پاکستان کیوں ٹوٹا؟

495

لوگ کہتے ہیں تاریخ کو بدلا نہیں جاسکتا لیکن یہ خیال جتنا عام ہے اس سے زیادہ غلط ہے۔ تاریخ کو جھوٹ بول کر بدلا جاسکتا ہے اور جھوٹے لوگ صدیوں سے جھوٹا بول کر تاریخ کو بدل رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ جھوٹ سقوط ڈھاکا کے حوالے سے بولا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کسی طبقے کی کوئی خاص تخصیص نہیں۔ اس سلسلے میں فوجیوں نے جھوٹ بولا ہے۔ سیاست دانوں نے جھوٹ بولا ہے۔ صحافیوں نے جھوٹ بولا ہے۔ دانش وروں نے جھوٹ بولا ہے۔ بیورو کریٹس نے جھوٹ بولا ہے۔ الطاف گوہر پاکستان کے ممتاز صحافی، دانش ور اور بیوروکریٹ تھے۔ ان کا ایک بہت ہی بڑا جھوٹ جاوید چودھری نے اپنے ایک حالیہ کالم میں سچ سمجھ کر بیان کیا ہے۔ جاوید چودھری نے کیا لکھا ہے۔ انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے۔ جاوید چودھری لکھتے ہیں۔

’’الطاف گوہر بیوروکریٹ تھے، صحافی تھے اور دانش ور تھے۔ میں روز ان کے پاس جاتا تھا اور ان کی گفتگو سے لطف اٹھاتا تھا۔ میں نے ایک بار ان سے پوچھ لیا ’’سر آپ لوگ پڑھے لکھے تھے، جہاں دیدہ تھے، عقل مند اور تجربہ کار تھے۔ آپ کے سامنے 1971ء میں ملک ٹوٹ گیا لیکن آپ لوگ اسے بچا نہیں سکے۔ آپ کو چاہیے تھا کہ آپ سیاست دانوں کو بھی سمجھاتے عدلیہ کے بھی پائوں پکڑلیتے اور فوج کو بھی آئین کے دائرے میں لے آتے۔ آپ لوگوں نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ گوہر صاحب اداسی میں اپنے لمبے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگے۔ وہ بڑی دیر تک انگلیوں سے کنگھی کرتے رہے اور پھر نرم الفاظ میں بولے ’’جاوید ہماری مت ماری گئی تھی۔ ہم بوکھلا گئے تھے۔ کنفیوژ ہوگئے تھے اور جب ہماری آنکھ کھلی تو آدھا ملک ہمارے ہاتھ سے نکل چکا تھا‘‘۔ وہ رُکے مزید چند منٹ تک کنگھی کی۔ اور بولے ’’بیٹا، یاد رکھو کہ جب انسان کی مت ماری جاتی ہے تو وہ دیکھ رہا ہوتا ہے لیکن اسے نظر نہیں آرہا ہوتا۔ وہ سن رہا ہوتا ہے لیکن اسے سنائی نہیں دے رہا ہوتا اور وہ سمجھ رہا ہوتا ہے لیکن اسے سمجھ نہیں آرہی ہوتی اور ہمارے ساتھ 1971ء میں یہی ہوا تھا‘‘۔ (روزنامہ ایکسپریس 28 اپریل 2022ء)

ہم نے جاوید چودھری کے کالم میں الطاف گوہر کا یہ بیان پڑھا تو ہم حیرت کے سمندر میں ڈوب گئے۔ ہمیں یاد آیا کہ ہم نے آج سے بیس پچیس سال پہلے زیر بحث موضوع کے حوالے سے الطاف گوہر کے بارے میں کوئی اور بیانیہ پڑھا تھا۔ ہمیں یاد آیا کہ بیس پچیس سال پہلے ملک کے ممتاز وکیل ایس ایم ظفر نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الطاف گوہر پر الزام لگایا تھا کہ شیخ مجیب کے بدنام زمانہ چھے نکات دراصل الطاف گوہر نے ڈرافٹ کرکے شیخ مجیب کے حوالے کیے تھے۔ الطاف گوہر اس وقت روزنامہ نوائے وقت میں کالم لکھ رہے تھے۔ انہوں نے اپنے کالم میں ایس ایم ظفر کے الزام کی تردید کی تو ایس ایم ظفر نے ایک بیان میں الطاف گوہر کو مشورہ دیا کہ وہ پاکی ٔ داماں کی حکایات کو آگے نہ بڑھائیں کیوں کہ ان کے پاس ثبوت موجود ہے کہ چھے نکات الطاف گوہر ہی نے ڈرافٹ کیے تھے۔ ایس ایم ظفر کے اس بیان کا الطاف گوہر نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایس ایم ظفر کا موقف درست تھا۔

شیخ مجیب کے چھے نکات کے خالق واقعتا شیخ مجیب نہیں الطاف گوہر تھے۔ مگر یہی الطاف گوہر جاوید چودھری کو یہ ’’کہانی‘‘ سنارہے تھے کہ 1971ء میں مغربی پاکستان کی فوج، عدلیہ اور سیاست دانوں کی مت ماری گئی تھی۔ یہ کہہ کر الطاف گوہر دراصل مشرقی پاکستان کی اصل تاریخ کو مسخ کررہے تھے۔ اسے بدل رہے تھے۔ وہ شخصی اور اجتماعی حقائق پر پردہ ڈال رہے تھے۔ وہ جھوٹ بول رہے تھے مگر صرف جھوٹ نہیں بول رہے تھے وہ جھوٹ کو سچ باور کرا رہے تھے۔ ایسا نہ ہوتا تو الطاف گوہر ایس ایم ظفر کے بیان کی تردید کرتے۔ وہ ایس ایم ظفر کو چیلنج کرتے کہ وہ اپنے ثبوت کو سامنے لائیں۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

انہوں نے ایس ایم ظفر کے چیلنج کے جواب میں خاموش ہوجانے میں ہی عافیت جانی۔ شیخ مجیب کے بدنام زمانہ چھے نکات شیخ مجیب کی سیاست اور عوامی مقبولیت کی بنیاد تھے۔ انہی چھے نکات کی بنیاد پر شیخ مجیب کو علٰیحدگی پسند کہا گیا۔ حالاں کہ جیسا ظاہر ہے کہ یہ چھے نکات شیخ مجیب الرحمن کو مغربی پاکستان کے ایک بیوروکریٹ نے مرتب کرکے دیے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ الطاف گوہر کا ’’انفرادی فعل‘‘ نہیں ہوگا۔ اس کی پشت پر مغربی پاکستان کی فوجی و سول اسٹیبلشمنٹ کھڑی ہوگی۔ الطاف گوہر نہ انفرادی حیثیت میں چھے نکات مرتب کرسکتے تھے نہ شیخ مجیب الرحمن صرف الطاف گوہر کے چھے نکات کو سینے سے لگا سکتے تھے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ شیخ مجیب الرحمن کو علٰیحدگی کی طرف مغربی پاکستان کے حکمران طبقے نے دھکیلا؟ بدقسمتی سے مشرقی پاکستان کے ساتھ مغربی پاکستان کے حکمران طبقے کا سلوک اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے۔

یہ ایک سامنے کی بات ہے کہ مشرقی پاکستان کی آبادی کل آبادی کا 56 یا 58 فی صد تھی۔ یعنی مغربی پاکستان کی آبادی پاکستان کی کل آبادی کا صرف 44 یا 42 فی صد تھی۔ اس تناطر میں مشرقی پاکستان کو قومی وسائل کا 56 یا 58 فی صد ملنا چاہیے تھا اور مغربی پاکستان کے حصے میں وسائل کا 44 فی صد یا 42 فی صد آنا چاہیے تھا۔ لیکن بدقسمتی سے اس امر کی نوبت ہی نہ آنے دی گئی۔ مغربی پاکستان کے حکمران طبقے نے مہم چلائی کہ پاکستان میں مساوات یا برابری یا Parity کا اصول ہونا چاہیے۔ یعنی مشرقی اور مغربی پاکستان میں وسائل مساوی بنیاد پر تقسیم ہونے چاہئیں۔

مغربی پاکستان کو وسائل کا 50 فی صد ملنا چاہیے۔ ورنہ دونوں حصوں میں ترقی کی رفتار مساوی نہیں ہوگی۔ مشرقی پاکستان کی آبادی قومی آبادی کا 56 یا 58 فی صد تھی مگر مشرقی پاکستان کی سیاسی قیادت نے اپنا دل بڑا کیا اور برابری کے اصول کو تسلیم کرلیا۔ کتنی عجیب بات ہے کہ جب تک مشرقی پاکستان ہمارے ساتھ رہا وسائل مساوی بنیادوں پر تقسیم ہوتے رہے لیکن جیسے ہی مشرقی پاکستان الگ ہوا پیرٹی کے اصول کو ترک کردیا گیا۔ حالاں کہ ضرورت اس بات کی تھی کہ مغربی پاکستان میں بھی مساوات کے اصول کو اختیار کیا جاتا۔ اس لیے کہ پنجاب کی آبادی باقی تین صوبوں کی مجموعی آبادی سے زیادہ تھی۔ لیکن باقی ماندہ پاکستان میں مساوات کے اصول کو ایک دن کے لیے بھی اختیار نہیں کیا گیا۔ کیا آج پنجاب کو اس بات پر آمادہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ سندھ، کے پی کے اور بلوچستان کو اپنے حصے کا آٹھ یا دس فی صد فراہم کرے؟ ہمیں یقین ہے کہ پنجاب کبھی بھی اس بات پر آمادہ نہیں ہوگا۔

لیکن مشرقی پاکستان کی سیاسی قیادت نے قومی اتحاد اور یکجہتی کے لیے اپنے وسائل کا آٹھ فی صد فراہم کیا لیکن مغربی پاکستان کی قیادت اور عوام نے کبھی مشرقی پاکستان کے اس احسان کو احسان نہیں سمجھا، بلکہ انہوں نے شیر مادر کی طرح اسے اپنا حق سمجھا۔ بدقسمتی سے مشرقی پاکستان کو اس کے حصے کے 50 فی صد وسائل بھی فراہم نہ کیے گئے۔ جس کی وجہ سے شیخ مجیب الرحمن نے ایک موقع پر کہا کہ اسے اسلام آباد (کی ترقی) سے پٹ سن کی بو آتی ہے۔ شیخ مجیب الرحمن کا مطلب یہ تھا کہ مشرقی پاکستان کے وسائل مغربی پاکستان کی ترقی پر صرف کیے جارہے ہیں۔ مغربی پاکستان کے حکمران کبھی شیخ مجیب الرحمن کے اس الزام کی مدلل تردید نہ کرسکے۔ چناں چہ مشرقی پاکستان کی اکثریت میں یہ احساس پیدا ہوا کہ مغربی پاکستان کا حکمران طبقہ اس کا استحصال کررہا ہے۔

مشرقی پاکستان کی آبادی پاکستان کی کل آبادی کا 56 یا 58 فی صد تھی۔ چناں چہ پاک فوج میں بنگالیوں کی نمائندگی 56 فی صد یا 58 فی صد ہونی چاہیے تھی۔ پاک فوج ملک کا اہم ترین ادارہ تھی۔ وہی پاکستان پر حکمرانی کررہی تھی۔ وہی پاکستان کی خارجہ اور داخلہ پالیسی مرتب کررہی تھی لیکن بدقسمتی سے 1947ء سے 1960ء تک فوج میں بنگالیوں کی موجودگی صفر تھی۔ کیا یہ بنگالیوں پر ظلم کی انتہا نہیں تھی؟ کیا یہ ان کے استحصال کی بدترین صورت نہیں تھی۔ 1960ء کے بعد بنگالیوں پر فوج کے دروازے کھولے گئے مگر 1971ء میں بھی فوج کے اندر بنگالیوں کی موجودگی 8 سے 10 فی صد تھی۔ حالاں کہ وہ آبادی کا 56 یا 58 فی صد تھے۔

میجر صدیق سالک نے جو فوجی بھی تھے اور پنجابی بھی تھے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’میں نے ڈھاکا ڈوبتے دیکھا‘‘ میں لکھا ہے کہ وہ 1971ء کے بحران میں ایک فوجی چھائونی کے دورے پر گئے تو ایک بنگالی فوجی افسر نے ان سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ تمہارے صدر جنرل یحییٰ خان نے کیا کہا ہے کہ وہ فوج میں بنگالیوں کی تعداد کو سو فی صد بڑھادے گا۔ بنگالی افسر نے کہا کہ اگر جنرل یحییٰ کی بات پر سو فی صد عمل ہو بھی گیا تو بھی فوج میں بنگالیوں کی نمائندگی پندرہ سے بیس فی صد ہوجائے گی۔ حالاں کہ وہ آبادی کا 56 فی صد ہیں۔ جیسا کہ ظاہر ہے فوج میں بنگالیوں کی نمائندگی میں تھوڑے بہت اضافے کی بھی نوبت نہ آئی۔ جب سقوط ڈھاکا ہوا تو فوج میں بنگالیوں کی نمائندگی آٹھ سے دس فی صد تھی حالاں کہ وہ آبادی کا 56 فی صد تھے۔

فوج کے بعد سول سروس ملک کا دوسرا طاقت ور ادارہ تھی۔ فوج ملک چلارہی تھی اور سول سروس فوج کے معاون ادارے کا کردار ادا کررہی تھی۔ بنگالی پاکستان کی مجموعی آبادی کا 56 یا 58 فی صد تھے مگر سول سروس میں ان کی نمائندگی تین سے پانچ فی صد تھی۔ یہ بھی بنگالیوں پر ظلم کی ایک صورت تھی۔ بنگالی اندھے نہیں تھے وہ کھلی آنکھوں سے مغربی پاکستان کے جبر اور استحصال کا مشاہدہ اور تجربہ کررہے تھے۔ چناں چہ بنگالیوں میں پاکستان سے الگ ہونے کا خیال 1950ء کی دہائی ہی میں پیدا ہوچکا تھا۔ حسن ظہیر نے اپنی کتاب The Separation Of East Pakistan میں مشرقی پاکستان کی صوبائی اسمبلی میں ہونے والی تقریروں کے اقتباسات پیش کیے ہیں۔ ان تقریروں میں بنگالیوں کے منتخب نمائندے کہہ رہے تھے کہ اگر مغربی پاکستان کے حکمران طبقے نے ظلم بند نہ کیا تو پاکستان کو متحد نہیں رکھا جاسکے گا۔

مغربی پاکستان کے حکمران طبقے نے متحدہ پاکستان میں ون یونٹ کا تجربہ کیا۔ اس تجربے کا مقصد مشرقی پاکستان کی اکثریت کو صفر کرنا تھا۔ ون یونٹ نہ ہوتا تو مشرقی پاکستان کو اس کی آبادی کی نسبت سے وسائل مہیا کرنے پڑتے اور مغربی پاکستان کا پست مزاج حکمران طبقہ مشرقی پاکستان کی اکثریت کو تسلیم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کی ایک شہادت 1970ء کے انتخابات کے بعد سامنے آئی۔ 1970ء کے انتخابات میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ اکثریتی پارٹی بن کر ابھری۔ جمہوریت کا اصول اکثریت ہے۔

چناں چہ اقتدار شیخ مجیب اور ان کی جماعت کو منتقل ہوجانا چاہیے تھے مگر جنرل یحییٰ اور بھٹو دونوں نے مشرقی پاکستان کی اکثریتی رائے کو تسلیم نہ کیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ بھٹو نے اس موقع پر ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگایا مگر بھٹو اس وقت جنرل یحییٰ سے زیادہ طاقت ور نہیں تھے۔ جنرل یحییٰ عوامی لیگ کی اکثریت کو تسلیم کرلیتے تو بھٹو ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو الطاف گوہر کے اس بیان کے کوئی معنی ہی نہیں کہ 1971ء کے بحران میں ہماری مت ماری گئی تھی۔ اصل مسئلہ مت کا مارا جانا نہیں تھا اصل مسئلہ یہ تھا کہ مغربی پاکستان کا حکمران طبقہ مشرقی پاکستان کی اکثریت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کرنا چاہتا تھا اور وہ اپنی اس خواہش کو حقیقت بنانے میں پوری طرح کامیاب رہا۔