مغرب خوف و ہراس نہ پھیلائے، یوکرائنی صدر

296

کیف: یوکرائنی صدر نے کہا کہ مغرب اور میڈیا میں روس کے ساتھ تنازعہ کو جس طرح اچھالا جا رہا ہے، اس کی یوکرائن کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ صدر بائیڈن سخت بیان بازی کر کے “غلطی ” کر رہے ہیں۔یوکرائن کے صدر وولودیمیر زیلنیسکی نے بین الاقوامی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مغرب سے اپیل کی کہ وہ روس کے ساتھ کشیدگی کے معاملے پر “خوف و ہراس” پیدا نہ کریں کیونکہ اس نے یوکرائن کی پہلے سے ہی کمزور معیشت میں سرمایہ کاری کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ زیلنیسکی کا کہنا تھا، “ہمیں اس خوف و ہراس کی ضرورت نہیں ہے۔ یوکرائن کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

“صدر زیلنیسکی نے کہا کہ مغرب اور میڈیا جس طرح روس کے ساتھ ہماری کشیدگی کو اچھال رہے ہیں اس کی یوکرائن کے عوام کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر جو بائیڈن اپنی سخت بیان باری سے “غلطی”کررہے ہیں۔امریکی صدر بائیڈن نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ روس اگلے ماہ اپنے پڑوسی پر حملہ کرسکتا ہے۔ روس کے وزیر خارجہ نے جمعے کو تاہم اس طرح کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو کوئی جنگ نہیں چاہتا۔اس وقت یوکرائن کی سرحد پر تقریبا ایک لاکھ افواج تعینات ہیں لیکن زیلنیسکی کا کہنا تھا کہ انہیں کوئی بڑا خطرہ نظر نہیں آیا کیونکہ گزشتہ موسم بہارمیں بھی روسی فوج اسی طرح موجود تھے۔یوکرائنی صدر نے کیف میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ” بعض انتہائی قابل احترام سربراہان مملکت بھی ایسے اشارے دے رہیں گویا کل ہی جنگ شروع ہو جائے گی۔ اس طرح کے خوف و ہراس سے ہمارے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے اندر عدم استحکام یوکرائن کے لیے کہیں زیادہ بڑا خطرہ ہے۔انہوں نے گو کہ روس کے ساتھ فوجی تصادم کو یکسر مسترد نہیں کیا تاہم کہا کہ وائٹ ہاوس بڑے پیمانے پر جنگ کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرکے “غلطی” کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ بات صدر بائیڈن کو گزشہ شام فون پر بات چیت کے دوران بتا چکے ہیں۔صدر زیلنیسکی نے کہا، “سڑکوں پر کوئی ٹینک نہیں ہیں، لیکن میڈیا یہ تاثر دے رہا ہے کہ ٹینک موجود ہیں، ہم جنگ میں ہیں، ہماری فوج سڑکوں پر اتر آئی ہے… ایسی کوئی بات نہیں ہے، ہمیں اس طرح کے خوف و ہراس کی ضرورت نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “میں نہیں سمجھتا کہ پہلے اس سے زیادہ کشیدہ حالات نہیں رہے ہیں حالانکہ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ کشیدگی میں اضافہ ممکن نہیں ہے۔” ماسکو نے امریکا کی طرف سے موصول ہونے والی بعض تحریری تجاویز کو کسی حد تک منظور کرنے کا اشارہ دیا۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا امریکا کی جانب سے بھیجی گئی جوابی تجاویز نیٹو کی طرف سے بھیجی جانے والی تجاویز سے زیادہ بہتر ہیں۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ امریکا نے کیا کہا ہے یا ایسی کیا پیش کش کی ہے جو نیٹو نے نہیں کی، لیکن امریکا کا کہنا ہے کہ نیٹو کے اتحادیوں کے تئیں اس کی ذمہ داری ہے اور نیٹو کی توسیع کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی جائے گی۔روس میں امریکی سفیر جون سولیوان نے بتایا کہ واشنگٹن کی تجاویز میں فوجی مشقوں اور یورپ میں میزائلوں کے نصب کرنے پر روک شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اب ماسکو کی طرف سے تحریری جواب کا منتظر ہے۔سولیوان نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یوکرائن کی سرحدوں پر فوج کی تعیناتی بات چیت کے لائحہ عمل کا ایک ناقابل قبول حصہ ہوگا۔ انہوں نے کہا، “اگر میں مذاکرات کی میز پر بندوق رکھ دوں اور کہوں کہ میں امن کے لیے آیا ہوں تو یہ دھمکانے والی بات ہوگی۔”روسی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ان کے بقول امریکی تجویز میں “ثانوی امور”پر ” معقولیت پسندی” ہے۔

انہوں نے امریکی تجویز کو “سفارتی معقولیت کی ایک مثال”قرار دیا جبکہ نیٹو کے جواب کو “مثالی ” بتایا۔ لاوروف نے نیٹو کے جواب کے حوالے سے کہا،”انہیں ان لوگوں پر قدرے افسوس ہے جنہوں نے اس کا متن لکھا۔”یوکرائن کی سرحد پر روسی فوج کے بڑھتے ہوئے دبا کے درمیان امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی مشرقی یورپ میں نیٹو فورس کی قوت میں اضافے کے لیے امریکی فوجیوں کا ایک چھوٹا دستہ روانہ کریں گے۔صدر بائیڈن نے جمعے کو صحافیوں کو بتایا، “میں جلد ہی مشرقی یورپ اور نیٹو ممالک میں اپنے فوجیوں کو منتقل کروں گا۔ لیکن یہ بہت زیادہ تعداد میں نہیں ہوں گے۔”مغربی یورپ میں پہلے ہی امریکا کے دسیوں ہزار فوجی تعینات ہیں تاہم پینٹاگون کشیدگی کے شکار مشرقی حصے میں کمک بھیجنے کی بات کر رہا ہے۔

رواں ہفتے محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ نیٹو کی مدد کے لیے ساڑھے آٹھ ہزار امریکی فوجی (مشرقی یورپ) میں ممکنہ تعیناتی کے لیے بالکل تیار ہیں۔امریکی فوج کی یہ تعیناتی سیاسی طور پر بھی اتنی ہی اہم ہوگی جتنی عسکری طور پر کیوں کہ اس سے یوکرائن کے تنازعہ میں امریکی شمولیت کو تقویت ملے گی