گڑ جیسی بات

196

شیخ رشید نے سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کو سیاست کی یونیورسٹی قرار دیا تھا اور سیاستدانوں کو مشورہ دیتے تھے کہ سیاست میں پی ایچ ڈی کرنا ہے تو آصف علی زرداری سے استفادہ کرنا بہت ضروری ہے مگر جب عمران خان سے رابطہ ہوا تو موصوف نے یوٹرن لے لیا اور خان صاحب کو پاکستان کا واحد سیاست دان کہنا شروع کر دیا اور عوام کو یہ باور کرانے میں جُت گئے کہ عمران خان کے سوا کوئی بھی شخص حکمرانی کا اہل نہیں لیکن تحریک عدم اعتماد کے ذریعے تحریک انصاف کی حکومت ختم کی گئی اگرچہ حکومت گرانے کا عمل آئینی اور جمہوری تھا مگر قوم کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی گئی کہ حکومت کا خاتمہ امریکا کی سازش کا نتیجہ ہے خیر چھوڑیے اس قصے کو کہ یہ قصہ تو پارینہ بن چکا ہے۔ شیخ رشید کے آئیڈیل سیاستدان آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک و قوم کی خوشحالی کا تعلق ایک مخصوص گروہ کی امارت نہیں قوم کی خوشحالی عوام کی خوشحالی سے وابستہ ہوتی ہے۔ بات تو درست ہے مگر اس پر عمل درآمد کا تعلق زرداری صاحب جیسے صاحب ثروت لوگوں سے ہے اگر یہ مخصوص گروہ اپنی دولت کا کچھ حصہ غریبوں کے لیے مختص کر دے تو قوم خوشحال ہو سکتی ہے اس معاملے میں وہ لوگ اہم کردار ادا کرسکتے ہیں جو حکومت میں شامل ہیں۔ لوڈ شیڈنگ کے مسئلے پر الزام تراشی کے بجائے ذہانت اور غریب پروری کا مظاہرہ کیا جائے تو لوڈ شیڈنگ ہی ممکن نہیں اس امکان کے لیے ضروری ہے جو لوگ توانائی کے متبادل ذرائع استعمال کر سکتے ہیں انہیں بجلی نہ دی جائے مہنگائی کا تعلق آمدنی سے ہوتا ہے آمدنی بڑھا دی جائے تو مہنگائی ختم ہو جائے گی اس معاملے میں بھی مخصوص گروپ ہی تعاون کر سکتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ صاحب ثروت اپنی دولت کا کچھ حصہ عوام کے لیے مختص کر دیں ان کا یہ عمل غریبوں کی آمدنی اضافے کا سبب بنے گا اور یوں مہنگائی کا مسئلہ ختم ہو جائے گا قوم کو امیر بنانے کا تصور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے کیا ہے سو، ان کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ اپنی دولت کا کچھ حصہ عوام کو دے دیں۔
بھارت کی آں جہانی وزیراعظم اندرا گاندھی نے ملک کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے ایک جلسہ ٔ عام میں اپنے زیورات قوم کو دے دیے تھے ان کے جذبہ ٔ ایثار سے متاثر ہو کر وہاں پر موجود خواتین نے بھی اپنے زیورات بھی قوم کو پیش کر دیے اسی جذبے اور ایثار کا مظاہرہ آصف علی زرداری بھی کریں تو ان کے نقشے قدم پر چلنے پر فخر محسوس کریں گے مگر وطن عزیز کا مقتدر طبقہ صرف باتیں بنانے کا ماہر ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ عوام اچھی باتیں سننے کی عادی ہیں وہ کام کو اہمیت نہیں دیتے سو عوام کو گڑ دینے کے بجائے گڑ جیسی باتیں کرتے ہیں۔ ایک بار آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ اگر ووٹ کا حصول ملک و قوم کی فلاح و بہبود سے متعلق ہوتا تو پرویز الٰہی کے سوا کسی اور کو ووٹ نہیں ملتا ان کی بات تو درست سے کیونکہ چودھری پرویز الٰہی جب پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے تو اسپتالوں میں ادویات کی کوئی کمی نہ تھی جو دوا اسپتال میں دستیاب نہ ہوتی تو اسپتال کی انتظامیہ خرید کر مریضوں کو دیا کرتی تھی۔

عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے شیخ رشید کا ارشاد گرامی ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک نے عمران خان کے قد میں اتنا اضافہ کر دیا ہے کہ دیکھنے والوں کی پگڑیاں گرنے لگی ہیں موصوف کا بیان سن کر ہمیں معروف نعت نگار اور غزل گو شاعر مظفر وارثی یاد آگئے شاید انہوں نے عمران خان کے لیے ہی کہا تھا

سر ان کا اونچا ہے کہ قد بڑا ہے
قد اس لیے بڑا ہے کہ لاشوں پہ کھڑا ہے

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ہی ممکن نہیںعموماً انہیں لوگوں کے قد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے جن کے قدموں کے نیچے لاشوں کا انبار ہوتا ہے۔

سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کا ارشاد گرامی ہے کہ ڈالر پانچ روپے کا ہونا چاہیے ہونا تو بہت کچھ چاہیے مگر بہت کچھ کے لیے کچھ کچھ کا ہونا بھی ضروری ہے اور جہاں تک کچھ کچھ کا تعلق ہے تو جب تک مقتدر طبقہ اپنی ذات کے گنبد ِ بے در میں مقید رہے گا قوم فیض یاب نہیں ہو سکتی بزرگوں سے سنا ہے کہ قیام پاکستان کے وقت ڈالر چار روپے کا تھا اور پاکستانی کرنسی بھارتی کرنسی سے مہنگی تھی پھر یہ ہوا کہ پاکستان میں مہنگائی بڑھنے لگی اور کرنسی گرتی چلی گئی مگر تحریک انصاف تاریخ کے منہ پر تھوکتی رہی عمران خان یہی کہتے رہے کہ چوہتر برسوں تک ملک پر چوروں ڈاکوں کی حکومت رہی اس لیے مہنگائی کا عفریت عوام کا ہڑپ کرتا رہا۔

ہم ایک مدت سے مقتدر قوتوں کو باور کرانے کی جدوجہد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وطن عزیز کو غربت سے نجات دلانے کے لیے ضروری ہے کہ قوم کو عزیزان مصر سے نجات دلائی جائے اور اس کا واحد طریقہ یہی ہے کہ محب وطن افراد کی ایک ایسی ٹیم بنائی جائے جو مختلف شعبہ جات میں مہارت رکھتی ہو اس ٹیم پر مبنی ایک ایسی حکومت تشکیل دی جائے جو قوم کی خدمت کو عبادت کا درجہ دے کسی مریض کو وزیر صحت نہ بنائے جو شخص ملک کے اندرونی معاملات سے بھی بے علم ہو اسے وزیر خارجہ نہ بنایا جائے اگر الیکشن کرائے بغیر محب وطن اور مخلص شخصیات کا تعین کیا جائے تو پانچ سال میں جو بچت ہو گی وہ ملک و قوم کو عالمی مالیاتی اداروں کو نجات دلانے کے لیے کافی ہوگی کیونکہ الیکشن پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور پانچ سال تک ارکارن اسمبلی اور پارلیمنٹ کو تنخواہ اور دیگر مراعات اور سہولتوں کی مد میں ادا کی جانے والی رقم بھی محفوظ رہے گی یقین جانیے زرداری صاحب ڈالر پانچ روپے کا ہو یا نہ ہو مگر روپے کی قدر میں قابل ذکر اضافہ ہو جائے گا پاکستان کی کرنسی میں بھی اضافہ ہو گا جو ڈالر کی قیمت میں کمی کا سبب بنے گا۔