عارف علوی کا حکومت تبدیلی سازش کی تحقیقات ، جوڈیشل کمیشن  کیلئے  چیف جسٹس کے نام خط

184

اسلام آباد: صدر عارف علوی کا حکومت تبدیلی سازش کی تحقیقات ، جوڈیشل کمیشن  کیلئے  چیف جسٹس کے نام خط۔ صدر مملکت نے خط میں کہا کہ ملک میں ایک سنگین سیاسی بحران منڈلا رہا ہے  مبینہ حکومت تبدیلی سازش  کی تحقیقات اور سماعت کیلئے جوڈیشل کمیشن کی سربراہی ترجیحاً چیف جسٹس خود کریں ملک کو  سیاسی و معاشی بحران سے بچانے ، صورتحال مزید بگڑنے سے روکنے کی ضرورت ہے ۔

صدر مملکت نے کہا کہ  حالیہ واقعات کے تناظر میں پاکستان کے عوام میں بڑی  سیاسی تفریق پیدا ہورہی ہے  تمام اداروں کا فرض ہے کہ ملک کو مزید نقصان  اور بگاڑ سے بچانے کیلئے بھرپور کوششیں کریں افسوس کہ تبصرے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے جا رہے ہیں، غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں۔ ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ  مواقع ضائع ہو رہے ہیں، کنفیوڑن پھیل رہی ہے، معیشت بھی بحران میں ہے سپریم کورٹ نے ماضی میں قومی سلامتی، سالمیت، خودمختاری اور مفاد عامہ کے معاملات میں عدالتی کمیشن تشکیل دیے چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن نے 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی انکوائری کی میموگیٹ معاملے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا  لاپتہ افراد کے لیے ایک فعال جوڈیشل کمیشن موجود ہے، سربراہی سپریم کورٹ کے جج کررہے  ہیں رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے بھی کمیشن کے قیام کی خواہش کا اظہار کیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ  قوم سپریم کورٹ کا احترام کرتی ہے ، اپنی توقعات پر پورا اترنے کی امید کرتی ہے  کمیشن کو معاملے کی تحقیقات قانون کی تکنیکی بنیادوں پر نہیں بلکہ انصاف کی اصل روح کے مطابق کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر عارف علوی کا اپنے خط میں کہنا تھا کہ  یہ ہمارے ملک کی بہت بڑی خدمت ہو گی ، پاکستانی عوام قومی اہمیت کے معاملے پر وضاحت کی مستحق ہے عالمی تاریخ میں سازشوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کی کارروائیوں کی بے شمار مثالیں موجود ہیں  میری رائے ہے کہ ریکارڈ شدہ حالات و واقعات پر مبنی شواہد نتائج کی طرف لے جا سکتے ہیں درخواست ہے کہ جوڈیشل کمیشن  مبینہ سازش کے معاملے کی مکمل تحقیقات کرے ۔