س موقع پر فواد چودھری نے عدالت میں بیان دیا کہ حیران ہوں ان کیسز پر، مارشل لا بھی رہا مگر کسی حکومت نے توہین مذہب کے قانون کواس طرح استعمال نہیں کیا، وزیر داخلہ کے بارے میں نہیں کہتا، مگر وزیر قانون پر حیرت ہے۔ فواد چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے کوئی فساد تو نہیں کرانے، ایک دوسرے کی لاشوں پرچڑھ کر تو وزیر نہیں بننا ہوتا، ایسا رواج شروع کیا ہے کہ اس کے سنگین نتائج ہیں۔چیف جسٹس نے فواد چودھری سے استفسار کیا کہ کیا یہ عدالت اس کیس میں کارروائی کو آگے چلائے؟ آپ کو اس پر اعتماد ہے؟ اس پر سابق وزیر نے کہا کہ عدالت پر اعتماد نہیں ہو گا تو کس پر ہو گا؟ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ سیاسی قیادت ہی سوسائٹی میں تبدیلی اور صبر لا سکتی ہے، مذہب کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرنا خود توہین مذہب ہے، اس طرح 2018 ء میں بھی ہوا اور پہلے بھی ہوتا رہا، یہ بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک غیر ملکی کو سیالکوٹ میں مارا گیا اور مشال خان کا واقعہ بھی سامنے ہے، یہاں پر بھی جو کیسز درج ہو رہے ہیں وہ درست معلوم نہیں ہوتے۔عدالت نے مسجد نبوی واقعہ پرکیسز کے خلاف قاسم سوری کی درخواست پروفاق اور دیگر کونوٹس جاری کردیا۔ایف آئی اے نے عدالت میں جواب کرایا جس میں مؤقف اپنایا کہ مسجد نبوی واقعے کے تناظر میں کاؤنٹرٹیررازم ونگ اورسائبر کرائم ونگ میں کوئی کارروائی شروع نہیں ہوئی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کے جواب کے بعد کہا کہ واقعے پرمقامی پولیس نے کارروائیاں کی ہیں۔