تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد وزیر اعظم بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں، رہنماپی پی

222
تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد وزیر اعظم بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں، رہنماپی پی

اسلام آباد: پیپلزپارٹی کے رہنما ئوں نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد وزیر اعظم اور وزرا بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور گالیوں پر اترآئے ہیں، آپ اپوزیشن کو گالیاں دینے کی بجائے اپنے نمبرز کی طرف توجہ دیں، آپ کے اپنے اراکین آپ سے بیزار ہو چکے ہیں،

آپ کسی بھی رکن اسمبلی کو پارلیمنٹ آنے اور ووٹ کاسٹ کرنے سے نہیں روک سکتے، اپوزیشن نے وزیر اعظم کو گھر بھجوانے کا بندو بست کر دیا ہے، سپیکر ٹائیگر فورس کے رکن بن کر اس عہدے کی تذلیل کررہے ہیں، ہم عمران نیازی کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں،دھمکیاں دینے والے وزرا کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائیگی، حکومت خود آرٹیکل 6کا شکار ہونے جا رہی ہے،الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے

،حکومت کے اتحادی ان سے بیزار ہو چکے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اب تحریک انتشار بن چکی ہے، وزیر اعظم اور ان کے پیاروں کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے کیونکہ یہ باہر بھاگنے کے چکر میں ہیں،ان کی اگلی منزل اڈیالہ جیل ہوگی،

وزیر اعظم کو عوامی مارچ کے دوران مستعفی ہو جانا چاہیئے تھا۔ان خیالات کا اظہار شازیہ مری، فیصل کریم کنڈی اورندیم افضل چن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر انچارج سینٹرل سیکرٹریٹ سیدسبط الحیدر بخاری، میڈیا کوارڈینٹر نذیر ڈھوکی اور ملائکہ رضا بھی موجود تھیں۔

شازیہ مری نے کہا کہ اس وقت ملک کی جو سیاسی صورتحال ہے خاصی دلچسپ ہو گئی ہے،سیلیکٹڈ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے،تبدیلی سرکار کی نااہلی اور نالائقی نے عوام کو پریشان کر دیا ہے مہنگائی عروج پر ہے ،سلیکٹڈ وزیراعظم اور اسکے وزرا گالیوں اور دھمکیوں پر اتر آئے ہیں،

ہماری ایسی تربیت نہیں کہ ان کی طرح اخلاق سے گری ہوئی گفتگو کریں،حکومت گالیاں اور دھمکیاں دینے کی بجائے اپنے نمبرز پر فو کس کرے، کسی بھی ممبر کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا ،انہیں آئین اور قانون کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے،

وززیر خارجہ کہہ رہے ہیں کہ بلاول غیر آئینی کام کر رہے ہیں،پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور  آئین کے تحفظ کیلئے قربانیاں دی ہیں،انہوں نے جمہوریت کو مضبوط کیا،قوم آپ سے بیزار ہو چکی ہے،پاکستانی قوم اب آپکو اس کرسی پر نہیں دیکھنا چاہتی ،یہ اپنے نمبرز کی طرف توجہ دیں اور دھاندلی کرنے کے طریقوں پر کم کام کریں،

اپوزیشن نے  آپکو گھر بھجوانے کا بندو بست کر دیا ہے۔وزرا کی دھمکیوں اور خودکش حملوں کے بیانات کے حوالے سے ان کے خلاف ایف آئی آرز درج کروائینگے۔

شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اب تحریک انتشار بن چکی ہے،یہ ملک بائیس کروڑ عوام کا ہے کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے ،عمران خان اب ڈرامے بازیاں بند کریں، آپ ممبران اسمبلی کو بکاو کہہ رہے ہیں ،

ہر ممبر اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کریگااسپیکر اپنے بیانات کی وجہ سے پہلے ہی غیر متنازعہ ہو گئے ہیں، ہم عمران نیازی کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں،اراکین اسمبلی کو اسمبلی  آنے سے کوئی نہیں روک سکتا اگرحکومت نے ممبران کو ووٹ ڈالنے سے روکا تو یہ غیر قانونی کام ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ متحدہ اپوزیشن کی تحریک عوام کی طرف سے ہے،لوٹے وزیر کچھ بھی کریں عوام اعتبار نہیں کرے گی ،دس لاکھ لوگوں کو لانے کی بات کر رہے ہیں ہم اپ کے خلاف تھانہ میں قانونی کارروائی کریں گے، فارن فنڈنگ کیس میں بار بار اسٹے ارڈر لے رہے ہیں۔

شازیہ مری نے کہا کہ پانی سر سے گذر چکا ہے اور عوام کا اعتماد اس حکومت سے اٹھ چکا ہے،ہم نے جمہوری اور پارلیمانی طریقہ اختیار کیا ہے،سپیکر خود کنفیوڑن پھیلا رہے ہیں۔ حکومت خود ارٹیکل 6کا شکار ہونے جا رہی ہے،یہ اپنے اراکین کو ذلیل کر رہے ہیں،ہم نے ملک کو عمران خان سے نجات دلانے کا تہیہ کر رکھا ہے۔فواد چوہدری مادر اف لوٹاز ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے اج اپوزیشن جماعتوں کے رہنماوں کو عشائیہ دیا ہوا ہے جس میں تحریک عدم اعتماد سمیت تمام پہلووں پر بات کی جائے گی،اوورسیز کانفرنس پاکستانیوں کو اپنے جال مین پھنسانے کی حکومتی سازش ہے،

فارن فنڈنگ کیس میں عمران نے تلاشی دینی ہے ورنہ زبردستی تلاشی لی جائے گی، الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے،ہم نے کسی کو پیسے نہیں دیے، اتحادیوں سے رابطے میں ہیں،پی ٹی ائی پری پیڈ پارٹی ہے پتہ نہیں اس پارٹی کا اگے کیا ہو گا؟

پی ڈی ایم کی بنیاد اس ملک کے لوگوں کے ائینی، جمہوری، انسانی و دیگر حقوق کے لیے بنائی گئی، ان کے وزراء  کی تقاریر سے اندازہ ہے کہ عدم اعتماد بھرپور کامیاب ہو گا،شاہ محمود صاحب ہم نے کسی کو پیسوں کی افر نہیں کی،اپ اپنی ائیڈیالوجی بتائیں کہ اپ کس کے ساتھ ہیں؟

اپ نے کتنی جماعتیں بدلی،پی ٹی ائی کا بیلنس ختم ہو چکا ہے،ہم نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہیکہ بیرون ممالک کے تحائف کا بتائیں، وہ بتائیں کہ انہوں نے تحائف توشہ خانے میں جمع کروائے یا اسی ملک میں بیچ کر واپس ائیے۔انہوں نے کہا کہ چوتھی مرتبہ کابینہ کا اجلاس ملتوی ہوا،

وزرا میں اختلافات ہیں۔انہوں نے چیف جسٹس اف پاکستان سے اپیل کی کہ وزیر اعظم اور ان کے پیاروں کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے کیونکہ یہ باہر بھاگنے کے چکر میں ہیں،ان کی اگلی منزل اڈیالہ جیل ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو بتانا چاہتا ہوں ہر جماعت کا اپنا منشور ہے،اپوزیشن جماعتوں کا اس حکومت کے خلاف اکھٹے ہوئے، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہماری کارکردگی اپ نے دیکھی ،پارلیمنٹ کے اندر کی جمہویت جلد کامیاب ہوگی، ہم نے کسی کو پیسوں کی افر نہیں کی ،شاہ محمود قریشی اپنے منشور کی بات کریں، شاہ محمود قریشی کا منشور اور سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ عمران خان نے کیا اپنے بچوں کو اردو سیکھائی؟ اسپیکر ٹائیگر فورس کا ممبر بنا ہوا ہے اسپیکر نے اپنے عہدے اور کرسی کی توہین کی۔ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد میں ایک ارب روپے کا گھپلا ہوا ہے۔

پی ٹی ائی ایم این اے کی اینکر پرسن سے زیادتی کی مذمت کرتے ہیں،اب موسم تبدیل ہونیولا ہے۔حکومت کے اتحادیوں کیساتھ معاملات فائنل ہوئے تو مشترکہ پریس کرینگے،اتحاددیوں کو حکومت کی سمجھ ا گئی ہے ،پی ٹی ائی کے اراکین اسمبلی خود اپنی پارٹی سے بیزار ہو چکے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چیئر مین سینٹ کے مستقبل کا فیصلہ متحدہ اپوزیشن کریگی۔وزیر اعظم کو عوامی مارچ کے دوران مستعفی ہوجانا چاہیئے تھا۔

ندیم افضل چن نے کہا کہ کابینہ کے اندر اختلافات ہیں،ملک پہلے ہی بہت سارے مسائل میں گھرا ہوا ہییہ گالیاں اور دھمکیاں نہ دیں، تھوڑا ٹمپریچر کم کریں،جس دن پٹواریوں کے بغیر جلسہ ہو گا پھر دیکھیں گے۔