سیاسی بحران اور اقتصادی تباہی

170

تیرہ جماعتی اتحادی حکومت کے سربراہ میاں شہباز شریف کابینہ میں اپنی پارٹی کے وزیروں کے ہمراہ میاں نواز شریف کی طلبی پر لندن پہنچ گئے ہیں۔ میاں نواز شریف پر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی وجہ سے پاکستانی سیاست میں حصہ لینے پر پابندی ہے، اسی وجہ سے مسلم لیگ (ن) نے اپنے قائد کے برادرِ خورد میاں شہباز شریف کو پارٹی کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنے قائد نواز شریف کا حکم ماننے کے پابند ہیں۔ تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کے بعد میاں شہباز شریف وزیراعظم تو بن گئے ہیں لیکن سیاسی عدم استحکام میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ میاں شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے بارے میں تاثر یہ تھا کہ وہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جسے حکمرانی کا تیس سالہ تجربہ ہے۔ ان کی گرفت بیوروکریسی پر قائم رہتی ہے، جو حکومتوں کو کامیاب اور ناکام کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود سیاسی بحران پر قابو پانے کا تاثر قائم نہیں ہورہا ہے۔ اس پر مستزاد ملک معاشی تباہی اور مستقبل کا ہولناک منظرنامہ ہے۔ اس وجہ سے موجودہ حکومت کی مدت کا تعین اور نئے انتخابات کا انعقاد کب ہوگا یہ پاکستانی سیاست کا سب سے اہم سوال بن گیا ہے۔ میاں نواز شریف کی جانب سے میاں شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے ارکان کی طلبی کے بعد اور لندن پہنچنے سے قبل نواز شریف کے سمدھی اور سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے فوری انتخابات کا اشارہ دے دیا گیا تھا۔ سابق وزیراعظم عمران خان بھی اپنی رابطہ عوام مہم میں قوم کے سامنے سیاسی بحران کا واحد حل فوری انتخابات قرار دے رہے ہیں۔ اسحاق ڈار کے اس بیان کے بعد شہباز شریف کابینہ کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی اردو ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کا اشارہ دے دیا کہ اگلے آرمی چیف کے تقرر سے پہلے بھی انتخابات ہوسکتے ہیں۔ یہ سوال اس لیے بھی آیا کہ سیاسی حلقوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی پیش کش اور اس کی کامیابی کا اصل محرک کیا ہے؟ بعض حلقوں کا خیال یہ ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو اس وجہ سے حکومت سے نکالا گیا ہے کہ وہ نئے آرمی چیف کا تقرر نہ کرسکیں۔ ان کی جماعت کے بعض وزرا بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر پر عمران خان کے اصرار نے اسٹیبلشمنٹ اور وزیراعظم کے درمیان تعلقات کو خراب کیا، خواجہ آصف کی بی بی سی سے گفتگو نشر ہوتے ہی پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری نے فوری طور پر میاں نواز شریف سے لندن فون پر بات کی اور کراچی میں پریس کانفرنس کے ذریعے فوری انتخابات کو مسترد کردیا اور اس طرح انہوں نے اس بات کا اعلان کردیا کہ حکومت کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو یکطرفہ فیصلہ کرنے کا استحقاق حاصل نہیں ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو گرانے کے منصوبہ ساز وہ ہیں اور انہوں نے یہ پیغام دے دیا کہ موجودہ حکومت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اشتراک کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے۔ آصف زرداری کی پریس کانفرنس نے لندن میٹنگ کو بے اثر کردیا اور صرف یہی خبریں سامنے آئیں کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے ارکان نے اپنے قائد کو ان تباہ کاریوں کی تفصیل سے آگاہ کیا۔ آصف زرداری نے صاف الفاظ میں میاں نواز شریف کو یہ پیغام دے دیا کہ موجودہ اتحادی حکومت اس وقت تک قائم رہے گی جب تک ان تمام اقدامات کو یقینی نہ بنالیا جائے جس میں آئندہ انتخابات میں زیادہ سے زیادہ سیٹوں کا حصول اور بدعنوانی کے مقدمات سے نجات ہیں اور اس مقصد کے لیے نیب کے قوانین میں ترمیم یا اس کا خاتمہ شامل ہے۔ آصف زرداری کی پریس کانفرنس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی قیادت دفاعی پوزیشن میں چلی گئی۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی اظہر من الشمس ہوگئی ہے کہ گزشتہ 30 برسوں کی معاشی فیصلوں کے تباہ کن نتائج قوم کو دہلا رہے ہیں۔ معاشی تباہی کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ ڈالر 193 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے اور پٹرول کی قیمت میں بھی اوسطاً 50 روپے فی لٹر اضافے کی توقع کی جارہی ہے۔ موجودہ حکومت تجربہ کار سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے جو معاشی بحران کے تمام اسباب اور کرداروں سے واقف ہیں۔ ان جماعتوں کا گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں بیانیہ یہ تھا کہ عمران خان کی حکومت نااہل اور ناتجربہ کار ہے، اس بیانیے میں وزن ہے، اس لیے توقع یہ تھی کہ ان کے پاس معاشی بحران سے نکلنے کے لیے جامع منصوبہ موجود ہے۔ وہ پاکستان کے اقتصادی شراکت دار عالمی اداروں اور ممالک کی قیادت سے واقفیت بھی رکھتے ہیں، لیکن چند ہفتوں میں ان کو حوصلہ شکن پیغامات بھی مل گئے۔ اس لیے سیاسی بحران قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن گیا ہے اور اس کی ذمے داری ان دو خاندانوں پر عائد ہوتی ہے جو سیاسی طاقت کے مراکز ہیں۔