سراج الحق اور معاشی ترقی کا روڈ میپ؟

309

آج وطن عزیز معاشی بحران کا شکار ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشی نظام نے غریب کو غریب تر کر دیا ہے۔ 70لاکھ سے زائد نوجوان بے روزگار ہیں۔ جی ڈی پی انڈیا اور بنگلا دیش سے بھی کم ہے۔ پاکستان کی اقتصادی ترقی کا انحصار اس کی برآمدات پر ہے۔ کسی ملک کی برآمدات مارکیٹ کے رجحانات اور معیار کے مطابق ہونی چاہئیں، اور بین الاقوامی طور پر قابل قبول معیارات پر تصدیق شدہ ہونی چاہئیں۔ بدعنوانی پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل‘ نے دنیا کے 180 ممالک میں بدعنوانی کے تاثر کے بارے میں سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی تین پوائنٹس کم ہونے کے بعد 124 سے گِر کر 140 تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ 11 برسوں میں یہ پاکستان کی سب سے بْری درجہ بندی رہی ہے۔ آج وطن عزیز کو تنقید سے زیادہ ضرورت اس چیز کی ہے کہ ہم معاشی ترقی کا روڈ میپ دیں تاکہ پاکستان ترقی کرے تو دنیا پاکستان میں ویزا لینے کو ترسے سرمایہ دار سے پیسہ

غریب کو منتقل ہو جیسے علامہ محمد اقبال نے فرمایا؛
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات
اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

ایک ماہر اقتصادیات ہونے کے ناتے ایک مزدور کو دیکھتا ہوں جس کا بچہ تعلیم حاصل نہیں کرسکتا، تین وقت کا کھانا نہیں کھا سکتا، کوڑے کے ڈھیر سے اپنا رزق تلاش کرتا ہے دوسری طرف زرداریوں کے گھوڑوں کو آسائشات میسر ہیں۔ ایسے میں علامہ محمد اقبال

کے اشعار سامنے آتے ہیں تو دل بھر جاتا ہے
اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ امراء کے درو دیوار ہلا دو
سلطانیٔ جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹا دو
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

غریب کی بھوک اور پاکستان میں معاشی بحران نے مجبور کیا کہ پاکستان کو معاشی ترقی کے لیے ایک روڈ میپ دیا جائے تاکہ ہمارا ملک جس کی آزادی کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے قربانی دی وہ دنیا کی قیادت کرے، درج ذیل روڈ میپ پاکستان کو معاشی ترقی کے راستے پر گامزن کرے گا۔ قائداعظم محمد علی جناح ایک انتہائی قابل سیاست دان ہونے کے ساتھ ساتھ اقتصادی حالات سے بھی مکمل طور پر آگاہ تھے اور پاکستان کی اقتصادی پالیسی کے بارے میں گاہے گاہے اظہار خیال کرتے رہتے تھے۔ آپ کی تقاریر و بیانات سے یہ امر واضح ہے کہ آپ جاگیرداروں اور سرمایہ داری نظام کو سخت نا پسند فرماتے تھے۔ قائداعظم کے تصور مملکت کا جائزہ لیتے وقت ایک بنیادی نکتہ یہ پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ آپ کے نزدیک پاکستان میں غربا کے لیے معیارِ معیشت بلند ہونا تھا۔ قائداعظم پاکستان کے اقتصادی نظام کو اسلام کے غیر فانی اصولوں پر ترتیب دینا چاہتے تھے یعنی ان اصولوں پر جنہوں نے غلاموں کو تخت و تاج کا مالک بنا دیا تھا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ قائداعظم پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط اور مستحکم بنانے کے خواہش مند تھے اور پاکستان کے قیام کا ایک مقصد مسلمانوں کی اقتصادی ترقی بھی تھا۔ 11اگست‘ 1947ء کی تقریر میں آپ نے فرمایا کہ: ’’اگر ہم اس عظیم مملکت کو خوش اور خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں اور بالخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنی پڑے گی‘‘۔

یہ ملک مدینہ کے بعد اسلام کے نام پر بننے والی دوسری بڑی ریاست ہے افسوس پاکستان کے معاشی بحران کی وجہ سود ہے۔ پاکستان میں شرح سود 12.25 فی صد ہے جو معیشت کے لیے انتہائی خطرناک ہے شرح سود کی بلند سطح ملک میں سرمایہ کاری، اسٹاک مارکیٹ مندی، اور مہنگائی کی وجہ بنتی ہے۔ ملک کی ترقی کے لیے سب سے پہلا قدم غیر سودی معیشت کا آغاز ہوگا تب ہم غلامی سے باہر نکل سکیں گے۔

ٹیکس فری زونز کا قیام معاشی ترقی اور بیروزگاری، غربت، مہنگائی کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ملکی آمدنی میں اضافہ سود سے چھٹکارے کا سبب بنے گی۔ یہ زونز اس طرح ترتیب دیے جائیں جیسے وہاڑی، بوریوالہ کے قریب ٹیکسٹائل انڈسٹری لگانے سے خام مال اور لیبر سستی ملے گی، کیونکہ پاکستان میں سب سے زیادہ کپاس اسی علاقہ میں ہوتی ہے۔ سیمنٹ انڈسٹری کے لیے خام مال ٹیکسلا سے مل سکتا ہے۔ چپس آلو سے بنتی ہے آلو اوکاڑہ ضلع میں سستا اور اچھا میسر ہے۔ اسی طرح آم کی فصل جنوبی پنجاب اور سندھ میں زیادہ ہوتی ہے وہاں مینگو جوس فیکٹریز لگائی جاسکتی ہیں ان علاقوں میں ایف بی آر کو ٹیکس کی 10 سال کے لیے چھوٹ دینی چاہیے۔

پاکستان میں فوری طور پر غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کرتے ہوئے وزیراعظم ہائوس، ایوانِ صدر میں سادگی اختیار کرنی ہوگی۔ پاکستان کی ترقی میں بڑی رکاوٹ کرپشن ہے۔ پاکستان میں تقریباً 5ہزار ارب کی سالانہ کرپشن ہوتی ہے۔ اگر ایف بی آر، کسٹم، پی آر اے کے افسران بالا اور ارکان اسمبلی کرپشن چھوڑ دیں تو پاکستان کا سالانہ ریوینیو 300 فی صد بڑھ جائے گا جس سے غربت ختم ہو گی اور قرض بھی ادا ہو جائے گا۔ معاشی ترقی کے لیے اشیاء پیداوار کا سستا ہونا ضروری ہے تاکہ عالمی منڈی میں فروخت ہوسکے اس کے لیے ضروری ہے بجلی گیس کی قیمتیں کم ہوں لیکن پاکستان میں بجلی اور گیس کی قیمتیں زیادہ ہیں اس کا حل پاکستان میں ہنگامی بنیادوں پر ہائیڈرو پاور پروجکٹس کی تعمیر مکمل ہو تاکہ تھرمل پاور پلانٹ سے بجلی کی پیداوار کا استعمال کم ہو اور بجلی سستی ہو اس سے ہماری برآمدات میں اضافہ ہو گا اور ملک ترقی کرے گا۔

پاکستان ایک زراعی ملک ہے لیکن اس شعبے کو توجہ کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا کل رقبہ 79.6ملین ایکڑ ہے، جس میں سے 23.7ملین ایکڑ، زراعی رقبہ ہے جو کل رقبے کا 28فی صد بنتا ہے۔ اس میں سے بھی 8ملین ایکڑ رقبہ زیرِ کاشت نہ ہونے کے باعث بے کار پڑا ہے، جس کی اصل وجہ پانی کی عدم فراہمی ہے۔ اور اس شعبے سے برآمدات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اچھا بیج، کھاد کی فراہمی، کسانوں کو فصل کی بہتری کے لیے مشورے فراہم کرنا، نئے نئے طریقے سے متعارف کروانا جیسے آسٹریلیا، امریکا اور ایسے ممالک میں رائج ہیں جہاں فی ایکڑ پیداوار پاکستان سے 3 سو فی صد زیادہ ہوتی ہے ساٹھ، ستر اور اسی کی دہائی میں پاکستان زرعی شعبے کا نیٹ ایکسپورٹر تھا یعنی درآمد سے زیادہ برآمد کیا کرتا تھا لیکن ملک آج اس شعبے میں مجموعی طور پر خسارے کا شکار ہے اور ہمیں ساڑھے تین ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے۔ کچھ سال قبل پاکستان نے ایک کروڑ چالیس لاکھ کاٹن بیلز پیدا کی تھیں جو اس وقت انڈیا کی پیداوار سے بھی زیادہ تھی اس کے بعد اس کی پیداوار میں مسلسل تنزلی دیکھنے میں آئی اور آج حالت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ پاکستان بمشکل 70 لاکھ کاٹن بیلز کی پیداوار حاصل کرنے کے قابل ہوا ہے۔ گندم بیس سال پہلے درآمد کی گئی تھی اور جب پاکستان اس کی پیداوار میں خود کفیل ہو گیا تو یہ سلسلہ روک دیا گیا اور مقامی پیداوار ضرورت کے لیے کافی رہی تاہم اب گندم درآمد کرنی پڑ گئی تاکہ مقامی طور پر ضرورت کو پورا کرنے کے علاوہ قیمتوں کو بھی مستحکم کیا جا سکے۔ ہماری کپاس کی 10لاکھ بیلوں کی قیمت 01 ارب ڈالر ہے جبکہ چائنا اتنی ہی بیلوں کی قیمت 4 ارب ڈالر وصول کرتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ ان کی مصنوعات میں اضافی قدر شامل ہوتی ہے۔ اگر ہم 10لاکھ بیلوں کی قیمت 4 ارب ڈالر مقرر کریں تو ہم صرف ٹیکسٹائل کے شعبہ میں 140 لاکھ بیلوں سے اضافی قدر کی مد میں 45 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کر سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ صنعتوں کو سبسڈی مہیا کرے۔ جس سے درآمدات کے بجائے برآمدات اور اس کی قیمت میں بھی اضافہ ہو یہ شعبہ ملکی ترقی کا سبب بنے گا۔
(جاری ہے)