افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

96

نمائش فقر کا مطالبہ
رہا صحابہ کرامؓ اور نبی کریمؐ کی زندگیوں کا معاملہ جن کا آپ نے حوالہ دیا ہے‘ تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ انھوں نے کبھی اپنی زندگی میں مصنوعی درویشی پیدا کرنے کی کوشش نہیں فرمائی، اور نہ محض اس غرض سے اپنے لباس، مکان اور خوراک کا معیار کم تر رکھا کہ دیکھنے والے ان کی فقیرانہ شان دیکھ کر داد دیں۔ وہ سب بالکل ایک فطری، سادہ اور معتدل زندگی بسر کرتے تھے، اور جس اصول کے پابند تھے وہ صرف یہ تھا کہ شریعت کے ممنوعات سے پرہیز کریں، مباحات کے دائرے میں زندگی کو محدود رکھیں، رزق حلال حاصل کریں اور راہِ خدا کی جدوجہد میں بہرحال ثابت قدم رہیں، خواہ اس میں فقر وفاقہ پیش آئے یا اللہ کسی وقت اپنی نعمتوں سے نواز دے۔ جان بوجھ کر برا پہننا، جب کہ اچھا پہننے کو جائز طریقے سے مل سکے، اور جان بوجھ کر برا کھانا، جب کہ اچھی غذا حلال طریقے سے بہم پہنچ سکے ان کا مسلک نہ تھا۔ ان میں سے جن بزرگوں کو راہِ خدا میں جدوجہد کرنے کے ساتھ حلال روزی فراخی کے ساتھ مل جاتی تھی وہ اچھا کھاتے بھی تھے، اچھا پہنتے بھی تھے اور پختہ مکانوں میں بھی رہتے تھے۔ خوش حال آدمیوں کا قصداً بدحال بن کر رہنا نبیؐ نے کبھی پسند نہیں فرمایا‘ بلکہ آپؐ نے خود ان کو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی نعمت کا اثر تمھارے لباس اور کھانے اور سواری میں دیکھنا پسند فرماتا ہے۔
٭…٭…٭
میری سمجھ میں کبھی ان لوگوں کی ذہنیت نہیں آسکی جو خود اپنے لیے تو اللہ کی ساری نعمتوں کو مباح سمجھتے ہیں اور دوسرے کسی بھی شخص کا اچھا کھانا اور اچھا پہننا ان کی نگاہوں میں نہیں کھٹکتا، مگر جہاں کسی نے اللہ کے دین کی خدمت کا نام لیا، پھر اس کا سادہ لباس اور سادہ کھانا، معمولی درجے کا مکان اور فرنیچر بھی ان کی نگاہوں میں کھٹکنے لگتا اور ان کا دل یہ چاہنے لگتا ہے کہ ایسے شخص کو زیادہ سے زیادہ بدحال دیکھیں۔ شاید لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خدا کی نعمتیں صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو خدا کا کام کرنے کے بجائے اپنا کام کرتے ہیں۔ رہے خدا کا کام کرنے والے تو وہ خدا کی کسی نعمت کے مستحق نہیں ہیں۔ یا پھر شاید ان کے دماغوں پر، راہبوں اور سنیاسیوں کی زندگی کا سکّہ بیٹھا ہوا ہے اور وہ دین داری کے ساتھ رہبانیت کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں، اس لیے کھاتا پیتا دین دار ان کو ایک اعجوبہ نظر آتا ہے۔
٭…٭…٭
میرے نزدیک ہر وہ جائز سہولت جو آدمی کو دین کا کام بہتر اور زیادہ مقدار میں انجام دینے کے قابل بنائے نہ صرف جائز ہے بلکہ اس سے فائدہ اٹھانا افضل ہے، اور اسے ترک کر دینا نہ صرف ایک حماقت ہے بلکہ اگر وہ اظہار درویشی کی نیت سے ہو تو ریاکاری بھی ہے۔ آپ خود غور کریں کہ ایک شخص اگر موٹر استعمال کر کے کم وقت میں زیادہ کام کر سکتا ہو تو کیوں اسے استعمال نہ کرے؟ اگر وہ سیکنڈ کلاس میں آرام سے سفرکر کے دوسرے دن اپنی منزل مقصود پر پہنچتے ہی اپنا کام شروع کر سکتا ہو تو وہ کیوں تھرڈ کلاس میں رات بھر کی بے آرامی مول لے اور دوسرا دن کام میں صرف کرنے کے بجائے تکان دْور کرنے میں صرف کرے؟ اگر وہ گرمی میں بجلی کا پنکھا استعمال کر کے زیادہ دماغی کام کر سکتا ہو تو وہ کیوں پسینوں میں شرابور ہو کر اپنی قوتِ کار کا بڑا حصہ ضائع کر دے؟ کیا ان سہولتوں کو وہ اس لیے چھوڑ دے کہ خدا کی یہ نعمتیں صرف شیطان کا کام کرنے والوں کے لیے ہیں، خدا کا کام کرنے والوں کے لیے نہیں ہیں؟ کیا انھیں جائز ذرائع سے فراہم کرنے کی قدرت رکھتے ہوئے بھی خواہ مخواہ چھوڑ دینا اور کام کے نقصان کو گوارا کر لینا حماقت نہیں ہے؟ کیا معترضین کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کے سپاہی ہوائی جہاز پر چلیں اور خدا کے سپاہی ان کا مقابلہ چھکڑوں پر چل کر کریں؟ یا وہ چاہتے ہیں کہ کام ہو یا نہ ہو، ہم صرف ان کا دل خوش کرنے کے لیے اپنے آپ کو فقیر بناکر دکھاتے پھریں؟ (رسائل و مسائل ‘ دوم 422-424)