بھارت سے تجارتی تعلقات کا قیام قوم کو قبول نہیں، سراج الحق

248
congratulations

لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ بھارت سے تجارتی تعلقات کا قیام قوم کو کسی صورت قبول نہیں۔ کشمیریوں کے خون اور کروڑوں پاکستانی کسانوں کی معیشت کو داﺅ پر لگا کر نئی دلی سے محبت کی پینگیں بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سراج الحق نے کہا کہ  ملک کا کسان پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے، بجا کہ موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے بھی پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، مگر ڈیموں کی تعمیر میں تعطل،حکومتی بدانتظامی، جاگیرداروں اور بڑے زمینداروں کی طرف سے پانی چوری کا مسئلہ اور بھارت کی پاکستانی دریاﺅں پر دراندازی کے عوامل بھی بحران میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ  موجودہ پارٹیاں پہلے بھی برسراقتدار رہیں، پانی کے مسئلے کے حل اور زراعت کی بحالی کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے بھی ساڑھے تین برس ضائع کیے۔ حکومت کسانوں کے مطالبات تسلیم کرے۔

انہوں نے کہاکہ کاشتکاروں کی نہ سنی گئی، تو جماعت اسلامی بھرپور احتجاج کا آغاز کرے گی۔ عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اقتدار میں آئے تو دیہی علاقوں کی ترقی پر خصوصی طور پر فوکس کیاجائے گا۔ ”دیہات خوشحال، ملک خوشحال“ پروگرام شروع کریں گے۔ زرعی گرایجوایٹس میں سرکاری زمینیں تقسیم کی جائیں گی۔ کسانوں کو بلاسود قرض دیں گے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے مطالبہ کیا کہ حکومت کسانوں کو بجلی طے شدہ ریٹ 5روپے 85پیسے فی یونٹ کے حساب سے مہیا کرے۔ پی ٹی آئی دور میں زرعی مداخل پر لگائے گئے جی ایس ٹی کو ختم کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہاکہ  حکومت نے آئی ایم ایف کے کہنے پر بجلی کی قیمتیں بڑھائیں، تو شدید احتجاج کیا جائے گا۔ حکومت زرعی فیڈرز پر بلاتعطل بجلی کی فراہمی ممکن بنائے۔ یوریا اور ڈی اے پی کی قیمتوں میں کمی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ زرعی مداخل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ، ناقص بیج، پانی کی کمی اور دیگر مسائل کے ہوتے ہوئے پاکستانی کسان بھارت کے کسان کا مقابلہ نہیں کر پا رہا ہے۔