کراچی کے اہم مقامات نعمت اللہ خان، امجد صابری اور مسز دینا مستری کے نام سے منسوب 

244
Important places

کراچی: ایڈمنسٹریٹر کراچی،مشیر قانون اور ترجمان حکومت سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر سابق ناظم کراچی نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ ، عالمی شہرت یافتہ قوال امجد فرید صابری اور ماہر تعلیم مسز دینا مستری کی اپنے اپنے شعبوں میں شاندار خدمات کے اعتراف میں انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے سخی حسن پل ، غریب آباد انڈرپاس اور اربن فاریسٹ کلفٹن کو ان شخصیات سے منسوب کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے تین الگ الگ کونسل کی قراردادوں کے ذریعے کراچی شہر کی خدمات انجام دینے والی شخصیات کے نام سے مختلف جگہوں کو منسوب کرنے کی قراردادیں پاس کی ہیں ، سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013 کے سیکشن 85 ،86 کے تحت بلدیہ عظمیٰ کراچی کی حدود میں واقع عوامی جگہوں اور راستوں کے نام ملک کے لئے گرانقدر خدمات انجام دینے والی شخصیات کے نام سے منسوب کرنے کی مجاز ہے، سخی حسن چورنگی پر واقع پل کو نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، نعمت اللہ خان ایک طویل عرصے تک جماعت اسلامی کراچی کے امیر اور جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ کے رکن بھی رہے ، 1985 ء غیر جماعتی انتخابات میں سندھ اسمبلی کے رکن جبکہ 2001 ء میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی کے بلدیاتی نظام میں کراچی کے پہلے ناظم منتخب ہوئے اور انہوں نے شہر کے لئے نمایاں خدمات انجام دیں، نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ 25 فروری 2020 ء کو کراچی میں 90 برس کی عمرانتقال کرگئے تھے۔

غریب آباد میں واقع انڈرپاس کو امجد فرید صابری قوال کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، امجد فرید صابری 9 سال کی عمر سے ہی قوال کا فن سیکھنا شروع کیا اور 12 سال کی عمر میں انہوں نے پہلی بار اپنے فن کا مظاہرہ کیا، امجد فرید صابری نے بہت جلد عالمی شہرت حاصل کی، 22 جون2016ء کو مسلح افراد نے فائرنگ کرکے انہیں شہید کردیا تھا۔

کلفٹن میں واقع اربن فاریسٹ کو مسز دینا مستری کے نام سے منسوب کیا گیا ہے ، مسز دینا مستری بی وی ایس پارسی ہائی اسکول کی پرنسپل تھیں اپنی زندگی کے 60 سال کراچی کے بچوں کو تعلیم دینے میں صرف کئے اور تعلیم کے شعبوں میں گرانقدر خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی بھی دیا گیا، مسز دینا مستری اپنی پوری زندگی شعبہ تعلیم سے وابستہ رہیں اور کئی نسلوں کی تعلیم و تربیت میں اپنا کردار ادا کیا۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھاکہ ہمیں اپنے محسنوں کو یاد رکھنا چاہئے اور جن لوگوں نے اس شہر کی خدمت کی ہے ان کے کارناموں کو نئی نسل تک منتقل کرنا چاہئے تاکہ ان کی خدمات سے آنے والی نسلیں متعارف ہوں ،

ان کا کہنا تھا کہ کراچی تہذیب و ثقافت کے لحاظ سے ایک انتہائی اہم شہر ہے اور اس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے،قیام پاکستان سے قبل ہی اس شہر کو بین الاقوامی شہرت حاصل تھی اور آج بھی یہ شہر پاکستان کی پہچان ہے۔