سوشل میڈیا کی عدالتی فیصلوں پر تنقید غیر پیشہ ورانہ اور غیر آئینی بھی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال

256

اسلام آباد:نامزد چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کے لوگ عدالتی فیصلوں پر تنقید کی بجائے ججز کو بدنام کر نا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ غیر پیشہ ورانہ اور غیر مہذب ہی نہیں بلکہ غیر آئینی بھی ہے اس سے قبل کہ ہم اس بارے ایکشن لیں بار ایسو سی ایشن ہماری مدد کرے، عدلیہ کو اپنا اختیار اور ذمہ داریوں کو آئین وقانون کے مطابق جوش کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ان کے اعزاز میں منعقدہ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نامزد چیف جسٹس عمر عطابندیال نے معاشی وسماجی مسائل اور آبادی میں بے ہنگم اضافے کے معاملات پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنے پر زور دیا اور کہا کہ تنازعات کی فوری حل کے لیے سپریم کورٹ کے براہ راست دائرہ اختیار کو بھی استعمال کیا جائے گا۔

انھوں نے عدالت میں زیر سماعت مقدمات جلدنمٹانے کے لیے تجویذ دی کہ وکلا مقدمات کے التوا کی حوصلہ شکنی کریں اور مقدمات میںتحریری معروضات اور جامع بیان جمع کیا کریں جبکہ سائلین کو ریلف دینے کے لیے عدالتوں کا پرفارمنس آڈٹ کرانے کی بھی تجویز دی۔

انھوں نے میڈیا خصوصی طور پر سوشل میڈیا پر ججوں کو بدنام کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ غیر مہذب اور غیر پیشہ ورانہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری رائے میںاختلافات ہمارے عدالتی تصورات کی بدولت ہوتے ہیں، یہ تنوع ہماری سوچ اور ادراک میں اضافے کا سبب بنتی ہے اور سوچ میں اس تنوع کی وجہ سے پچھلے روز کا اقلیتی موقف آنے والے کل کا اکثریتی مو قف بن جاتا ہے۔

نامز دچیف جسٹس نے کہا ہم حیران ہیں کہ کچھ مبصرین جو کہ میڈیا میں اہم پیشہ سر انجام دیتے ہیں خاص طور پر سوشل میڈیا کے لوگ جو کہ فیصلوں پر تنقید کی بجائے ججز کو بدنام کر نا شروع کر دیتے ہیں،یہ رویہ غیر پیشہ ورانہ اور غیر مہذب ہی نہیں بلکہ غیر آئینی بھی ہے،مہربانی کر کے سمجھ لیں کہ اس با رے کچھ کرنا ہوگا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہااس سے قبل کہ ہم اس با رے ایکشن لیں ہم بار ایسو سی ایشن کو کہیں گے کہ وہ ہماری مدد کر یں۔انھوں نے کررٹائر ہونے والے چیف جسٹس کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ جب جسٹس گلزار احمد چیف جسٹس پاکستان بنے تو اس وقت سپریم کورٹ کو دو چیلنجز کا سامنا تھا جس میں پہلا چیلج تو کرونا وبا تھا جس کا سامنا پاکستان سمیت پوری دنیا کو تھا۔

انھوں نے کہا وفا قی ھکومت کی جانب سے دفا تر بند کر نے کی سفارشات سامنے آئی اس وقت عدالت کو مشکل صورتحال کا سامنا تھا کہ یا تو حکومت کی سفارشات پر عمل کر تے ہوئے سائلین پر عدالت کے دروازے بند کر دئے جاتے اور اس میں عدالتو ں پر مقدمات کے بو جھ میں اضافہ ہو جاتا اور نظام انصاف میں تا خیر ہو تی ،یا پھر لوگوں کے لیے ہم اپنی آئینی ذمہ داریو ں کو سر انجام دیتے رہتے۔ چیف جسٹس پاکستان کے مصمم ارادے کے تحت عدالتوں نے پوری کورونا وبا کے دوران اپنے دروازے کھلے رکھے، اس دوران چیف جسٹس سمیت آٹھ ججز کو اس وبا کا سامنا کر پڑا لیکن عدالتو ں نے اپنے دروازے کھلے رکھے۔

چیف جسٹس کے دور میں 4143کیسز کو ویڈیو لنک پر سنا گیا ،ٹیکنالو جی کے ا ستعمال نے کورٹ روم میں وبا کی شدت کو دبا دیا اور سائلین اور وکلا کے ٹائم اور رقم کو بھی بچا یا۔ چیف جسٹس کے تصور اور کو ششوں کی بدو لت جلد اور تیز ترین انصاف کے حصول کے لیے مختلف ذرائع کو فرو غ دیا گیا جو کہ عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

نامزد چیف جسٹس نے کہا کہ جب جسٹس گلزار احمد نے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالاتو ان کو اس وقت دوسرا چیلنج ہمارے ہی ایک ساتھی جج کی جانب سے صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر کر دہ آئینی درخواست تھی ،سپریم کورٹ کے دس ججو ں نے سترہ ماہ تک اس کیس کی سماعت کی اور 26 اپریل2021کو یہ کیس ختم ہوا،اس کیس میں ساٹھ سماعتیں ہوئیں ،اس دوران سپریم کورٹ کے ریگولر بینچز کی کاز لسٹ کو کم کر نا پڑا،دسمبر 2019میں بیالیس ہزار کیسز زیر التوا تھے جبکہ اپریل2021میں زیر التوا کیسز کی تعداد بڑھ کر پچا س ہزار تک جا پہنچی،اس دوران با قی جو چھ سات ججز بچ گئے ان کو جان جھو کھو ں میں ڈالنا پڑی۔

انہوں نے کہا کہ چھٹیو ں کے دوران بھی ہر جج نے کام کیا ،سردی ہو یا گرمیو ں کی چھٹیوں میں ہر جج نے آئین اور قانون کے مطابق کیسز کو نمٹایا اور انشا اللہ ہم زیر التوا کیسز کو نمٹانے کے لیے اپنی محنت جا ری رکھیں گے۔نامزد چیف جسٹس نے کہا کہ چیف جسٹس گلزار احمد نے آزادمنش ججو ں کی نا مزدگی میں اپنا اہم کردار ادا کیا ،گزشتہ ہفتے انہو ں نے سپریم کورٹ میں پہلی خاتو ن جج جسٹس عائشہ اے ملک سے ان کے عہدے کا حلف لیا ،یقینا اس سنگ میل کا کریڈٹ جو دیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کو جاتا ہے لیکن جسٹس گلزار احمد کا اس با رے کردار قابل تحسین ہے۔

انہو ں نے کہا کہ چیف جسٹس نے اپنے مدت ملا زمت کے دوران اہم ترین کیسز کی سماعت کی اور ان کے فیصلے سنائے جس میں سیکرٹ بیلٹ کے حوالے سے سینیٹ الیکشن کے با رے میں صدارتی ریفرنس بھی شا مل تھاجس میں جسٹس گلزار احمد نے قرار دیا کہ سینیٹ الیکشن آئین کے تحت الیکشن ہیں اور جس کو آرٹیکل226کے ذریعے خفیہ ووٹ کے ذریعے ہونا چاہیے جبکہ ا لیکشن کمیشن کو اختیار ہے کہ وہ دھاندلی کو روکنے کے لیے تمام تر ذرائع کو استعمال کر ے۔اس فیصلے نے سینیٹ الیکشن کی رازداری کو قائم رکھا،اس کے علا وہ جسٹس گلزار احمد نے لوکل گورنمٹ کیس کو سناانہو ں نے مذہبی اقلیتوں کے کیسز کو سنا اور کرک مندر سمیت دیگر فیصلے سنائے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتو ں کو آئین اور قانون کے مطابق مکمل جوش وجزبے کے تحت اپنے دا ئرہ اختیار کے استعمال کو جاری رکھنا چا ہیے،بھاری زیر التوا کیسز کو نمٹانے کے لیے عدالتوں کو سخت محنت کر نا ہو گی،سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتوں کا پرفارمنس آڈٹ ہو نا چا ہیے تا کہ نشاندہی ہو سکے اورکمزور طبقے کو ریلیف فراہم کر سکیں، ہمارامسئلہ یہ ہے جس کی آسانی سے نشا ندہی کی جا سکتی ہے کہ بڑی تعداد میں جعلی نتازعات ہیں جس نے عدالتی نظام کو بے ترتیب کر کے رکھ دیا ہے۔

جب ان کیسزکو داخل کرایا جائے تو ان کو چیک کیا جانا چاہیے اور ان کو انصاف کے متبادل حل (اے ڈی آر) کے تحت حل کیا جانا چاہیے،یہ طریقہ کار انشاللہ اہم امید دلائیں گے اور کیسز کو نمٹایا جائیگا۔فوجداری مقدمات میں ناکام استغاثہ ناکام انوسٹی گیشن کا نتیجہ ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اور اس میں آبادی کا تنا سب بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے معاشی اور معا شرتی دباو کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔