ممنوع فنڈنگ کیس میںاسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ مسترد

56

اسلام آباد(آن لائن)جمعرات کو الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے تحریک انصاف ممنوع فنڈنگ کیس کی سماعت کی، تحریک انصاف کے وکیل انور منصور نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ا سکروٹنی کمیٹی کے اندر کوئی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ نہیں تھا، 2011 میں ڈونیشن بڑھتی جارہی تھیں اس کی تمام تفصیلات، ملک، شہر شخص کا نام موجود ہے انہوں نے کہاکہ اٹلانٹا سے 26000 ہزار سے زائد ڈالرز آئے ان کے ساتھ شناختی کارڈ نہیں ہیں لیکن نام موجود ہیں تاہم ا س وقت شناختی کارڈ کی شرط موجود نہیں تھی اورشناختی کارڈ کی شرط 2018 میں آئی ہے انہوںنے کہاکہ اورلینڈو سے 29000 ڈالر آئے اور اس وقت کی شرائط پوری تھیں ۔انہوںنے کہاکہ اسکروٹنی کمیٹی کہتی ہے کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ نے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال نہیں کی۔ہم نے ایک ایک ڈاکومنٹ کو امریکاسے سرٹیفائی کیا، انہوں نے کہاکہ ا سکروٹنی کمیٹی یہ تو بتائے کہ ہم کس طریقہ کار پر پورا نہیں اترے ؟ اسکروٹنی کمیٹی نے تحریک انصاف کے تمام ریکارڈ کو مسترد کر دیا تاہم یہ نہیں بتایا کہ کمی کہاںہے۔ انہوں نے کہاکہ ا سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں کئی جگہ لکھا ہے کہ ایسا لگتا ہے، ممکن ہے، یا ہوسکتا ہے انہوں نے کہاکہ لگتا ہے کا کیا مطلب ہے؟ ایسے الفاظ کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان کے قانون کے مطابق جوابدہ ہیںدوسرے ممالک کے قوانین ہم پر لاگو نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہاکہ اسکروٹنی کمیٹی نے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے ناموں پر اعتراض کیا یہ بالکل غلط ہے پی ٹی آئی نے کبھی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ تبدیل نہیں کیا ۔ کمیشن نے مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی۔