حافظ نعیم الرحمٰن ،قائدین کارکنان کو مبارکباد ،جدوجہد کو سلام پیش کرتا ہوں،سراج الحق

310

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاہے کہ جماعت اسلامی کراچی نے تاریخی جدوجہد کے ذریعے شہر کو اس کا حق دلایا ہے۔ 28 روزہ دھرنے میں جماعت کے کارکنان نے جس استقامت کا ثبوت دیا، وہ سیاسی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن، پوری قیادت اور کارکنان کو مبارکباد، جدوجہد کو سلام پیش کرتا ہوں۔لوکل گورنمنٹ پر جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے درمیان معاہدہ ایک اچھی پیش رفت ہے۔ کراچی کو مکمل حقوق کی فراہمی تک جدوجہد جاری رہے گی۔ کراچی کو ایک دفعہ پھر نعمت اللہ خان جیسے میئر کی ضرورت ہے، جو ان شاء اللہ جماعت اسلامی فراہم کرے گی اور کراچی کو دوبارہ روشنیوں کا شہر بنائے گی۔کراچی میں یوم عزم و یوم تشکر کے موقع پر ورکرز کنونشن سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ کراچی کے عوام نے جماعت اسلامی کی قیادت میں جس جدوجہد کا آغاز کیاتھا اس میں کسی حد تک کامیابی اور پیش رفت ہوئی ہے ،امید ہے سندھ حکومت اپنے معاہدے کی پاسداری کرے گی ،سندھ حکومت اورپیپلز پارٹی نے جو معاہدہ کیا ہے وہ اس کو نبھائیں یہ معاہدہ کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ عوام کے ساتھ ہے ،کراچی کے شہریوں کے تاریخی اوربے مثال 29دن طویل ترین دھرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں،کراچی کے عوام سمجھ گئے ہیں جماعت اسلامی ان کی حقیقی محسن ہے،کراچی کی موجودہ صورتحال قابل رحم ہے،افسوس ہے کہ ماضی میں اور موجودہ دور حکومت میں بھی کراچی کو تباہ و برباد کیاگیا ،کراچی کے تعلیمی ادارے، کارخانے اور فیکٹریوں تباہ کردی گئیں، کراچی ترقی کرے گا تو پاکستان بھی ترقی کرے گا،انہوں نے مزیدکہاکہ بلدیاتی الیکشن میں عوام جماعت اسلامی پر اعتماد کریں،جماعت اسلامی کو موقع ملا تو وہ کراچی کے عوام کے مسائل حل کرے گی ،جماعت اسلامی کی قیادت کراچی کو پھر سے روشنیوں کا شہر بنائے گی،جماعت اسلامی کا ایجنڈا2نکاتی ہے ایک اسلام اور دوسرا پاکستان،حکمران جماعتوں نے کرپشن اور جہالت میں اضافہ کیا۔

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ سینیٹ میں حکومت اور اپوزیشن نے فرینڈلی میچ کھیل کر ملک کو آئی ایم ایف کی مکمل غلامی میں دھکیل دیا۔ اسٹیٹ بینک بیچنے اور منی بجٹ پاس کرانے پر دونوں اطراف کو برابر کا شریک سمجھتا ہوں۔ قوم دیکھ رہی ہے، حکمران اشرافیہ کن کن طریقوں سے ملکی خودمختاری کا سودا کررہی ہے۔ ملکی تاریخ کی اہم قانون سازی کے موقع پر ایوان بالا میں اپوزیشن ارکان کی غیرحاضری بعید از قیاس نہ تھی۔ جماعت اسلامی شروع دن سے کہہ رہی ہے کہ پی ٹی آئی، ن لیگ اور پی پی میں لڑائی ظاہری اور قوم کو بے وقوف بنانے کے لیے ہے۔ حکمران اشرافیہ استعمار کی غلامی میں ایک ہے۔ امریکا اور عالمی اداروں کی چوکھٹ پر سب سجدہ ریز ہیں۔ ساڑھے 3 برس میں ہر اہم موقع پر بڑی اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو سپورٹ کیا۔ آئی ایم ایف یا ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر سر تسلیم خم کرنا ہو یا آرمی چیف کی ایکسٹینشن کا معاملہ ہو صرف جماعت اسلامی ہی میدان میں ڈٹی رہی۔ تینوں بڑی جماعتیں ملکی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد چاہتی ہیں۔ عوام بے یارومددگار، مہنگائی اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ معیشت کی زبوں حالی، 50 ہزار ارب ملکی قرضے، اربوں ڈالر کا تجارتی خسارہ، مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان، اربوں کے گردشی قرضے، حکومت کی تباہ کن پالیسیوں کی وجہ سے نسلیں غلام بن گئیں۔ جماعت اسلامی 6 فروری سے ملک بھر میں 100دھرنے دے گی۔ ظالم اشرافیہ اور فرسودہ نظام کے خلاف فیصلہ کن 101 واں دھرنا مارچ میں ہوگا۔ ان شاء اللہ عوام کی طاقت سے جاگیرداروں اور کرپٹ سرمایہ داروں سے نجات حاصل کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سراج الحق نے بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور سیکورٹی اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کیچ میں10 فوجی جوانوں کی شہادت پر ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے تدارک کے لیے پاک آرمی کی کاوشوں کے ساتھ ہیں۔ قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک دفعہ پھر پاکستان میں خونریزی کا بازار گرم کرنا چاہ رہا ہے۔ نئی دہلی واشنگٹن کے ساتھ افغانستان میں شکست پر اپنے زخم چاٹ رہا ہے اور مودی حکومت افغانستان میں شکست کا بدلہ پاکستان سے لینا چاہتی ہے۔ ہمارے حکمرانوں اور سیکورٹی اداروں کو بھارتی سازشوں کے جواب کے لیے جامع حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔ بدقسمتی سے حکمرانوں نے کشمیر کے مسئلہ پر مودی حکومت کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اسے شہ دی ہے کہ پاکستان کمزور ملک ہے۔ حکمرانوں نے بزدلی کا ثبوت دیا جس پر قوم انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران بلوچستان کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کریں، بلوچستان کے عوام بھیک نہیں اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی اور سابق حکومتوں نے بلوچ عوام کو دھوکا دیا۔ قبل ازیں جامع مسجد منصورہ میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سودی معیشت سے جان چھڑا کر اور اسلامی معیشت کا ماڈل اپنا کر ہی ملکی اکانومی بہتر ہوسکتی ہے۔ اسلامیان پاکستان ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ استعماری طاقتوں کے ایجنٹوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ غیور پاکستانی قوم کی تقدیر کا فیصلہ کریں۔ قوم ظالموں کا ساتھ نہ دے اور ان لوگوں کو اچھی طرح پہچان لے جنہوں نے ملک کا سودا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کو اسلامی فلاحی پاکستان بنائے گی۔