درآمدات اور برآمدات کو آپس میں مربوط کردیا جائے، عبدالرحیم جانو

53

کراچی(اسٹاف رپورٹر)صدر میمن لیڈر شپ فورم (گلوبل)عبد الرحیم جانونے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو لکھے گئے اپنے خط میں زر مبادلہ کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اور موجودہ حالات کے تناظر میں تجارتی خسارہ اور در آمدی بل میں کمی کے لیے تجاویز دی گئی ہیں ۔ عبدالرحیم جانو نے کہا ہے کہ در آمدات اور بر آمدات کو آپس میں مربوط کردیا جائے، بر آمدات کے ذریعے آنے والے ترسیلات زر کو در آمد کنندگان کے لیے بینک ریٹ سے نسبتاََ زیادہ قیمت پر دیا جائے ، اس سے نہ صرف بر آمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ در آمدات کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ در آمدات کو محدود کر کے زر مبادلہ کے ذخائر کو بڑھایا جاسکتا ہے، سمند ر پار پاکستانیوں کو سہولیات فراہم کر کے زر مبادلہ میں اضافہ کیا جاسکتاہے اور تجارتی خسارے کو کم کیا جاسکتا ہے،سمند ر پار پاکستانیوں کے ترسیلات زر کی مدد سے در آمدات میں کمی کی جاسکتی ہے،بینک کے ذریعے ترسیلات زر بھیجنے والے کو اس رقم کے مساوی قیمت کا ایک وائوچر دیا جاسکتا ہے جو کہ اسٹاک ایکسچینج میں موجودہ انٹر بینک ریٹ سے زیادہ قیمت پر بیچا جاسکے ۔ در آمد کرنے کا خواہشمند ان وائوچر کو بینک کے ذریعے کلیئر کراسکے ۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹر بینک ریٹ اور وائوچر ریٹ میں کم از کم تین روپے فی ڈالر کا فرق ہو تاکہ بینک کے ذریعے ترسیلات زر وصول کرنے والے کو ترغیب دی جاسکے اور ہنڈی /حوالہ سسٹم کی حوصلہ شکنی کی جاسکے ۔ اس نظام سے گورنمنٹ کو امپورٹ بل کی ادائیگی کے لیے زر مبادلہ کے انتظام کے سر درد کا خاتمہ ہوسکے گااور حوالہ/ہنڈی کے ذرائع سے رقوم کی منتقلی کم سے کم کی جاسکے گی۔ لیٹر آف کریڈٹ(ایل سی) کا کم از کم مارجن ضروریات کے لیے 30فیصد اور لگژری اشیاء کے لیے سو فیصد ہونا چاہیے ،وفاقی ، صوبائی ، نیم حکومتی اداروں ، نجی اداروں ، فیکٹریاں /غیر سر کاری دفاتر کے ملازمین کے لیے دوپہر کے کھانے کی مفت فراہمی کا انتظام کیا جائے کیونکہ اوسطاََ کھانے کے اخراجات زیادہ ہوتے ہیں ۔ اس اقدام سے نہ صرف ملازمین کی مالی طور پر مدد ہوسکے گی بلکہ دفاتر میں وقت کے ضیاع کو کم سے کم کیا جاسکے گا۔