پولیس کی شہری کے گھر پر قبضہ کرانے کی کوشش، عدالت کا نوٹس

85

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پولیس کا انوکھا کارنامہ، عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنے والی پولیس ہی شہریوں کے مال کی دشمن بن گئی، ملیر کی عدالت نے ایس پی کمپلین سیل ملیر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔ جمعرات کو ملیر کورٹ نے سائٹ سپر ہائی وے پولیس کی جانب سے شہری کا گھر کسی اور کے نام پر منتقل کرنے، خاتون اور پولیس کیخلاف مقدمہ درج کرنے سے متعلق محمد صدیق نامی شہری کی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے متعلقہ
تھانے کے ایس ایچ او کو رپورٹ سمیت طلب کرتے ہوئے سماعت 19 مئی تک ملتوی کردی۔ درخواست گزار نے بیرسٹر فیاض کے توسط سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 22 اے کے تحت مقدمہ درج کرانے کی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے موکل کے والد نے اسکیم 33 میں 6 سال پہلے گھر خریدا، گزشتہ سال امینہ نامی خاتون نے پولیس کی مدد سے گھر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، گزشتہ سال نومبر میں خاتون نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھر پر حملہ کیا، جس کی درخواست متعلقہ تھانے میں دی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی جبکہ ان کے موکل 27 مارچ کو عصر کی نماز کیلیے نکلے تو پولیس تھانے لے گئی اور غیر قانونی حراست میں رکھا اور موکل کے بھائی سے سادے کاغذ پر دستخط لیے گئے اس کے علاوہ ان کے موکل کو خاتون نے دھمکی دی کہ اگر اس کے خلاف یا پولیس کے خلاف کوئی شکایت کی تو جان سے مار دیں گے جبکہ آج خاتون پھر پولیس موبائل کے ساتھ ان کے موکل کے گھر پہنچی، گھر میں گھسنے کی کوشش کی، لہٰذا استدعا ہے کہ اعلی حکام متعلقہ تھانے کو اختیارات کے ناجائز استعمال سے روکیں۔