خارجہ پالیسی کے باعث دھمکی آمیز خط شیئر نہیں کرسکتے، وزیراعظم

312

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دھمکی آمیز خط سب سے بڑے ادارے کے سربراہ چیف جسٹس کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش کی ہے، خارجہ پالیسی کے پیش نظر خط زیادہ لوگوں کے ساتھ شیئر نہیں کرسکتے، خط میں براہ راست تحریک عدم اعتماد کا ذکر ہے۔ جیسے ہی ہمیں خط ملا، عدم اعتماد فوراً پیش ہو گئی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت ترجمانوں کا اجلاس ہوا، اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال پر ترجمانوں کو بریفنگ دی گئی، شرکاء کو خفیہ خط کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ۔ترجمانوں کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطاء بندیال کو خط دکھانے کا مقصد خط کی حقیقت کو آشکار کرنا ہے،

خط میں دھمکی دی گئی تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔اجلاس کے دوران عمران خان نے کہا ہے کہ خط سب سے بڑے ادارے کے سربراہ چیف جسٹس کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش کردی ہے، خارجہ پالیسی کے پیش نظر خط زیادہ لوگوں کے ساتھ نہیں شیئر کرسکتے، 7 مارچ کو ہمیں خط موصول ہوا، خط کا براہ راست تحریک عدم اعتماد کا ذکر ہے۔

جیسے ہی ہمیں خط ملا، عدم اعتماد فوراً پیش ہو گئی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ سے عالمی طاقتیں حکومتوں پر اثرانداز ہوتی آئی ہیں، میں نے قوم سے وعدہ کیا ہے کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکوں گا، تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی، بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین نے رابطے شروع کردئیے ہیں، جلد بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین کی واپسی ہوگی۔

آئندہ چند روز میں تمام تر صورتحال واضح ہو جائے گی۔ذرائع کے مطابق ترجمانوں کی جانب سے وزارتِ اعلیٰ پنجاب ق لیگ کو دینے پر سوالات کیے گئے۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ق لیگ کو وزارت اعلی دینے کا فیصلہ سوچ سمجھ کرکیا ہے، بڑے مقصد کے حصول کیلئے مشکل اور بڑے فیصلے کرنے پڑتے ہیں، کچھ لوگ ذاتی مفاد کیلئے ضمیر فروش بن جاتے ہیں، عثمان بزدار نے پی ٹی آئی کے منشور کو احسن طریقے سے اگے بڑھایا۔وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا ہے کہ جب حکمرانوں کی نیت صاف ہو تو چاہے کتنی ہی بڑی اندرونی یا بیرونی سازش ہو، ناکام ہوتی ہے۔

اجلاس کے بعد وزیراعظم سے سندھ کے اراکین قومی ، صوبائی اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں نے ملاقات کی،ملاقات میں وزرا علی زیدی، فواد چودھری اور گورنر سندھ عمران سماعیل بھی شامل تھے۔اجلاس میں اجلاس کے دوران شرکاء  نے عمران خان کو سندھ حقوق مارچ اورامر بالمعروف کی تاریخی کامیابی پر مبارکباد پیش کی، وزیرِ اعظم نے منتخب نمائندوں و پارٹی عہدیداران کو سندھ میں پارٹی تنظیم کو مزید مستحکم کرنے کی ہدایات جاری کی۔

اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے مشکور ہیں جن کی سازشوں کہ وجہ سے مقبولیت اور جوش و جذبے کی نئی لہر پیدا ہوئی، ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی اجتماع، پی ٹی آئی پر عوامی اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے مشکور ہیں جن کی سازشوں کہ وجہ سے مقبولیت اور جوش و جذبے کی نئی لہر پیدا ہوئی، ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی اجتماع، پی ٹی آئی پر عوامی اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہاک ہ تحریک انصاف قومی سطح پر ملک کی واحد گراس روٹ لیول کی جماعت ہے، پیسوں سے عوامی اجتماع نہیں بھرتے، جب قوم ملک کی تقدیر بدلنے کیلئے نکلتی ہے تو عوامی اجتماع امر بالمعروف جیسے ہوتے ہیں، آپ سب میں وہ چہرے نظر آرہے ہیں جنہوں نے پارٹی میں ورکر کے طور شمولیت اختیار کی، جب حکمرانوں کی نیت صاف ہو تو چاہے کتنی ہی بڑی اندرونی یا بیرونی سازش ہو، ناکام ہوتی ہے۔